جنوری 16, 2021

ایوانِ صدر کی جنگ طلب پالیسی

ایوانِ صدر کی جنگ طلب پالیسی

تحریر : ہارون بلخی

امریکا نے مغربی ممالک کے تعاون سے افغانستان پر حملہ کیا۔ افغان عوام نے طالبان کی قیادت میں جہاد کا آغاز کیا ۔ افغان قوم نے تقریبا  ۱۸ سال تک  مغربی دشمن سے پنجہ آزمائی کی ۔  اسلامی نظام کے نفاذ اور ملک کی آزادی تک جنگ سے تھک جانے یا کسی قسم کی کمزوری اور کوتاہی کا اظہار تک نہیں کیا۔اٹھارہ سال بعد امریکا نے افغان تنازعہ کو جنگ کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔طالبان مان گئے۔قطری دارالحکومت دوحہ میں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کا افتتاح کیا گیا۔اس وقت کابل انتظامیہ کے سربراہ حامد کرزئی نے مخالفت کی۔ مذاکرات کا عمل موقوف ہوا۔اوباما کی حکومت ختم  ہوئی اور ڈونلڈ ٹرمپ برسراقتدار آئے، انہوں نے ابتداء میں جذبات سے کام لیا،لیکن بعد میں جوش کو ہوش سے بدل دیااور زلمے خلیل زاد کو امارت اسلامیہ سے مذاکرات کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا۔ مذاکرات شروع ہوئے اور آخرکارامارت اسلامیہ  اور امریکا کے درمیان طویل مدت کے بعد   دوحہ معاہدہ طے پایا،جس کی رو سے امریکا مئی ۲۰۲۱ء تک افغانستان  سے تمام افواج کے انخلا کو  یقینی بنائے گا اور طالبان کسی کو  افغان سرزمین امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسی طرح مذاکرات میں اس پر فیصلہ کیا گیا کہ کابل انتظامیہ کی زیرنگرانی امریکی جیلوں میں بند پانچ ہزار طالبان قیدی اور طالبان کے حراستی مراکز میں موجودہ ایک ہزار کابل انتظامیہ کی سیکورٹی اہلکاروں کو  رہا کیا جائے گا، یہ عمل بھی مکمل ہوا۔اب افغانوں کے باہمی مذاکرات (بین الافغان مذاکرات) کا مسئلہ رہا۔اس سلسلے میں طالبان نے دوٹوک الفاظ میں کابل انتظامیہ  کے عہدیداروں سے حکومتی وفد کے طور پر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا، کیوں کہ طالبان کے ہاں افغان حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،اس لیے امارت اسلامیہ نے امریکہ سے بات چیت کرنے کو ترجیح دی۔کابل سے آنے والے وفد کی قیادت معصوم ستانکزئی اور طالبان مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیخ الحدیث مولوی عبدالحکیم حقانی ہیں۔

قطرکی  دارالحکومت دوحہ میں ۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء کو طالبان اور کابل سے آنے والے وفد کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ  شروع ہوا۔ قطر میں باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل سے آنے والے وفد کے اراکین آپس میں یک زبان اور متحد نہیں ہیں، مختلف قسم کے بہانے کرتے رہتے ہیں، بیرونی  ممالک کے نمائندوں سے براہ راست مشورے لیتے ہیں،ان کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ کبھی جنگ بندی، کبھی حقوق نسواں، کبھی  ۱۸ سالہ مغربی جمہوریت کادفاع، نیز خوئے بد را بہانہ بسیار کے مصداق، مختلف طریقوں سے اصولوں کی باربار خلاف ورزیاں کررہے ہیں۔

دوسری جانب کابل انتظامیہ  کے ادارے قومی سلامتی کونسل کےمشیر حمداللہ محب نے بی بی سی انگریزی سروس سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ امن عمل کیساتھ جنگ بھی جاری رہیگی۔ ان کے مطابق  طالبان کی  شدید سرکوبی لازمی ہے اس کے بغیر مذاکرات کی میز پر نہیں آتے۔طالبان کو ہمارے فوجیوں کی جنگی مہارتواں پر یقین نہیں ہے اور ان کا خیال ہے کہ ہماری فوج بیرونی ممالک کی فضائیہ کے بل بوتے پر حملے کررہے ہیں۔انہوں نے جنگ کے دوام پر اصرار کیا۔اس حال میں کہ طالبان اور کابل سے آنے والے مذاکراتی ٹیموں کے درمیان قطر میں نشستیں ہورہی ہیں اور کابل انتطامیہ بار بار طالبان پر الزام لگا رہی ہے کہ طالبان جنگ بندی نہیں چاہتے ۔انہوں نے مزید کہا کہ امن کی کوششیں اور لڑائی ساتھ ساتھ جاری رہیگی، کیوں کہ جب تک طالبان میدان جنگ میں شکست سے دوچارنہ ہوجائیں، اس وقت تک امن عمل کا مرحلہ مکمل نہیں ہوسکتا ۔

