دسمبر 01, 2020

کابل یونیورسٹی پر ہونےوالے منحوس حملے کےمتعلق ترجمان کا بیان

کابل یونیورسٹی پر ہونےوالے منحوس حملے کےمتعلق ترجمان کا بیان

کابل یونیورسٹی پر ہونےوالے منحوس حملے کےمتعلق امارت اسلامیہ کے ترجمان کا بیان

کابل یونیورسٹی پر چند افراد کے حملے کی المناک اطلاع ملی،جس سے یونیورسٹی کے طلبہ اور عام شہریوں کو نقصان پہنچا ہے۔

امارت اسلامیہ اس حملے،کچھ عرصہ قبل تخار میں مسجد پر فضائی حملے،جو متعدد طلبہ بچوں کے جانی نقصان کا سبب بنا اور چند روز پہلے کابل میں کوثر نامی تعلیمی مرکز پر وحشت ناک حملوں کی الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ اللہ تعالی شہداء کو مغفرت اور زخمیوں کو فی الفور شفا عطا فرمائے اور ان کے خاندانوں کو دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتی ہے۔

بےشک ایسے حملے  ان شریر عناصر کی جانب سے انجام ہوتے ہیں، جنہیں ننگرہار اور جوزجان میں شکست دیے جانے کے بعد کابل انتظامیہ نے پناہ دی ہے،انہیں مہمانوں میں ٹہراتے ہیں اور بعد میں انہیں اس طرح حملوں کے لیے بھرتی کرتے ہیں۔ان کی حمایت اور رہنمائی کرتے ہوئے ان کے لیے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

یہی مقامات  فوجی مرکز، یونٹ اور یا کوئی فوجی ٹارگٹ نہیں ہے،جس پر اس طرح حملوں کو جائز قرار دیا جائے، بلکہ صرف دہشت دکھانے، خوف پھیلانے اور پیگنڈہ کرنے کی غرض سے کیے جاتے ہیں۔

چوں کہ کابل انتظامیہ کے اعلی حکام شرمندگی کا احساس کرنے کی بجائے اس کی ذمہ داری امارت اسلامیہ کو منسوب کررہا ہے، اس سے بھی ظاہر ہورہا ہے کہ یہی حملے اسی طرح پروپیگنڈے کے مواد مہیا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر انجام دیے جاتے ہیں۔

مگر الحمدللہ افغان مسلمان قوم امارت اسلامیہ کو  قریب اور اچھی طرح جانتی ہے  اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے مجاہدین کبھی بھی تعلیمی مرکز، عوامی مقامات اور ایسے محل پر حملہ  نہیں کرتے،جہاں کوئی فوجی ہدف نہ ہو۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

16 ربیع الاول 1442 ھ بمطابق 02 نومبر 2020 ء

Related posts