نومبر 29, 2020

جعلی بہانوں سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا

جعلی بہانوں سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا

آج کی بات

کابل انتظامیہ کے بے رحم اور بے ضمیر حکام نے امن اور بین الافغان مذاکرات کے جاری عمل کو مزید غیر مستحکم کرنے کے لئے عجیب و غریب بہانوں اور خودساختہ واقعات کی منصوبہ بندی کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔
کابل حکومت کے کٹھ پتلی حکام نے ان خودساختہ واقعات کی منصوبہ بندی کرنے اور مذاکراتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے سلسلے میں گذشتہ روز کابل کے دشت برچی کے علاقے میں کوثر نامی سائنسی مرکز پر داعش کے ذریعے ایک المناک حملہ کیا جس کے باعث درجنوں ملکی شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ اس وقعہ سے دو دن پہلے کابل انتظامیہ کی وحشی ملیشیا نے صوبہ تخار کے ضلع بہارک میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا جس میں قرآن پاک کے درجنوں حفاظ اور طالبان شہید ہوگئے۔
امارت اسلامیہ نے کابل کے کوثر سنٹر پر حملے کی واضح اور شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق مسترد کر دیا۔
لیکن کابل انتظامیہ کے بے شرم ترجمانوں نے دونوں واقعات کو میڈیا کے ساتھ شیئر کیا اور کوثر سینٹر پر حملے میں امارت اسلامیہ کو ملوث قرار دینے کی کوشش کی، نیز تخار میں شہید شدہ مسجد اور معصوم بچوں کی شہادت کو نظرانداز کیا گیا، اس مسجد کو فوجی اڈہ اور حفاظ کرام کو مسلح مجاہدین قرار دیا گیا۔
کابل انتظامیہ کے جھوٹے ترجمانوں نے میڈیا کو بتایا کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا احترام نہیں کیا اور انہوں نے حملے تیز کردیئے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا اور افغان عوام اس سے بخوبی واقف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کابل انتظامیہ تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، اب وہ جتنا بھی جعل سازی اور فریب کاری کرے مگر کوئی بھی اس پر یقین نہیں کرتا ہے۔
امارت اسلامیہ جو کہتی ہے، اس پر سختی سے عمل کرتی ہے اور اس کا بھرپور دفاع کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ دن پہلے صوبہ تخار میں 100 سے زائد کمانڈوز جنہوں نے شہریوں کو مارنے ، اذیت دینے اور ہراساں کرنے اور مظلوم لوگوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا، کو سزا دی گئی اور امارت اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کی اور بڑی جرات کے ساتھ اپنے ان اقدامات کا دفاع کیا، چونکہ کابل کے کوثر سینٹر پر ہونے والے حملے سے امارت اسلامیہ کا کوئی تعلق نہیں ہے لہذا بڑی وضاحت کے ساتھ اعلان کیا کہ اس واقعہ کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ بات اسلام اور افغانستان کے دشمنوں کو معلوم ہونی چاہئے کہ اب آپ تباہی اور مٹنے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ فریب اور جعل سازی کی تمام سازشیں ناکام ہوئیں، آپ کے آقاوں نے آپ کے اوپر سے حمایت کا ہاتھ اٹھا لیا، آپ کے لئے افغان عوام کے درمیان کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی ہمدردی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح کی جعل سازیوں اور داعش ملیشیا کے جرائم کے ذریعے مغرب ، امریکہ اور دوسرے ممالک کی ہمدردی کو حاصل کریں گے یا آپ کو افغانوں کا کچھ تعاون ملے گا۔ تو آپ کا ایک خواب اور خیال اور جنون ہوگا جس سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
بہتر یہ ہے کہ وہ افغان عوام کی دشمنی اور قتل عام سے گریز کریں اور اپنے آقاؤں کے انجام اور حالت سے عبرت حاصل کریں۔

Related posts