کابل انتظامیہ کے کرائے کے قاتلوں اور نیویارک و واشنگٹن کے محافظوں (سپیشل فورس، کمانڈو، ضربتی، صفریک، صفر دو، صفر سہ وغیرہ) نے حال ہی میں ملک کے طول و عرض میں وحشت ناک کارروائیوں اور چھاپوں میں تیزی لائی ہے۔ ان افراد کے گھروں پر رات کے وقت چھاپے مار رہے ہیں، جو ابھی ابھی بگرام، پل چرخی اور ملک کے دیگر جیلوں سے رہا ہوچکے ہیں۔اسی سلسلے میں پروان، فراہ، خوست، کابل، بلخ وغیرہ صوبوں میں متعدد رہائی پانے والے قیدیوں کو مہمانوں اور اہل خانہ کے ہمراہ شہید کیا جاچکا ہے۔ اس پر اکتفا نہیں کرتے ہیں، بلکہ دینی مراکز، مدارس، مساجد اور اسکولوں کو بھی کٹھ پتلی فضائیہ مسلسل طور پر نشانہ بنارہے ہیں۔ چند روز قبل صوبہ تخار کے صدر مقام طالقان شہر کے قرلوق کے علاقے میں مسجد پر وحشی انتظامیہ نے اس حال میں شدید بمباری کی، جب بچے وہاں قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔جس میں ۱۲ بچے شہید اور مسجدکےامام سمیت ۱۸ زخمی ہوئے۔ اس المیہ کی عالمی اور ملکی میڈیا نے کوریج کی اور اسے مسجدپر حملہ قرار دیا، بچوں کی شہادت اور زخمیوں کی اطلاع دی، لیکن کابل انتظامیہ کے نائب سربراہ امراللہ صالح نے نہایت بےشرمی اور سفاکیت سے بچوں کو طالبان لیزرگن یونٹ قرار دیا ۔ میڈیا کی بار بار رپورٹنگ، عینی شاہدین، شہداء اور زخمیوں کے لواحقین  کی گفتگو پر مبنی رپورٹیں شائع ہوئیں، مگر امراللہ صالح اپنی بات پر ڈٹے رہے اور ان صحافیوں کی گرفتاری کا حکم جاری کیا،جنہوں نے ان کی جھوٹ کا پردہ چاک کیا۔ اور انہیں ایک جھوٹے سربراہ کے طور پر متعارف کروایا۔

کابل انتظامیہ کے عہدیدار اپنی حکومت بچانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ملک میں اقلیتوں کے مذہبی اور تعلیمی مراکز کو نشانہ بنارہے ہیں، جس کے بعد خارجی گروہ داعش  اس کی ذمہ داری لیتی ہے۔ طالبان نے ملک بھر میں داعش کا صفایا کردیا۔ کچھ فراری شریر عناصر نے کابل انتطامیہ کی گود میں پناہ لے رکھی ہے،جنہیں وقتافوقتا آلہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔حال ہی میں کابل میں کوثر نامی تعلیمی مرکز  پر حملہ کیاگیا،جس میں ہزارہ کمیونٹی کےدرجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔اس حملے کی ذمہ داری داعش نےقبول کر لی۔کابل انتظامیہ کےسربراہ اشرف غنی، امراللہ صالح، سرور دانش وغیرہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے لیے  ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ حال ہی میں قطر ی دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور کابل سے جانے والے وفد کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ فریقین بحث و مباحثے میں مصروف ہیں۔ لیکن کابل وفد کے 4 ارکان دوحہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔امید ہے کہ کابل انتظامیہ کے شریر حکام جنگ طلب پالیسی کو ترک کریں۔ اپنی قوم اور ملک کے تحفظ کی خاطر صدق دل سے مذاکرات کے دور کو آگے بڑھانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ اس وقت افغانوں کو آرام و سکون کی زندگی کی ضرورت ہے۔ چالیس سال قوم و ملک جنگ کی خوفناک حالت میں رہے۔کسی کی جان و مال محفوظ نہ تھی۔بیرونی غاصب ملک بھر میں پھیلے  ہوئے تھے۔ اللہ تعالی کی نصرت اور افغان قوم کی جہاد کی برکت سے بیرونی حملہ آور ملک چھوڑنے کی حالت میں ہیں اور ان کا انخلا جاری ہے، لیکن اقتدار کے لالچی افغانوں کے خون بہانے پر ڈٹے ہوئے۔ان لالچی لوگوں کو  ملک و قوم ، دین و مذہب وغیرہ سے زیادہ اپنا اقتدار اور ذاتی مفادات عزیز ہیں۔

طالبان ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہےہیں۔ چند روز قبل مذاکرتی ٹیم کے رکن  سہیل شاہین نے جنگ بندی کے حوالے سے کہا کہ جنگ بندی سے پہلے وہ عوامل ختم کرنے ہوں گے،جس کی وجہ سے یہ جنگ جاری ہے۔ان کے مطابق ہم جنگ بندی چاہتے ہیں، مگر جنگ بندی کا اپنا مقام ہے، یہاں افغانستان کے نظام کے حوالے سے بہت سے مسائل ہیں،جن پر بحث ہوگی۔جب ایسا نظام قائم ہوگا، جو سبھی کے لیے قابل قبول ہوگا، تب ہی جنگ ختم ہوگی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بات چیت کے ذریعے ہی یہی مسائل حل ہونگے۔

بشکریہ ماہنامہ شریعت

Related posts