دسمبر 01, 2020

حقیقتِ حال از ترجمان

حقیقتِ حال از ترجمان

تحریر: سید افغان

۲ نومبر کو کابل شہر میں واقع سب سے بڑی یونیورسٹی پر حملہ ہوا جس میں بائیس سے زائد افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے-چونکہ حملہ طالبان کو بدنام کرنے کے لیے کابل انتظامیہ اور اس کی کٹھ پتلی داعش کی گٹھ جوڑ کاپلان شدہ تھا اس لیے اس دن سے انتظامیہ کے اعلی عہدیدار امراللہ صالح نے امارتِ اسلامیہ کو ذمہ دار ٹھرانے کے ساتھ یہ الزام بھی لگانا شروع کیا کہ داعش اور امارتِ اسلامیہ ایک سکے کے دورخ ہیں-اس کے ردعمل کے لیے امارتِ اسلامیہ کے ترجمان جناب ذبیح اللہ مجاہد نے ٹھوس اور بھاری دلائل سے حقیقت حال کو واشگاف کیا ہے-اہمیت کے پیش نظر قارئین کی خدمت میں گفتگو کے چند اہم نکات پیش کیے جارہے ہیں:

بنیادی نکتہ یہ ہے کہ داعش صوبہ جوزجان،زابل اور دیگر مشرقی شہروں میں موجود تھا -پھر ہم نے ان کے خلاف زبردست آپریشن کیا اور تمام شہروں سے ان کا صفایا کردیا-مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کابل انتظامیہ نے نئے سرے سے داعش کو منظم کرنے کے منصوبہ کے تحت انہیں ننگرہار،جوزجان اور دیگر شہروں سے برآمد کرلیا-جہاں وہ طالبان کے نرغے میں آئے تھے انہیں وہیں سے خصوصی طیاروں میں بٹھا کر نجات دی-کابل لے جا کر وہاں انہیں مہمان خانوں میں بٹھایا گیا اور انہیں طے شدہ پلانیں اور منصوبے حوالہ کردئیے-اب چونکہ ان کے لیے کابل میں فضاء ہموار ہے اور وہیں سے انہیں سپوٹ ملتاہے جس پر وہ دی گئی فرمائش کے مطابق تخریب کاری کرتے ہیں-ہم داعش کو کوئی خطرہ نہیں سمجھتے -اور وہ ہمارے علاقہ میں کسی قسم کی کاروائی کرسکتے ہیں اور نہ ہی ہم اس کی اجازت دیتے ہیں-اسی لیے تو وہ کابل میں کابل انتظامیہ کی شہ پر اپنی کاروائیاں منحصر کررکھے ہیں-
یہ بات کہ کابل انتظامیہ کاداعش کی پشت پناہی کے خلاف کیا شواہد ہیں تو دنیا دیکھ چکی ہے کہ بارہا ہمارے محاصرہ سے داعش کو کابل انتظامیہ نے چھڑایا ہے-ابھی تھوڑا عرصہ ہی گزرا ہے کہ ہم بے کچھ داعشی کارندوں کو گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کی تو دورانِ تفتیش انہوں کھلے بندوں یہ اعتراف کیا کہ کابل انتظامیہ باقاعدہ ہمیں سپوٹ کرنے کے ساتھ ہمیں ٹارگٹ بھی دیتی ہے اور ہم اسی کے مطابق چلتے ہیں-ان کی یہ ویڈیو بطورِ مثال وائرل بھی ہوچکی ہے-

کابل میں ہونے والا حملہ ان لوگوں کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے جو اپنے کو حکومت تصور کرتے ہیں-انتظام اور سرکاری امور چلانے کا دعوی رکھتے ہیں-عالمی دنیا سے امدادیں بٹورتے ہیں-اب وہ اس شرم کو چھپانے کےلیے اس کی ذمہ داری ہم پہ ڈالتے ہیں -کابل انتظامیہ کے سربراہ کے ترجمان کی حیثیت سے امراللہ صالح اس واقعہ کو ہم سے نتھی کرتا ہے-

