نومبر 23, 2020

غزنی اور تخار میں شہداء کی اجساد کی بےحرمتی کےبارے امارت اسلامیہ کے ترجمان کا بیان

غزنی اور تخار میں شہداء کی اجساد کی بےحرمتی کےبارے امارت اسلامیہ کے ترجمان کا بیان

کابل انتظامیہ کی فوجوں نے غزنی اور تخار صوبوں میں امارت اسلامیہ کے شہید ہونے والے مجاہدین کی اجساد کی بےحرمتی کی ہے۔

چند روز قبل صوبہ غزنی ضلع گیلان کے جنڈہ کے علاقے میں امارت اسلامیہ کے چند مجاہدین فضائی حملے میں شہید ہوئے،جن کی اجساد کو کابل انتظامیہ کی وحشی افواج نے قبضے میں لیا۔

فوجیوں نے ایک شہید سے کپڑے اتار کر انہیں درخت سے لٹکادیا، دیگر شہداء کی بھی بےحرمتی کرتے ہوئے ان کی تصویر سوشل میڈیا میں شائع ہوئیں۔

اسی طرح دو روز قبل صوبہ تخار ضلع چال میں معاذ نامی مجاہد کو زخمی حالت میں دشمن نے گرفتار کرکے نہایت درندگی اور ظلم کی حالت میں انہیں شہید کردیا،ان کی آنکھیں نکال دیے، دونوں کان  کاٹ اور چہرے کو خراب (مثلہ) کیا۔

غلام دشمن کے اس وحشت ناک عمل کی امارت اسلامیہ شدیدترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے  اور اسے  دشمن کی وحشت کے اظہار کی آخری حد سمجھتی ہے۔

تمام انسانی اور حقوقی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ غلام دشمن کے اس انسانی کرامت کے خلاف عمل کی مذمت کریں۔

امارت اسلامیہ کے مجاہدین غلام دشمن کی صفوف میں ان تمام شریر کمانڈروں اور فوجیوں کی شدید نگرانی شروع کردیگی، جو اس طرح جرائم کے پس پردہ ملوث ہیں۔

ان جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ اسلام کے حکم کے مطابق فی الفور برتاؤ کیاجائے گا اور انہیں سخت سزا دی جائیگی۔ ان شاءاللہ

غلام دشمن نے بار بار ہمارے شہداء کی اجساد کی بےحرمتی کی ہے،انہیں ٹینکوں اور گاڑیوں سے گھسیٹ کر  کلہاڑیوں سے ٹکڑے ٹکڑے کیے  ہیں۔

اس طرح اقدامات دشمن کی مایوسی،انتشا اور بیزار ہونے کی واضح دلائل ہیں،جن سے کابل کے غلام دست و گریبان ہیں۔

دشمن کی جانب سے اس طرح اعمال ایسے وقت میں دہرارہے جارہے ہیں،جب امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی جانب سے دشمن کی زخمی فوجی علاج معالجہ کی غرض سے رہا کیے جاتے ہیں، ہلاک شدہ گاں کی لاشوں کو نہایت احترام سے ان کے ورثاء کے حوالے کیے جاتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

09 ربیع الاول 1442 ھ بمطابق 26 اکتوبر 2020 ء

Related posts