دسمبر 01, 2020

آسٹریلیا کااعتراف

آسٹریلیا کااعتراف

تحریر:سید افغان

اکتوبر کے اخیر اور نومبر کے شروع میں کچھ ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں آسٹریلیا کی فوج کا بے گناہ افغانوں کو بے دریغ قتل کرنے کو دکھایا جاتا ہے-یہ ویڈیوز جو خود آسٹریلوی فوج کی طرف سے ترتیب شدہ ہیں اور ان میں دیگر فوجی اہلکاروں نے برملا اعتراف کیا ہیں کہ ہمارے ہی ساتھیوں نے جنگ میں دخیل لوگوں کے علاوہ ان لوگوں کو بھی قتل کیا ہیں جو جنگ سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے میڈیا پر خوب پذیرائی پاگئیں-ان پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا میں بھی خوب رپورٹیں بنائی گئیں اور ہر طرف سے اس معاملہ کو اٹھایا گیا-تاآنکہ آسٹریلوی حکومت نے باقاعدہ طور پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا اور اس کمیشن کا ایک سربراہ وزیراعظم کے فرمان خصوصی کی بنیاد پر مقرر ہوا-
دس نومبر کو یہ کمیشن بنایا گیا اور ٹھیک نو دن بعد ۱۹ نومبر آسٹریلیا کی وزارتِ دفاع نے کمیشن کی رپورٹ کو ذکر کیے بغیر ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں بے گناہ افراد کے قتل پر معافی مانگی گئی تھی-وزارتِ دفاع کے اعلامیہ سے برملا یہ ظاہر ہورہا تھا کہ آسٹریلوی فوج کے بارے میں جو کچھ ویڈیوز میں آیا تھا وہ مبنی بر حقیقت تھا-
مملکتِ آسٹریلیا کا باقاعدہ کمیشن بنانا اور پھر وزیردفاع کا معافی مانگنا اپنے اندر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے-
۱-کمیشن جس مقصد کے لیے بناتھا وہ بنیادی طور پر یہ تھا کہ جو ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں ان کی تحقیق وتفتیش کی جائی کہ یہ واقعی ہیں یا نہیں؟ اور اگر واقعی ہیں تو پھر اعداد وشمار کو معلوم کیا جائے-پھر معلوم کرنے کے بعد جو مجرم ثابت ہوجائے ان کو اپنے انجام تک پہنچایا جائے-مگر یہاں وزیردفاع چند رسمی الفاظ کہہ کر معافی کے خودساختہ لفظ سے جان چھڑاتا ہے-سوال یہ ہے کہ وہ اعداد وشمار کیوں نہیں بتائے گئے؟ کمیشن کی تفصیلی رپورٹ کیوں چھپائی گئی؟کیااس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی اتنا بڑاواقعہ نہیں جسے سریس لیا جائے -ہلکے پھلکے الفاظ سے ہی دفن کردینا چاہیے؟
۲- ۲۹ فروری کو امارتِ اسلامیہ اور امریکا کے درمیان جارحیت کے خاتمہ کا معاہدہ دستخط ہوا جس کی رو سے دس دنوں کے اندر امارتِ اسلامیہ کے پانچ ہزار قیدیوں کا کابل انتظامیہ کے ایک یزار قیدیوں کے ساتھ تبادلہ ہونا تھا -اس پر پہلے تو انتظامیہ نے خوب انگڑائیاں لیں اور جتنا ہوسکتا تھا روڑے اٹکائے-اور جب خدا خدا کرکے انتظامیہ کو دبایا گیا اور انہیں چارماہ بعد قیدیوں کی رہائی پر مجبور کیاگیا-اور انتظامیہ نے قریب سب قیدیوں کو معاہدہ کی رو سے آزاد کرلیا تو چھ یاسات ایسے قیدی نکل آئے جن کی رہائی پر بعض ممالک کو اعتراض بلکہ تحفظات تھے-
