دسمبر 01, 2020

سلامتی کونسل سے اشرف غنی کا امن مخالف مطالبہ

سلامتی کونسل سے اشرف غنی کا امن مخالف مطالبہ

آج کی بات

کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک ویڈیو خطاب میں مطالبہ کیا کہ امارت اسلامیہ کے رہنماؤں سے متعلق وہ بلیک لسٹ کا معاملہ ختم نہ کرے بلکہ ان پابندیوں کو امن عمل کے دوران دباو کے طور پر استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان پر عائد پابندیوں میں نرمی کو مذاکرات کے عمل میں پیشرفت اور ایسے افغانستان کے ساتھ طالبان کی وابستگی سے منسلک کیا جانا چاہئے جو ان کے نام نہاد 19 سالہ کامیابیوں کو محفوظ بنایا جائے۔
ایوان صدر کے سربراہ اور دیگر حکام کی جانب سے اس طرح کے واضح مطالبات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ایسی صورتحال میں جب قطر میں ان کے نمائندے امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے بیٹھ گئے ہیں اور انہوں نے پہلے دن امارت اسلامیہ کے نمائندوں کے ساتھ ضابطہ اخلاق کے 20 نکات میں سے ایک اس نکتہ پر اتفاق کیا کہ غیر ملکی مداخلت کے بغیر افغانوں کے مابین باہمی مذاکرات ہوں گے، اور کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ امن عمل میں کسی بھی طرح سے شامل کیا جائے یا شامل ہوجائے۔
لیکن اس وعدے کے باوجود کابل حکومت کا سربراہ یا تو عالمی طاقتوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ بلیک لسٹ کو توسیع دیں تاکہ دباو کے طور پر اس کو استعمال کیا جائے یا اپنے ہمسایہ ممالک اور دیگر سے جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ جنگ بندی کے نام پر انہیں طالبان کے دفاعی اور جارحانہ حملوں سے بچایا جائے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلام کی فطرت اب بھی غلامی کی ہے، وہ اپنی مذاکراتی ٹیم کے وعدوں پر دھیان دیتی ہے اور نہ ہی غلامی کا جذبہ اس کے زہن سے نکلتا ہے، خواہ جس شکل سے بھی ہو وہ غیر ملکیوں کے ہاتھوں اپنے اقتدار کو دوام بخشنا چاہتا ہے۔
امن کی راہ میں قدم قدم پر ان کی خلاف ورزیوں کو دنیا دیکھ رہی ہے، اس سے پہلے انہوں نے قیدیوں کی رہائی اور اب مذاکرات کے طرز عمل کے دو نکات پر غیر ضروری بحث و مباحثہ اور پھر عالمی اور پڑوسی ممالک کے دباؤ بڑھانے کے مطالبات قوم دیکھ رہی ہے، دنیا کو پتہ ہے کہ کابل انتظامیہ امن عمل میں کتنے مخلص ہے؟ اور اس کی خودمختاری پر کتنا یقین رکھتی ہے؟
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اور ہمسایہ ممالک اس سے بخوبی واقف ہیں، انہیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ جبر اور دباؤ کے ذریعہ امن حاصل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کابل کی کٹھ پتلی حکومت کے اشارے پر دباؤ کا ایک سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔ امن کے لئے ایک حقیقی ، باضابطہ اور مخلصانہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کابل انتظامیہ کے حکام نے ابھی تک عزم نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان میں یہ صلاحیت موجود ہے۔

Related posts