جنوری 16, 2021

پابندیاں کس پہ لگانی چاہیے؟

پابندیاں کس پہ لگانی چاہیے؟

تحریر:سیدعبدالرزاق

۲۰ نومبر کو کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے اقوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کو اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام ،سیزفائر اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے طالبان پر دباو ڈالی جائے اور دباو کے لیے اقوامِ متحدہ کی طالبان پر پابندیوں کو آلہ بنادیا جائے اور اس طرح سے طالبان کو صحیح سمت میں لانے کے لیے کوشش کی جائے-
اشرف غنی اور اس کی کابینہ جس طرح میڈیا پر دکھتے ہیں اور جو دکھاتے ہیں اصل صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے-کچھ الفاظ انہوں نے مختلف لبادوں میں اوڑھ کر ان کاسہارا لے رہے ہیں-کبھی کہتے ہیں کہ طالبان تشدد میں اضافہ کررہے ہیں-بڑے بڑے شہروں میں حملے کررہے ہیں-بے گناہ افراد کو مارتے ہیں-عوامی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں-کبھی کہتے ہیں کہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہیں-بے جا قیودات اور شرائط سے مذاکرات کو مزید پر پیچ بنارہے ہیں-کبھی کہتے ہیں کہ طالبان زورآزمائی اور قوت کے ذریعہ عوامی مینڈیٹ کے بغیر قوم پر مسلط ہونے کی کوشش کررہے ہیں-کبھی یہ کہتے ہیں کہ طالبان اگر برسرِ اقتدار آگئے تو عورتوں کو اپنے حقوق سے محروم کردیں گے-کبھی یہ کہتے ہیں کہ طالبان عصری علوم کی مخالفت کرتے ہیں جن سے قوم کو کوئی چارہ نہیں ہے-
یہ الفاظ اور کلمات بظاہر بڑے خوبصورت اور دیکھنے میں بڑے دلفریب ہوتے ہیں مگر ان کے پیچھے جو مقاصد ہیں وہ افغانستان کی بحیثیت مملکت اور افغانی قوم کی ثقافت اور دین وملت کے منافی ہیں-ان میں جہاں افغانستان کی شناخت کو چھپایا جاتا ہے وہیں مشرقی روایات کو بھی پامال کیا جاتا ہیں -تو وہیں اسلامی احکام کو یرغمال بنایا جاتا ہیں-مثال کے طور پر عورتوں کے حقوق کو ہی لیجیے! طالبان کا اس بارے میں موقف یہ ہے کہ اسلام نے انہیں جتنے حقوق دئیے ہیں ان سب کے نہ ہم صرف قائل ہیں بلکہ ہم نے اپنے دورِ حکومت میں اور اس وقت اپنے مقبوضہ علاقوں میں عملا عملی شکل بھی دے رکھی ہیں-اور یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ دینِ اسلام میں خواتین کے لیے جو حقوق ہیں وہ پوری دنیا میں کسی بھی آسمانی یا غیر سماوی دین میں نہیں ہیں-یہ بات صرف دعوی ہی نہیں اغیار کے ہاں بھی تسلیم شدہ ہیں-لیکن انتظامیہ جو عورتوں کے حقوق کا دعوی کرتی ہے باوجود اس کے کہ اسے اسلام کے دئیے گئے حقوق کا بھی پتہ ہے اور طالبان کا اس کے لیے قائل ہونے کو بھی اچھی طرح سمجھتی ہے دراصل وہ یہاں مغربی اور یورپی کلچر متعارف کرانا چاہتی ہے-جو بے حیائی اور بے عفتی وہاں رائج ہے اس کو یہاں ترویج دینا چاہتی ہے-جس طرح وہاں عورت درندگی اور جنسی ہوس کی شکار ہے اور عورت کو حیوانیت کے درجہ سے بھی گھٹیا سمجھا گیا ہے انتظامیہ کی کوشش یہ ہے کہ بہر حال یہاں بھی عورت اس درجہ کی گھٹیاپن تک پہنچا کے رہے –
اسی طرح کابل انتظامیہ کے ارکان اور سربراہان ایک اور ڈھنڈورا بڑے زور سے پیٹتے ہیں کہ آزادی رای کااظہار طالبان کے آنے سے متاثر ہوگا-جبکہ یہاں بھی صورتحال یہ ہے کہ طالبان آزادی رای کے اظہار کو اسلامی حدود کے اندر بھرپور جواز دینے کے قائل ہیں-اب یہ کہ اسلامی حدود میں کتنی آزادی ہے؟ تو اس کااندازہ اس ایک مثال سے لگالیجیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجمع عام میں عورتوں کے مہر میں اضافہ کو نامناسب گردانتے ہیں جس پر اسی مجمع میں ایک خاتون کھڑی ہوتی ہے اور سب کے سامنے خلیفہ وقت،رعب وجلال کے شہنشاہ،بائیس لاکھ مربع میل پر حکومت کرنے والے شخص،عالم کفر پر دبدبہ رکھنے والی شخصیت اور عام معاشرہ میں جلالی انداز سے مشہور فرد کو بلا جھجھک کہتی ہے کہ اے عمر! ہم قرآن کے مقابلہ میں آپ کی بات کو کوئی وزن نہیں دے سکتے-کمال دیکھیے کہ اتنی عظیم شخصیت جس سے پورا عالم کفر اور دنیا کی دو عظیم سلطنتیں لرزہ براندام ہیں برامنائے یا ایک عام عورت کی بات کو اپنی شان میں گستاخی سمجھے حقیقتِ حال واضح ہونے پر اپنی بات سے رجوع کرلیتی ہے اور اس عورت کا شکریہ اداء کرتی ہے-اس سے بڑھ کر اور آزادی رای کے اظہار کا حسین منظر کہاں ملے گا؟
