دسمبر 01, 2020

سلامتی کونسل سے کابل انتظامیہ کے سربراہ کےغیر ذمہ دارانہ مطالبات پر ترجمان کا بیان

سلامتی کونسل سے کابل انتظامیہ کے سربراہ کےغیر ذمہ دارانہ مطالبات پر ترجمان کا بیان

سلامتی کونسل سے کابل انتظامیہ کے سربراہ کے غیرذمہ دارانہ مطالبات پر امارت اسلامیہ کے ترجمان کا بیان

 گذشتہ روز کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ امارت اسلامیہ کے رہنماؤں پر ظالمانہ پابندیوں کو برقرار رکھیں جائے اور اسے دباؤ آلہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔

امارت اسلامیہ نے بار بار وضاحت کی ہے کہ کابل انتظامیہ کے حکام کے مفاہمت اور صلح کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اب تک اس بارے میں جو پیشرفت ہوئی ہے،وہ بیرونی فریقوں کے دباؤ کا نتیجہ رہا۔

اس سے مفاہمتی عمل کے خلاف صرف اشرف غنی کے مخالفانہ عزائم  ظاہر نہیں  ہورہے ہیں، بلکہ قبل ازیں کابل انتظامیہ کے نائبین اور دیگر متعدد  عہدیداروں نے مذاکرات کے موجودہ عمل کو سبوتاژ کرنے کی جدوجہد  کرتے ہوئے اس کی  پیشرفت کی راہ میں ملکی اور غیرملکی رکاوٹیں ایجاد کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

امارت اسلامیہ اس بیانات اور مطالبات کی مذمت کرتی ہے۔اسے جنگ کے تسلسل اور  مفاہمتی عمل کے خلاف مغرضانہ رویہ سمجھتی ہے۔

سلامتی کونسل سمیت پوری عالمی برادری کو افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ معروف بدعنوان عناصر کے بیان پر دوحہ کے اہم معاہدے کے خلاف رکاوٹیں کھڑی نہ کریں، بلکہ اس کے برعکس  مفاہمتی عمل کو سبوتاژ  اور  اقتدار کو وسعت دینےوالوں کی روک تھام کی کوشش ہونی چاہیے، تاکہ جس طرح ممکن ہو، دوحہ معاہدے پر عمل درآمد ہوجائے، کیوں کہ یہ افغانوں، امریکیوں اور عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

06 ربیع الثانی 1442 ھ بمطابق  21 اکتوبر 2020 ء

Related posts