دسمبر 01, 2020

بین الافغان مذاکرات اورسبوتاژ کرنے کا آخری ڈرامہ

بین الافغان مذاکرات اورسبوتاژ کرنے کا آخری ڈرامہ

ماہنامہ شریعت کا اداریہ

انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی اتحاد اورتمام تر جنگی وسائل اورجدید ترین اسلحہ کو دیکھتے ہوئے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ غریب اورنہتی افغان قوم ان کے مقابلےکے لئے میدان میں اترے گی ۔مہینوں یا پھر برسوں تک ان کے ساتھ مقابلہ جاری رکھنا تو بہت دورکی با ت تھی ۔لیکن پھر جب مجاہدین معمولی وسائل کے ساتھ ان کے مقابلے میں میدان میں آگئے تو نہ صرف یہ کہ برسوں تک ان کا مقابلہ کیا بلکہ انہیں شکست کے دہانے پر پہنچاکرہی چھوڑا ۔
پھر یہ بھی بظاہر خلاف توقع تھاکہ جنگ کے میدان میں تاریخی کامیابی کے بعد امارت اسلامیہ شکست خوردہ دشمن کے ساتھ مذاکرات بھی کرے گی ۔ لیکن چونکہ جنگ جاری رکھنا امارت اسلامیہ کااصل ہدف نہیں تھا بلکہ ملک وملت کی آزادی ، بیرونی قبضے کاخاتمہ اوراسلامی نظام کا نفاذ ہی اصل ہدف اورقوم کی بڑی امید تھی ۔اورصلح کے راستے سے جہاد کے اہداف اورقوم کی امید پوری ہوتی نظرآرہی تھی ،ساتھ ہی وہ جنگ بھی بند ہونی تھی جس کی وجہ سے ہردن قوم کے سیکڑوں بچے مارے جارہے ہیں ، پبلک مقامات پر بمباری کی جاتی ہے ،گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ رہے ہیں اورلوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبورہورہے ہیں۔
تو صلح ہونے کی صورت میں اسانی کے ساتھ جہادی اہداف اورقوم کی تمنائیں پوری ہونے کو دیکھتے ہوئے امارت اسلامیہ نے مذاکرات کی حامی بھرتے ہوئے نیک ارادے ، بلندعزائم اور مضبوط موقف سے دشمن کے ساتھ مذاکرات شروع کیےاورپھر جیسے انہوں نے جنگ کے میدان میں استقامت دکھائی ،نہ دشمن کے زورکے آگے جھکے ،نہ جنگ سے دل برداشتہ ہوئے اورنہ ہی اپنے عالی اہداف سے دستبردارہوئے ،بالکل اسی طرح ڈپلومیسی کے میدان میں بھی ڈٹے رہ کر دنیا کو حیران کردیا ۔
کابل ادارے کےاعلیٰ حکام اورامریکہ کے زیادہ تر فوجی سربراہ جو اپنے مفادات جنگ کے دوام میں ہی سمجھتے ہیں ،نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لئے جنگ کے میدان کو خو ب گرم کئے رکھا ، عوام کے خلاف ظلم وسربریت سے بھرپور کارروائیاں کیں ،دنیا کو امار ت اسلامیہ سے بدظن وبدگمان کرنے کے لئے طرح طرح کی کوششیں کیں ۔لیکن صدافرین ہوں امارت اسلامیہ کے مدبر رہنماؤں پر جنہوں نے ان کو اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا ۔امارت اسلامیہ کے رہنماؤں نےا یسی فضا بنائی کہ جس میں امریکیوں کو پیچھے جانے کی بجائے آگے جانے میں عافیت محسوس ہوئی ،یہ مذاکرات 18 مہینوں تک چلتے رہے جو اپنے دشمن کے ساتھ امریکہ کے سب سے طویل مذاکرات ثابت ہوئے اورخوش قسمتی سے امریکہ ان سب چیزوں کو ماننے کے لئے تیار ہوا جو نہ صرف امارت اسلامیہ بلکہ پوری مجاہد قوم کے کے لئے ریڈ زون تھا ۔توالحمدللہ یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوئے اور افغانستان سے امریکیوں کا انخلاء شروع ہوا،دشمن کی جیلوں سے ایک ،دو ،دس یا سو نہیں بلکہ پورے 5ہزارقیدی رہاہوکر آگئے ۔
کابل ادارہ جب مذاکرات اوراس کے نتیجے میں ہونے والے تاریخی معاہدے کو روکنے میں ناکام ہوا تو اس کو سبوتاژکرنے کے لئے کوششیں شروع کردیں ۔معاہدہ کےمطابق پہلے دس دن میں 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کا معاملہ 6 مہینے تک موخر رہا جس کی وجہ سے مذاکرات کا دوسراحصہ یعنی بین الافغانی مذاکرات بھی تاخیرکا شکارہوگئے ۔
