دسمبر 01, 2020

ہرزہ سرائی اور الزام کا محرک کیا ہے؟

ہرزہ سرائی اور الزام کا محرک کیا ہے؟

تحریر:ابومحمد الفاتح

۲ نومبر کو کابل یونیورسٹی پر حملہ ہونے کے فورا بعد کابل انتظامیہ کے سربراہ کا معاونِ اول یہ الزام لگانے دکھائی دیا کہ یہ حملہ امارتِ اسلامیہ نے ہی کیا ہے-اور اس الزام کی بنیاد پر امارتِ اسلامیہ کا افغانی گروہوں کے ساتھ ڈائیلاگ کے بائیکاٹ کی مہم چلانا شروع کی-مختلف بینرز آویزاں کیے جن میں امارتِ اسلامیہ کے زعماء کی تصاویر کے ساتھ انتہائی نازیبا الفاظ بھی لگائے گئے تھے-امارتِ اسلامیہ نے اس الزام کی نہ صرف تردید کی بلکہ بڑے سخت الفاظ میں اس حملے کی مذمت کی-ساتھ ہی کابل انتظامیہ کی زیرسرپرستی بلکہ ذیلی جماعت داعش نے ایک ویڈیو پیغام اور باقاعدہ اعلامیہ کے ذریعہ اس حملہ کی ذمہ داری بھی قبول کی-
مگر امراللہ صالح پھر بھی بضد رہا کہ یہ حملہ طالبان نے ہی کیا ہے-جب ثبوت مانگے گئے تو چند اول پول قسم کے خطوط اور ایسی باتیں پیش کیں جو لکھنے کے قابل تک نہیں-حملہ کو دون گزرے تو امراللہ صالح ایک دفعہ پھر طالبان کو نشانہ بناکر سخت الفاظ میں یاد کرنے لگا-اور جب دس دن گزرے تو ایک ویڈیو وائرل کرکے ایک بندے سے کچھ اعترافی جملے کہلوائے-جس میں دکھایا یہ جارہا ہے کہ یہ بندہ طالبان سے تعلق رکھتا ہے اور حملہ بھی اسی نے ہی کیا ہے جس کو ٹارگٹ طالبان کی مرکزی قیادت کی جانب سے ملی ہے-اگرچہ ویڈیو پر نظر پڑتے ہی حق اور سچ اور جھوٹ وفریب کی واضح نشاندہی ہوہی جاتی ہے اور صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت معرض وجود میں لایا گیا ہے-مگر سوال یہ ہے کہ امراللہ صالح کو ایسی کیا مجبوری درپیش ہے جس کی بناء پر موصوف ہرزہ سرائی کی ہر حد پار کرتا ہے؟
دیکھا جائے تو ایسی حرکات امراللہ صالح کا حق بنتا ہے؛کیونکہ موصوف گزشتہ تین دہائیوں سے کچھ اوپر افغانستان میں اغیار کا کاسہ لیس رہا ہے-اس پوری مدت میں موصوف نے یہ ریکارڈ قائم کیا ہے کہ غیروں کے مفادات کے تحفظ کے بدلے اپنے لیے اقتدار کی تلاش میں اہالیانِ وطن کے قتل سے کبھی دریغ نہیں کیا ہے-بلکہ ہرپل کے ساتھیوں کو جال میں پھنسانے کا کردار اداء کیا ہے-اس کے خلاف اور ملک وملت کے مفادات کے تحفظ کے لیے جو بھی سامنے آیا تو موصوف نے اس کے خلاف سازشوں کی دام پھینکی اور اس کے خلاف بھرپور نفرتیں پیدا کرنے کی کوشش کی-
موجودہ صورتحال میں امارتِ اسلامیہ کی کامیابی چونکہ نمایاں ہے اور قوم کو امن وآشتی کے دن قریب آنے کو ہیں-جس مقصد کے لیے اس قوم کے ہزاروں نہیں لاکھوں جگرگوشے فدا ہوچکے ہیں وہ مقصد حاصل ہونے میں اب کچھ دیر ہی باقی ہے-اب حقیقی عوامی نمائندے برسراقتدار آنے کو ہیں جو عوام کے حقوق ان کو واپس لٹاکر انہیں مسلط کردہ چہروں سے نجات دینگے-دوسری طرف اس کے آقاؤوں نے اسے یوں ہی بے مہار چھوڑدیا ہے -ابھی ۱۶ نومبر کی رپورٹ ہے کابل انتظامیہ کے متعدد ارکان اس بات پر نالاں نظر آرہے تھے کہ اب امریکی امداد ختم ہونے کو ہے –
یہ چیز امراللہ صالح کو بہت ہی زیادہ ستارہی ہوتی ہے-اور اس کی برداشت یہاں جواب دے جاتی ہے تب ہی وہ اس طرح کے گھٹیا حربوں پر اتر آتا ہے-چنانچہ کوشش اس کی فی الحال یہ جاری ہے کہ کسی طرح قوم کے دلوں میں طالبان سے نفرت پیدا کرسکے اور اپنے بیرونی آقاؤوں کی توجہ اس جانب دلاسکے کہ طالبان دہشت گردی کے کاموں میں ملوث ہیں -اسی بنیاد پر امراللہ صالح نے پہلے پہل دینی پیشواؤوں کو قتل کرنا شروع کیا-پھر دینی مجالس اور جمعہ کے اجتماعات میں بم بارود نصب کرکے وہاں خون خرابہ کی داستانیں رقم کردیں-پھر ان صحافیوں کو قتل کرایا جو صحیح معنوں میں آزادیِ اظہار رای کے خواہاں اور صحافتی اصولوں پر عمل پیرا تھے اور جو انہیں اصولوں کی وجہ سے امراللہ صالح اور اس کی جھوٹی، مکار اور خونخوار ٹیم کو بے نقاب کرتے تھے-مگر جب ان سے بھی کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں ملا تو پھر یونیورسٹی کے نہتے بچوں پر وار کرکے انہیں خون میں نہلایا اور ذمہ داری طالبان کے سر ڈالی تاکہ نفرت اور نفرت پیدا ہوجائے-
مگر یہاں مجبوری یہ ہے کہ قوم بھی ان نااہلوں کی حقیقت سمجھ گئی ہے اور ان کاکردار بھی بزبان حال اعلان کرتا ہے کہ یہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ دراصل اپنی جیب اور ہوس کی تسکین کی خاطر ہے قوم اور ملک کااس میں کوئی فائدہ نہیں ہے؛اس لیے نفرت کا کوئی تصور نہیں کرسکتا-البتہ اس کی ہرزہ سرائی پر قوم کو اپنے یقین میں مزید پختگی ضرور حاصل ہوتی ہے-

Related posts