کابل انتظامیہ ہماری باتوں کا غلط مطلب بناکر پھر ہمارے خلاف بطورِ دلیل پیش کرتی ہے-ہمارے سیاسی دفتر کے ایک رکن جناب مولوی عبدالسلام صاحب سے اتنا سا سوال کیا گیا تھا کہ اگر آپ امن معاہدہ کروگے تو کہیں تمھارے درمیان انتشار اور پھوٹ کی فضاء تو نہیں بنے گی؟ جس پر انہوں نے جواب دیا تھا کہ ہمارا منشور اور دستور ایک ہے-جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ باہمی اتفاق سے ہوتا ہے-جس کا مظہر جنگ بندی کے دوران کھلم کھلا سامنے آگیا-اس لیے ہم تقسیم اور انتشار کاشکار تو کجا ایسا سوچ بھی نہیں سکتے اور کسی اور کے لیے بھی ایسا سوچنا غلط ہے-
عبدالسلام حنفی کی یہ بات بالکل حقیقت پر مبنی ہے اگر امارتِ اسلامیہ کی حکمرانی آئے گی تو بالکل متحد ہوگی اور ایک آواز ایک قوت بنے گی-اس کے علاوہ جو بھی سراٹھائے گا اس کی سرکوبی کی جائے گی-
عبدالسلام حنفی کی اصل بات اتنی ہے مگر انہوں نے تو اپنا مطلب ہی نکالنا ہے اس لیے اس کو غلط تصویر میں پیش کررہے ہیں –

کابل انتظامیہ کے سربراہان اس وقت بوکھلاہٹ کے شکار ہیں-ایک طرف امریکا نے ان کے سروں سے ہاتھ اٹھا لیا ہے -دوسری جانب زمین روز بروز ان پر تنگ ہوتی جارہی ہے-اس لیے وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں-ان کا داعش کی حمایت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے-صوبہ تخار میں انہیں جہازوں کون بٹھا گیا؟صوبہ ننگرہار میں انہیں اسلحہ کون فراہم کرتا تھا؟

امارتِ اسلامیہ نے کبھی کسی عوامی جگہ کو ٹارگٹ نہیں کیا ہے-کابل یونیورسٹی ہو یا کوئی تعلیمی اور عوامی مرکز امارتِ اسلامیہ اس سے یکسر بری ہے-البتہ دشمن نے ہمیشہ عوام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے انتقام کے لیے ہم نے دشمن کو ہی نشانہ بنایا ہیں اور اب بھی تیار ہیں-

کابل یونیورسٹی پر حملہ بلاشبہ ایک اندوہناک واقعہ ہے-اس سے پہلے کوثر تعلیمی سینٹر،قندز میں بمبار اور تازہ دنوں میں مسجد کے اندر پیش امام اور پڑھنے والے بچوں پر بمباری کرنا یقینا ایک بڑا جرم ہے-اور سب کے سب عوام کا مالی اور جانی نقصان ہے-ان میں کوئی بھی جنگ کا حصہ دار نہیں ہے-اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کابل انتظامیہ بڑے فخر سے اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتی ہے-اور ان مظلوموں کو دہشت گردوں سے تعبیر کرتی ہے-

ہمارااصول یہ ہے کہ ہم کبھی ایسی پلاننگ نہیں بناتے جس میں عوام کو جانی یا مالی نقصان پہنچ جائے؛کیونکہ ایک عام انسان کو قتل کرنا اور نقصان پہنچانا ناجائز اور حرام ہے-کوئی مجاہد،کوئی طالب اور کوئی دین سے واقفیت رکھنے والا شخص ایسا اقدام سوچ بھی نہیں سکتا-ایسا کبھی ہوا ہے اور نہ ہی کوئی ثابت کرسکتاہے-یہ جنگی اصول کی خلاف ورزی ہے جس کاارتکاب ہم کبھی نہیں کرتے-

