دسمبر 01, 2020

افغانستان اکتوبر 2020 میں

افغانستان اکتوبر 2020 میں

تحریر: احمد فارسی

نوٹ: یہ تحریر ان واقعات اور نقصانات پر مشتمل ہے جن کا دشمن نے بھی اعتراف کیا ہے۔ مزید اعداد و شمار دیکھنے کے لئے امارت اسلامیہ کی آفیشل ویب سائٹ کا وزٹ کیجئے۔
ماہ اکتوبر میں مجاہدین ایک بار پھر کابل انتظامیہ کی فورسز کے خلاف سخت جنگ لڑنے اور انہیں بھاری نقصان پہنچانے پر مجبور ہوئے، اس کے علاوہ اس ماہ کے دوران دشمن کے سینکڑوں اہل کاروں کی ہلاکتوں کے علاوہ متعدد اضلاع بھی فتح ہوگئے، جب کہ سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد مجاہدین میں شامل ہوگئی۔ ماہ اکتوبر کے اہم واقعات اور فتوحات مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت دیکھے جا سکتے ہیں۔
افغان فورسز کے نقصانات:
رواں سال کے پچھلے مہینوں کے مقابلے میں اکتوبر میں دشمن کو زیادہ جانی نقصان ہوا۔ یہاں دشمن کے بڑے نقصانات کی ایک فہرست پیش کی جائے گی۔ 7 اکتوبر کو صوبہ لغمان کے ضلعی گورنر اور بغلان میں پولیس چیف کو ہلاک کردیا گیا، 8 اکتوبر کو غزنی جیل کا نائب سربراہ مارا گیا۔ 10 اکتوبر کو مجاہدین نے کابل کے ضلع پغمان میں مجاہدین شہدا کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والے کمانڈر کو ہلاک کردیا۔ 17 اکتوبر کو صوبہ بلخ میں افغان فوج کا ایک سینئر کمانڈر، صوبہ پروان کے ضلع سالنگ کا مجرم کمانڈر اور ضلع بلوک کا کمانڈر مجاہدین نے الگ الگ واقعات میں ہلاک کردیا۔
19 اکتوبر کو پکتیا کے ضلع زازی میدان کے ضلعی گورنر اور 20 اکتوبر کو نیمروز اور غزنی صوبوں میں دو کمانڈر مارے گئے۔ 21 اکتوبر کو صوبہ تخار کے پولیس چیف اپنے درجنوں اہل کاروں سمیت مجاہدین کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوگئے۔ 24 اکتوبر کو صوبہ کاپیسا کے ضلع الہ سائی کا سیکیورٹی چیف اور 30 اکتوبر کو پکتیا بارڈر رجمنٹ کے سربراہ کو ہلاک کردیا گیا۔
دوسری طرف 9 اکتوبر کو قندہار میں دو جیٹ طیارے آپس میں ٹکرا گئے، 14 اکتوبر کو ہلمند کے ضلع ناوہ میں دشمن کے دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے اور گر کر تباہ ہوگئے ، اس واقعے میں پائلٹوں سمیت تمام ہیلی کاپٹر سوار ہلاک ہوگئے۔ 17 اکتوبر کو قندھار میں حملہ آوروں کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہوا۔
نہتے شہریوں پر تشدد:
2 اکتوبر کو افغان فوجیوں نے صوبہ بلخ میں عام شہریوں کے مکانات کو تباہ کردیا۔ 10 اکتوبر کو صوبہ زابل میں کابل انتظامیہ کی بمباری میں ایک مسجد کو شہید کیا گیا۔ 13 اکتوبر کو کابل انتظامیہ کے خلاف صوبہ بلخ کے عوام نے ایک احتجاجی ریلی نکالی اور مظاہرہ کیا، مظاہرے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان فوجیوں نے عام لوگوں کے گھروں پر گولہ باری کی اور انہیں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کردیا ، اسی دن قندھار میں سیکورٹی فورسز کی گولہ باری سے گیارہ افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ 16 اکتوبر کو صوبہ تخار میں دشمن کی بمباری کے نتیجے میں ایک خاندان کے پانچ افراد شہید ہوئے۔ 22 اکتوبر کو افغان فضائیہ نے تخار میں ایک مسجد پر بمباری کی جس میں قرآن پاک پڑھنے والے 12 بچے شہید اور 18 بچے زخمی ہوئے۔
مذکورہ بالا دلخراش واقعات مظلوم اور غریب عوام کے خلاف کابل انتظامیہ کی درندگی کی ایک مثال ہے، نہتے شہریوں پر سیکورٹی فورسز کے مظالم اور تمام واقعات کی تفصیلات امارت اسلامیہ کی آفیشل ویب سائٹ میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
ہتھیار ڈالنا:
کابل انتظامیہ کی سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں کی امارت اسلامیہ میں جوق درجوق شمولیت کا نہ تھمنے والا سلسلہ ماہ اکتوبر میں بدستور جاری رہا، 14 اکتوبر کو امارت اسلامیہ نے ایک بیان جاری کیا کہ کابل انتظامیہ کے تیرہ سو (1300) اہل کاروں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، آئیے ماہ اکتوبر میں ہونے والے ایسے واقعات کی مثال پیش کرتے ہیں۔