ان ممالک میں ایک نام آسٹریلیا کا بھی تھا -آسٹریلیا نے باقاعدہ ایک خط کے ذریعے خود انتظامیہ اور دیگر بااثر ممالک کو متوجہ کیا تھا کہ یہ قیدی انتہائی خطرناک ہیں-اور خطرناک ہونے کی وجوہات یہ لکھی تھی کہ انہوں نے ہمارے فوجی اہلکاروں کو قتل کیا ہے -اب جب یہ رہا ہونگے تو ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں یہ لوگ دوبارہ جنگ کی صفوں میں نہ جائیں  اور دوبارہ خطرہ نہ بنیں !
موجودہ صورتحال میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن قیدیوں کے بارے میں آسٹریلیا کو تحفظات تھے ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے اپنے ملک کی دفاع کی خاطر اپنے ملک پر ھجوم لانے والوں کو مردانہ وار قتل کیا تھا جو ان کا نہ صرف یہ کہ حق تھا بلکہ بین الاقوامی جنگی اصولوں کے تحت بالکل ایک جائز اور مناسب اقدام تھا جو انہوں نے کرڈالا تھا -مگر جو آسٹریلوی فوج نے کیا ہے اور جن بے گناہوں کو مارڈالا ہے اور بے دردی و بے رحمی سے شہید کیا ہیں یہ تو نہ ان کا حق تھا اور نہ بین الاقوامی جنگی اصول انہیں اس کی اجازت دیتاہے-پھر سوال یہ ہے کہ انتظامیہ اور وہ ممالک آسٹریلیا سمیت جو ان قیدیوں کے جائز حق کو جرم باور کراتے تھے اور اس فرضی جرم کی بنیاد پر معاہدہ کی ایک بنیادی شق کو تعطل کا شکار بنانا چاہتے تھے ان کی زبانیں اس اہم ایشو اور آسٹرالوی فوج کی اس درندگی پر کیوں گنگ پڑچکی ہیں؟ انسانیت کے ساتھ ہمدردی کا ڈرامہ رچانے والے اس انسانی قتل پر مہر بلب کیوں بنے ہوئے ہیں؟ خود مملکتِ آسٹریلیا جو جائز حق استعمال کرنے پر بھی ان بہادر سپوتوں کو آزادی سے محروم رکھنا چاہتی تھی آج اپنی اس ناجائز،ظالم اور خونخوار حرکت پر صرف معافی سے کیوں اپنی گلو خلاصی کررہی ہے؟ مجرم جو یوں ہی نہیں اقوامِ عالم کے سامنے مجرم بنے ہیں اور اس کااعتراف خود انہوں نے ہی دنیا کے سامنے کیا ہے کیوں اپنے جرم کی سزا نہیں چکتا یا چکائی نہیں جاتی؟
۳-امارتِ اسلامیہ کا روزِ اول سے موقف یہ رہا ہے کہ ہماری جدوجہد اپنی آزادی اور خود مختاری سمیت عالمی جارحیت سے اپنی قوم وملت کی دفاع کے لیے ہے-مگر فرعونی طاقتوں اور ان کے گماشتوں کااصرار تھا کہ یہ دھشت گردی ہے-امارتِ اسلامیہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک پر یلغار ہمارے خون خرابے اور ہمارے جائز حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے ہے مگر استعماری ٹولہ بضد تھا کہ ہم افغان قوم کی خیرخواہی کےلیے آئے ہیں اور دوستانہ ماحول میں ہی آئے ہیں-اب سوال یہ ہے کہ آسٹریلیا کے اس تاریخی اعتراف کے بعد کیا امارتِ اسلامیہ کے موقف میں وزن نہیں آتا؟ کیا یہ اعتراف ثابت نہیں کرتا کہ امارتِ اسلامیہ جو اس ھجوم کو یلغار کہتی تھی اس میں وہ جانب بحق تھی؟ کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ لوگ ملک وملت کی بربادی کے لیے یہاں وارد ہوئے تھے؟ کیا اس اعتراف کا یہ معنی نہیں ہے کہ امارتِ اسلامیہ کی جدوجہد اپنی ملت کی بقاء اور زندگی کے تحفظ کے لیے تھی؟
یہ تو ابھی ابتداء ہے-مزید انتظار میں رہیے اور دیکھتے رہیے کہ کتنے اعترافات اور آئیں گے اور حق وسچ کا علم کتنا سربلند اور اہل حق کا پلڑہ کتنا بھاری ثابت ہوگا؟

Related posts