جنگ بندی کرنے کے لیے ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں -اور یہ دیکھ رہے ہیں کہ مذاکرات میں جانبِ مقابل کس حد تک سنجیدہ اور مخلص ہے؟ جس حد تک حالات ٹھیک ہونگے اور ہمیں سنجیدگی نظر آئے گی اس حد تک ہم اپنی اسٹرایٹیجی کو تبدیل کریں گے-اس وقت اور موجودہ حالات میں ہم اگر جنگ بندی کریں گے جبکہ کابل انتظامیہ صدارتی محلات میں عیش وعشرت کررہی ہے اور ہم پہاڑوں اور محاذوں پہ ہیں پھر تو یہ لوگ کبھی امن کے قیام میں سنجیدگی نہیں دکھائیں گے-چھوٹی چھوٹی باتوں پر رکاوٹیں کھڑی کردیں گے-جس طرح اس وقت کابل انتظامیہ امریکا کے ساتھ کیے گئے معاہدہ کو سرے سے بنیاد ہی تسلیم کرنے سے انکار کررہی ہے گویا معاہدہ کا وجود ہی نہیں ہے- حالانکہ بین الافغان مذاکرات اس معاہدہ کی تیسری شق ہے- اور اسی بنیاد پر انٹراافغان ڈائیلاگ شروع ہوئی ہے-اگر ان پر یہ عسکری دباو نہیں ڈالاجائے گا پھر تو افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے فلسطین کے مسئلہ کی طرح مزید گنجلک اور گھمبیر ہوگا اور مدتوں چلے گا-اور اس مظلوم قوم کو کبھی امن نہیں ملے گا-عیش وعشرت کے مزے اڑانے والے یوں ہی مزے اڑاتے رہیں گے اور بات بات پر روڑے اٹکاتے رہیں گے-

افغانستان کے قضیہ کے حل کے لیے ہمارے پاس دو ہی طریقے ہیں: ایک تو مفاہمت کا طریقہ ہے جس پر ہم یقین رکھتے ہیں اور اسی کے لیے ہم نے قطر میں سیاسی دفتر کھول رکھا ہے اور اس میں ایک مضبوط اور طاقتور ٹیم بٹھا رکھی ہے جس کا بنیادی مقصد ہی مفاہمت سے مسائل کا حل نکالنا ہے -اس لیے اگر کوئی شخص مفاہمت کو واقعتا حل سمجھتا ہے تو آئیے! ہمارے دروازے کھلے ہیں-لیکن اگر کوئی مفاہمت اور ڈائیلاگ پر یقین نہیں رکھتا اور اس میں اخلاص نہیں کرتا تو اس کے لیے پھر دوسرا طریقہ مزاحمت اور عسکری جد وجہد کا واحد طریقہ ہے-یہ وہ طریقہ ہے جسے اللہ عزوجل نے کامیابی کا راستہ قرار دیا ہے اور یہ وہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے ہم ان مظالم اور دباو سے گلو خلاصی پاسکتے ہیں جو اس وقت ہم پر ڈھائے جارہے ہیں-اسی ہی کے ذریعہ ہم اپنے عوام کو پہنچنے والے ان نقصانات کا سدباب کرسکتے ہیں جن میں وہ اس وقت گھیرے ہوئے ہیں-اس طرح ہم کبھی جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوسکتے کہ فسادی ٹولہ محلات اور قصور میں بیٹھ کر فساد پھیلاتے رہیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں-

کابل انتظامیہ ہم پر تشدد کاالزام لگاتی ہے مگر خود جو سر سے ہاوں تک فسادات میں ڈوبی ہے انہیں وہ کیوں نظر آتا؟ اس وقت افغانستان مین چوروں اور ڈاکووں نے کیا حالت بنارکھی ہے؟ بدمعاشوں اور لفنگوں کی وجہ سے قوم کن مشکلات کاسامنا کررہی ہے؟کابل انتظامیہ کے غنڈے اپنوں کے ساتھ کیا رویہ اپناتے ہیں؟ہم اپنی قوم کو اس ناسور سے چھڑانا چاہتے ہیں-

Related posts