مگر کابل انتظامیہ جس آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے اس سے دراصل وہ چیز مقصود ہے جس میں حقیقتِ حال کو آشکارا کرنے کی بجائے اسلامی تشخص، اسلامی شعائر اور حقائق پر پردہ ڈالا جائے اور دنیا میں اس وقت یورپ کا جو مقتدر حلقہ ہے اس کی بات اور پالیسی کو من وعن تسلیم کرنے کے ساتھ اتنی ہوا دی جائے کہ عام لوگ اسی کو ہی حرف آخر سمجھے بلے حقیقت کچھ بھی ہو-
اشرف غنی کی حالیہ گفتگو بھی اس تسلسل کا ایک نمونہ ہے-اس کا کہنا یہ ہے کہ طالبان کو دباو کے ذریعہ امن کے قیام اور مذاکرات میں سنجیدگی کے لیے آمادہ کیا جائے-جبکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو دباو کی طالبان پر ضرورت نہیں؛کیونکہ امارتِ اسلامیہ نے جس دن سے مذاکرات کے لیے دفتر کھولا ہے اس دن سے ہی سنجیدہ ہے-۲۹ فروری کو امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ امریکا کے خلاف اقدامی کارروائی نہیں ہوگی -باوجود شدید اشتعال انگیزی اور امریکی جانب سے کئی بار انحراف کے امارتِ اسلامیہ نے معاہدہ کی بھرپور پاسداری کی ہے-معاہدہ میں یہ شامل تھا کہ امارتِ اسلامیہ کابل انتظامیہ کے ایک ہزار قیدیوں کو پانچ ہزار طالب قیدیوں کی رہائی کے بدلے رہا کرےگی -اس پر امارتِ اسلامیہ نے جانبِ مقابل کے سرتابی کے باوجود عمل کیا اور ان کی طرف سے اپنی قیدیوں کی رہائی کاانتظار کیے بغیر ان تمام قیدیوں کو امن عمل میں سنجیدہ ہونے اور باہمی اعتماد سازی کی خاطر رہا کردیا-معاہدہ میں یہ بات شامل تھی کہ دس دنوں بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہونگے اور انہیں دس دنوں میں دونوں فریق اپنی اپنی ٹیمیں تشکیل دیں گی امارتِ اسلامیہ نے اس کے لیے اپنی آمادگی کا اسی دن اظہار کیا اور اس کے لیے بھرپور تیاری دکھائی-
اب دوسری جانب آئیے! کابل انتظامیہ نے دس دنوں میں کرنےکا کام قیدیوں کی رہائی کو چارماہ تک معطل کررکھا-جس ٹیم کو دس دنوں میں تشکیل دیناتھا اس کی تشکیل پانچ مہینوں تک کاوقت صرف کرسکی-اس پر مستزاد یہ کہ جو ٹیم بنائی وہ بھی نمائندگی کی صلاحیت سے محروم رہی اور جس طرح کی ٹیم ہونی چاہیے تھی اس کی ہوابھی موجودہ ٹیم کو نہیں لگی-معاہدہ میں یہ طے تھا کہ امریکا اور کابل انتظامیہ اقدامی کارروائیاں نہیں کریں گے مگر کابل انتظامیہ نہ صرف یہ کہ اقدامی کارروائی کررہی ہے بلکہ بے گناہ افراد کو صرف اس بنیاد پر اپنی ہوس کانشانہ بنا کرقتل کررہی ہے کہ وہ کوئی صحافی ہے اور قوم کے مفادات بات کرکے اشرف غنی اور اس کی کابینہ کے ذاتی مفادات کو نشانہ بنانے کا ازادی اظہار رای کااپنا حق استعمال کررہا ہے-یا وہ کوئی عالم دین ہے اور قوم کی مفاد کی خاطر امن کی آواز اٹھارہاہے اور امن جو سبوتاژ کرنے کی انتظامیہ کوششوں کی مذمت کرتا ہے-
بین الافغان مذاکرات شروع ہوتے ہیں اور کابل انتظامیہ کی انتہائی غیرسنجیدہ رویہ کے باوجود امارتِ اسلامیہ ایک مضبوط اور طاقتور ٹیم کے ساتھ ان کاسامنا کرتی ہے اور جو گفتگو کرتی ہے تو انتہائی اصولی اور عالمی اسلامی قانون کے مطابق کرتی ہے-مگر کابل انتظامیہ ایک چھوٹی سی اور بالکل سادی اور آسان سی بات کو لے کر بتنگڑ بنادیتی ہے اور اپنی ذاتی مفاد کےلیے قوم اور ملت کی آڑ لیتی ہے-جب اس سے بات بنتی نظر نہیں آتی تو اوچھے ہتھکنڈوں پہ اترآتی ہے اور خواہ مخواہ کے الزامات لگاتی ہے-نفرت کی فضاء پیدا کرنے کےلیے معصوم لوگوں کا خون کردیتی ہے-علماءدین اور تعلیمی سینٹرز کو نشانہ بناتی ہے-
ایسے میں کیا یہ کہنا بجا ہوگا کہ طالبان پر پابندیاں لگا کر مذاکرات اور امن کے قیام کے لیے آمادہ کیا جائے؟ کیا یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوگا کہ خود اشرف غنی اور اس کے کارندوں کو لگام دینا چاہیے؟ اور پابندیوں کا رخ اسی کی طرف کرلینا چاہیے؟

Related posts