دسمبر 01, 2020

اقتدار کی ہوس کہاں کہاں ذلیل کرواتی ہے؟

اقتدار کی ہوس کہاں کہاں ذلیل کرواتی ہے؟

تحریر:سیدافغان

امریکا کے انتخابات میں جیسے ہی یہ بات سامنے آئی کہ ٹرمپ کو شکست اور بائیڈن کو جیت ملے گی تو اسی دن کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے معاونِ دوئم سرور دانش نے سراپا گریہ وزاری بنتے ہوئے امریکا کے سامنے منتیں شروع کردیں اور ان سے درخواست کی کہ امارتِ اسلامیہ کے ساتھ انتیس فروری کو دوحا میں کیے گئے معاہدہ پر از سرِ نو غور وخوض کرے اور جتنا جلدی ممکن ہو اس معاہدہ کو ختم کیا جائے-سرور دانش نے اس معاہدہ کو امریکا یورپ اور اپنے لیے خطر قرار دیتے ہوئے اسے سبوتاژ کرنے کی پرزور درخواست کی-
سروردانش کے بعد کابل انتظامیہ کے متعدد اعلی عہدیداروں نے موصوف کی اسی بات کو مختلف پیرایوں میں دہرایا اور اس کی بھرپور تائید کی-
اب امریکی حکام تک یہ باتیں پہنچی ہیں یا نہیں؟ اور اگر پہنچی ہیں تو وہ اس پر کیا ایکشن لیں گے؟ بلکہ لیں گے بھی یا نہیں لیں گے؟ یہ تو ان کے متعلق ہے -البتہ یہاں کچھ اور باتیں ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے-وہ یہ کہ کابل انتظامیہ کا یہ فعل اور کسی بیرونی قوت سے گریہ وزاری کیا افغانی روایات کے منافی نہیں ہیں؟ کیاواقعی کابل انتظامیہ کو اپنے افغان بھائیوں سے صلح کرنے میں کوئی خطرہ نظرآتا ہے؟ کیا کابل انتظامیہ کی یہ حرکت اس کے امن دعووں کے مخالف نہیں ہے؟
امریکا نے جو معاہدہ امارتِ اسلامیہ کے ساتھ دستخط کیا ہے-اس کی حقیقت تو یہ ہے کہ افغانستان کی مملکت افغانوں کاحق ہے-اس میں سیاسی امور،داخلی معاملات اور نظامِ حکومت کی تشکیل وترکیب صرف افغانوں کی ذمہ داری ہے اور وہ ہی اس کو بنا اور چلائیں گے-کسی بھی بیرونی قوت کو اس میں دخل اندازی کی اجازت ہے اور نہ ہی وہ اس طرح اقدام کے لیے چھوڑے جائیں گے-ساتھ ہی ایک نکتہ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکا اور نیٹو اتحاد نے افغانستان پر جو یلغار کی تھی وہ بالکل ناجائز اور عالمی قوانین سے انحراف پر مبنی تھی -اس جارحیت کو اس بنیاد پر جلد ہی اختتام پذیر ہونا ہے-
یہ وہ معاہدہ ہے جو انتیس فروری کو امریکا اور امارتِ اسلامیہ کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں دستخط ہوا-غور سے دیکھا جائے تو یہ معاہدہ دراصل انسانی آزادی کا مظہر،قومی خود مختاری پر مبنی ایک بنیادی حق اور ہر افغان کی دیرینہ آرزو اور تمنا ہے-اس پورے معاہدے میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے کسی فرد،جماعت یا ملک کے لیے خطرہ قرار دیا جائے-مگر! کابل انتظامیہ اس سے کیوں خوف محسوس کرتی ہے؟ تو اس کے اپنے وجوہات ہیں-
کابل انتظامیہ کی حقیقت یہ ہے کہ وہ امریکا کے آلہ کار اور اس کے کاسہ لیس ہیں-دین ومذہب اور قوم وملت کی اسے فکر ہے اور نہ ہی اس بنیاد کے مفادات سے اسے کوئی سروکار ہے-امریکا نے اس کی تشکیل کی ہے-اسے آئین کے نام پر چند بنے بنائے قوانین تھمائے ہیں-اس کے افراد کے درمیان عہدوں کی تقسیم کی ہے-اور ان سب باتوں کاانتظامیہ کو بھی خوب پتہ ہے اور وہ اچھی طرح سمجھتی ہے کہ قوم نے انہیں منتخب نہیں کیا ہے-جس کی دلیل یہ ہے کہ ابھی حالیہ انتخابات میں کروڑوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود انہی کے اعداد وشمار کے مطابق چونتیس ملین آبادی میں محض دوملین یااس سے بھی کم تعداد میں ووٹ استعمال ہوئے ہیں-دودرجن کے قریب امیدواروں میں سے کسی کو بھی قابل التفات ووٹ نہیں ملے ہیں ایسے میں وہ اپنے کو قومی نمائندہ ہونے کاتصور کیسے کرسکتے ہیں؟
اس لیے وہ بہر حال امریکا کاافغانستان میں وجود چاہتے ہیں-اگرچہ اس کے لیے افغانستان کے خزانے اور معدنیات کی قربانی دینی پڑے-جس طرح سربراہِ انتظامیہ نے ایک دفعہ کھل کر یہ دعوت دی تھی-یاپھر اپنی ہی قوم کو مروانا پڑے جس طرح انتظامیہ روزِ اول سے کرتی آرہی ہے-اس طرح سے ایک تو انہیں اپنے مفادات کے تحفظ میں آسانی ہوتی ہے-دوسرا یہ کہ آقاووں نے انہیں جس مقصد کے لیے افغانستاں پر مسلط کیا ہے وہ مقصد انہیں حاصل ہوتا رہے گا-پھر یہ کہ ان کا ناجائز اقتدار دوام پذیر رہے گا جو ان کی دیرینہ تمنا ہے-
لیکن! اگر امریکا اپنے معاہدہ کو عملی شکل دیدے اور افغانستان کو افغان قوم کے حوالہ کردے پھر انتظامیہ کے لیے ہرطرف سے خطرات ہی خطرات ہونگے -اپنے ذاتی مفادات کی کشتی ڈوبنے لگے گی-ناجائز اقتدار کی رسیاں سمٹ کر دم توڑیں گی-اور سب سے بری چیز ان کے لیے یہ ہوگی کہ قوم پر دوعشروں سے انہوں نے جو مظالم ڈھائے ہیں ان کا حساب انہیں دینا پڑےگا بلکہ خود اس کاحساب ان سے لے کر رہے گی جس کے لیے وہ کبھی تیار نہیں ہیں-
یہ وہ خطرہ ہے جسے وہ بھانپ چکے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ امریکا کے سامنے ہاتھ پھیلارہے ہیں-اور وہ چیز ہے جو ان سے افغانی اقدار کی پامالی کروارہی ہے-کتنی شرمناک بات ہے کہ ایک افغانی قوم کی حیثیت سے اس ملک کے سامنے آپ مسلسل ذلیل وخوار ہورہے ہیں صرف اس لیے کہ اپنے جاری مظالم سے ہاتھ نہیں اٹھانا جو تم نے بیس سال سے اس قوم پر ڈھائے ہیں؟ مگر اقتدار کی ہوس ایک ایسی چیز ہے جو دین وملت اور قومی حمیت سمیت ہر چیز سے کانا اور بہرا کردیتی ہے-سچ کہا ہے کسی نے:
حمیت نام تھا جس گئی تیمور کے گھرسے

Related posts