دسمبر 01, 2020

جنیواکانفرنس سے متعلق سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمدنعیم صاحب کی وضاحت

جنیواکانفرنس سے متعلق سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمدنعیم صاحب کی وضاحت

ترتیب وترجمہ:سید افغان

جنیوا میں افغان قوم کے ساتھ تعاون اور امداد کے حوالہ سے جو کانفرنس منعقد ہونے جارہی ہے اس سے متعلق درج ذیل چند نکات کی وضاحت ضروری ہے:
یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان قوم اس وقت سب سے زیادہ امداد کی ضرورت رکھتی ہے؛کیونکہ اس وقت افغان قوم دیگر بے شمار مسائل ومصائب سمیت فقر وفاقہ اور شدید تنگ دستی سے دست وگریباں ہے-اس بارے میں امارتِ اسلامیہ نے ہمیشہ کوشش کی ہے اور اب بھی کوشش کررہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنی قوم اور ملت کو امداد پہنچانے میں ممد اور معاون بنے-اسی کام کے لیے ہر مجلس اور میٹنگ میں بات ہوتی ہے اور ایجنڈے میں باقاعدہ یہ بات شامل ہوتی ہے-
مگر یہ جو افغان قوم کے نام پر امداد اکٹھی کی جاتی ہے اور پھر افغان قوم کے مستحقین اور بے چاروں تک نہیں پہنچتیں اور دیگر افراد اور ایک مخصوص طبقہ کی جیبوں اور پیٹ میں چلی جاتی ہے-جس طرح گزشتہ دو عشروں میں یہ گورکھ دھندا ہوتا رہا ہے اور اب بھی جاری ہے-اور بہت ہی افسوس ناک بات ہے-ایسی صورتحال میں جبکہ امدادیں قوم کے نام پر بٹوری اور اکھٹی کی جارہی ہیں اور پھر مستحقین کی بجائے کچھ مخصوص افراد کی جیبوں کی نذر ہوجاتی ہیں امارتِ اسلامیہ اس کی حمایت کرتی ہے اور نہ ہی اس سے خوش ہے بلکہ اس سلسلہ کویکسر مسترد کرتی ہے-
کیونکہ یہ ایک بہت بڑا ظلم،ناانصافی اور عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ہے-کہ جو چیز قوم کے نام پر حاصل کی جائے اور اس کے حصول کے لیے قوم کا نام استعمال کیا جائے اور پھر وہ کسی اور سمت میں بغل میں دبائی جائیں-اس بارے میں ہم اقوامِ عالم،متعلقہ ممالک اور تمام اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں جو امداد کرنے کا بیڑااٹھائے ہیں کہ جو کچھ قوم کے نام پر امداد کی شکل میں اکھٹی ہوتی ہے وہ قوم تک پہنچائے اور ڈاکہ ڈالنے سے بچائے-کیونکہ جس کے نام پر یہ جمع ہوئی ہے وہ اسی کو پہنچنی چاہیے-
اس کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ یہ ساری امدادیں امارتِ اسلامیہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے باہمی امداد واتفاق سے قوم تک پہنچائی جائیں-
اخیر میں ہم ان تمام ممالک،اداروں اور مؤسسات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ان سخت حالات میں ہماری قوم کو یاد رکھتے ہیں اور انہیں معاونت فراہم کرتے ہیں-

Related posts