لیکن امارت اسلامیہ کو دینی اقدار ،شرعی مقاصد اورملک وملت کے عالی اہداف ہر چیز سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اورامارت اسلامیہ کو قوی امید تھی کہ بین الافغانی مذاکرات کامیا ب ہونے سے افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہوکر40 سالہ بحران کا خاتمہ ہوجائے گا ،اورافغانوں کی خواہش کے عین مطابق ایک صاف ستھر اورسچا اسلامی نظام دوبارہ نافذہوجائے گا اس لئے انہوں نے ان مذاکرات کو ہر صورت میں ہونے کے لئے ہر طرح کی کوشش کی ۔
بین الافغانی مذاکرات میں امارت اسلامیہ کی جانب سے قاضی القضاۃ ،رہبری شوریٰ کے ممبرز اورنمائندگان کی شرکت یہ ثابت کرتاہے کہ امارت اسلامیہ جنگ کی بجائے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کو ترجیح دیتاہے۔اس لئے کہ اس جنگ کو جاری رکھنے کی صور ت میں زیادہ تر نقصانات افغانوں کو برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔
لیکن اشرف غنی اوراس کے ہم خیال لوگ جنہیں اپنے مفادات جنگ کی بقامیں دکھائی دیتے ہیں مسلسل طورپر بین الافغانی مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوششوں میں ہیں ۔
کابل سے مذاکرات میں شرکت کے لئے جانے والی ٹیم کابل ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اس لئے مذاکرارت کے دوران انتہائی نامعقول اوربے فائدہ قیود وشرائط پیش کرتے ہیں ، تاکہ امارت اسلامیہ ان مذاکرات کو آگے لے جانے سے انکارکردے اوریوں یہ مذاکرات ناکام ہوجائیں اوراس کی ساری ذمہ داری امارت اسلامیہ پر ڈال دی جائے ۔لیکن امارت اسلامیہ کے رہنماؤں نے ان کے ناپاک ارادوں کو ناکام بناتے ہوئے ہرحال میں مذاکرات کرنے اورآگے لیجانے کا راستہ ہی اختیار کیا جس کی وجہ سے کابل ادارے کا یہ منصوبہ تاحال ناکامی کا شکارہے ،اسی لئے انہوں نے امارت اسلامیہ کے خلاف عوامی جذبا ت کوبھڑکانے کے لئے کابل یونیورسٹی پرحملے کا ڈرامہ رچایا۔
پوری دنیا اورقوم گواہ ہے کہ گزشتہ 19 برسوں سے جاری جہاد میں طالبان نے کبھی بھی غیرفوجی مراکز کو ہدف نہیں بنایا ،دوسری بات یہ کہ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور حملہ آوروں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں ۔حملے کا ہدف بھی واضح کردیاہے لیکن کابل ادارہ نے پھر بھی انہیں بری الذمہ باورکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بلاتحقیق وتصدیق اس حملے کی ذمہ داری طالبان پر ڈال دی ۔اورقوم کو باورکرانے کے لئے اسی رات جھوٹے ثبوت بھی بنالئے تھے ۔لیکن ان کی بدقسمتی تھی کہ قوم بہت جلد ان کے مکروفریب کو سمجھ گئی اورتمام تر آزاد صحافیوں اورتجزیہ کاروں نے اسے کابل انٹلی جنس کا کارنامہ سمجھا جس میں داعش کو بطور آلہ کاراستعمال کیا گیا تھا ۔اس لئے اس ڈرامہ نے بجائے نفع کے ان کو نقصان سے دوچارکیا ہے اور قوم کے دلوں میں ان کی نفرت کو مزید بڑھا دیاہے ۔
کابل ادارہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اب مزید ان کے ڈرامے نہیں چلیں گے اورقوم کے دلوں میں نفرت کے بعد بیرونی آقاؤں کے دلوں میں بھی ان کے لئے نفرت ہی ہوگی اوروہ وقت بہت قریب ہے جب وہ ان سے ہاتھ اٹھالیں گے ۔۔۔ پھریہ انہی مذاکرا ت کے لئے کف افسوس ملیں گے لیکن تب ہاتھ کچھ نہیں آئےگا۔

Related posts