5 اکتوبر کو صوبہ جوزجان میں کابل انتظامیہ کے 7 اہل کار، صوبہ ہرات میں ایک اربکی کمانڈر اپنے 50 رکنی گروپ کے ساتھ مجاہدین میں شامل ہوئے۔ 9 اکتوبر کو کابل انتظامیہ کے 75 فوجی مجاہدین کے ہتھے چڑھ گئے۔ اسی دن صوبہ پکتیا میں کابل انتظامیہ کے 6 اہل کار مجاہدین میں شامل ہوگئے۔
11 اکتوبر کو کابل انتظامیہ کے درجنوں فوجی صوبہ بلخ میں مجاہدین میں شامل ہوئے، 12 اکتوبر کو قندھار اور روزگان صوبوں میں دشمن کے 41 مسلح اہل کاروں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا، 14 اکتوبر کو پکتیا میں 15 اور خوست میں 31 فوجیوں نے کابل انتظامیہ کی صف سے علحیدگی اختیار کر کے امارت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی، 15 اکتوبر کو بغلان کے ضلع نہرین میں کمانڈر کوتر اپنے درجنوں اہل کاروں سمیت کابل انتظامیہ کی حمایت سے دستبردار ہو گئے۔ 16 اکتوبر کو بغلان میں 23 فوجیوں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ 23 اکتوبر کو قندھار میں 30 مسلح اہل کار مجاہدین میں شامل ہوگئے۔ 29 اکتوبر کو صوبہ روزگان کے ضلع دہرادود میں مجاہدین نے ایک کمانڈر کو گرفتار کر لیا اور 31 اکتوبر کو روزگان اور قندھار میں دشمن کے 38 فوجیوں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
الفتح آپریشن:
یکم اکتوبر کو صوبہ ہلمند میں آپریشنل سنٹر پر مجاہدین نے کامیاب حملہ کیا جس میں دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، 3 اکتوبر کو صوبہ ننگرہار کے ضلع شینواری پر بھاری کار بم حملہ ہوا جس میں ضلعی ہیڈ کوارٹر تباہ کردیا گیا اور دشمن کے درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ 7 اکتوبر کو مشترکہ دشمن نے صوبہ ہلمند میں مجاہدین پر حملہ کیا، جوابی کارروائی میں دشمن کو بھاری نقصان ہوا۔ اسی روز صوبہ زابل میں بھی مجاہدین کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔
11 اکتوبر کو صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکر گاہ کے حلقہ نمبر 4 کو مجاہدین نے فتح کرلیا اور اگلے دن مجاہدین تیسرے حلقہ میں داخل ہوگئے، اسی دن ہرات کے ضلع کرخ اور تخار میں متعدد چوکیاں فتح ہوگئیں۔ 15 اکتوبر کو ایک دھماکے میں زابل کا پولیس اسٹیشن تباہ ہوگیا اور اسی وقت ہرات میں دشمن کا ایک فوجی اڈہ مجاہدین کے حملے میں تباہ ہوا۔ 23 اکتوبر کو بدخشان کے صوبائی دارالحکومت میں ایک جھڑپ کے دوران دشمن کے 23 فوجیوں کو مجاہدین نے گرفتار کر لیا، اگلے روز صوبہ غور میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر کار بم حملے کا واقعہ پیش آیا ، جس میں ضلعی ہیڈ کوارٹر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور دشمن کو بھاری نقصان ہوا۔
23 اکتوبر کو مجاہدین نے صوبہ تخار کے ضلع اشکمش کی فتح کا اعلان کیا۔ 27 اکتوبر کو مجاہدین نے صوبہ خوست میں اسپیشل فورسز کے اڈے پر ہلاکت خیز حملہ کیا جس میں درجنوں اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
جارحیت کا انیسواں سال:
7 اکتوبر کو امریکہ اور نیٹو افواج کی حارحیت کے 19 برس مکمل ہو گئے، انیس سال قبل آج کے دن امریکہ سمیت 48 ممالک کی افواج نے ہمسایہ ممالک کی مدد سے افغانستان پر حملہ کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے افغان حامیوں کی مدد سے یہاں افغانستان میں اپنا نظام افغانوں پر مسلط کردیں گے اور امن سے ہمیشہ کے لئے وہ یہاں قابض رہیں گے لیکن افغان عوام نے امارت اسلامیہ کی قیادت میں امریکی جارحیت کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور 19 سال تک ان کے خلاف یہ معرکہ جاری رکھا اور آخرکار قابض دشمن افغان مجاہد عوام کی مزاحمت کے خلاف گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا اور جارحیت کے خاتمہ کے لئے امن کا راستہ اختیار کیا۔

Related posts