نومبر 29, 2020

بین الافغان مذاکرات اور ایوانِ صدر سے ہرزہ سرائیاں

بین الافغان مذاکرات اور ایوانِ صدر سے ہرزہ سرائیاں

تحریر: ہارون بلخی

افغانستان پر چار دہائیوں سے جنگ مسلط ہے۔جنگ کا آغاز سابق سوویت یونین نے کیا،جو  تقریبا 14 سال تک جاری رہی۔جس  میں لاکھوں افغان شہید، زخمی، معذور، قید، مہاجر اور لاپتہ ہوئے۔جب روس کی شکست اور نجیب کٹھ پتلی رژیم کا خاتمہ ہوا،  تو مجاہدین کابل میں داخل ہوکر آپس میں لڑ پڑے، جس سے خانہ جنگی شروع ہوئی، جو پانچ سال تک جاری رہی۔ اس دوران طالبان کا ظہور ہوا اور اس تحریک نے خانہ جنگی ختم کردی۔ ملک کے 90 فی صد  رقبے پر امن و امان برقرار اور اسلامی نظام نافذ کردیا گیا۔  لیکن کچھ مفادپرست عناصر ،اسلام دشمن قوتوں  اور بیرونی ممالک کے مخبروں کو افغانستان میں امن و امان اور عوام کی پرسکون زندگی پسند نہ تھی۔ طالبان کی حکومت  گرانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے رہتے، لیکن بار بار انہیں شرمندگی اور ناکامی کا سامنا ہوتارہا، کیوں کہ افغان قوم طالبان کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، آخر کار نیویارک اور واشنگٹن میں نائن الیون کا واقعہ پیش آیا، امریکا  نے تحقیقات کے بغیر طالبان کواس کا مورد الزام ٹھہرایا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت سے دنیابھر کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس مغربی ممالک نے افغانستان پر حملہ کیا اور یہاں ایک خونریز لڑائی کا سلسلہ شروع ہوا، جو تقریبا 19 سال تک جاری رہا۔جس میں لاکھوں افغان شہری شہید، زخمی، بےگھر، معذور اور لاپتہ ہوئے۔ وحشت کی اس لہر نے ایسے مظالم انجام جنم دیے،جن کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔شادی کی تقریبات، عوامی اجتماعات، جنازے، بازار وغیرہ کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، لیکن افغان قوم اپنی جدوجہد سے ایک قدم بھی  پیچھے نہ ہٹی۔ آخر کار امریکا نے ہوش سے کام لیا اورحقائق کا  ادراک کرتے ہوئے جنگ کی بجائے مذاکرات کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔

فروری 2018ء کو طالبان اور امریکا کے درمیان قطر میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، جو 11 مہینے تک جاری رہا، جس میں بہت سے نشیب و فراز آئے اور آخر کار فریقین کے درمیان فروری 2019ء کو معاہدہ ہوا،جس کی رو سے امریکی افواج 14ماہ میں افغانستان سے انخلا کریں گے۔ افغان سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کی جائیگی۔دس دن کے اندر اندر  کابل کی جیلوں میں قید5000 طالبان قیدیوں کو امریکا رہا کرے گااور طالبان کے حراستی مراکز میں بند ایک ہزار فوجیوں کو طالبان رہا کرینگے۔اس کے فورا بعد بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ شروع ہوگا۔ لیکن بدقسمتی سے کابل انتظامیہ کے حکام   بین الافغان مذاکرات کو سپوتاژ کرنے کے لیے مختلف بہانے تراشتے رہے ۔ کبھی انس حقانی کی رہائی  سرخ لکیر، کبھی جارح افواج کے قاتلوں کی رہائی    ریڈ لائن ، کبھی مغرب سے درآمدہ شدہ آئین  کے تحفظ، کبھی نام نہاد ڈیموکریسی ، کبھی حقوق نسواں وغیرہ  میڈیا کی شہ سرخیاں بنتی رہی  اور یہ سلسلہ چھ ماہ تک جاری رہا۔ لیکن آقا کی ایک کال سے تمام لکیریں عبور اور ان کی دھمکیاں ختم ہوگئیں۔

آخرکار 12 ستمبر 2020ء کومملکت قطر کے صدر مقام دوحہ شہر میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوا،جس میں افغانستان سے آنے والے افراد اور طالبان شریک ہیں۔مذاکرات تادم تحریر جاری ہیں،جس میں اب تک پیشرفت کی اطلاع ملی ہے،البتہ بعض ذرائع مذاکرات کے نتائج کے لیے پرامید ہیں،تاہم میڈیا کی رپورٹ تاحال موصول نہ ہوسکیں۔مذاکرات سپوتاژ کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے کچھ خودغرض حلقے کوششیں کررہے ہیں، مگر افغان عوام اسے  نظر انداز کررہے ہیں، کیوں کہ وہ غیرذمہ دار افراد ہیں۔غیرذمہ دار افراد کی کوششیں رائیگاں ہوتی ہیں۔افغانوں کو امن کی اشد ضرورت ہے،جسے ملحوظ رکھنا چاہیے،ہم حالات کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ طالبان نے امن کے حوالے سے اپنی حسن نیت اور صداقت کا اظہار کیا ہے۔اب تک اپنی فوجی، سیاسی اور میڈیا  کےذمہ داروں کو امن عمل کو نقصان پہنچانے والے اعمال سے منع کیا ہے، جنگ  محدود اور بڑے حملے  روک دیے ہیں،صرف دفاعی حالت میں ہیں۔اس کے  برعکس کابل انتظامیہ امن عمل کو مؤخر اور  جنگ جاری رکھنے  پر اصرار کررہی ہے،تاکہ اپنے ذاتی مفادات کو محفوظ رکھ سکیں۔ اس  سلسلے میں بدقسمتی سے کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے دو سیکریٹریز امراللہ صالح اور سرور دانش ایوان صدر میں موجود اور وہاں سے امن کے خلاف صدائیں بلند کررہے ہیں۔

21 ستمبر امن کا عالمی دن تھا، اس دن ایوان صدر میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا،جس سے مختلف افراد نے خطاب کیا،جن میں کابل انتظامیہ کے نائب صدر امراللہ صالح بھی شامل تھے۔انہوں نے ابتدا میں امن کے حوالے سے بات چیت کی اور پھر ایک 180 ڈگری  مکر گیا ۔ طالبان ،امن عمل اور اسلامی نظام کے نفاذ کو شدید تنقید کا  نشانہ بنایا۔ بین الافغان مذاکرات کے شرکاء کا خیرمقدم کرنے کی بجائے طالبان رہنماؤں پر لفظوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔ ان پر اجنبی ،غلام، کٹھ پتلی وغیرہ کے الزامات لگائے۔ اشرف غنی  ان کے سامنے بیٹھے اور تالیاں بجا رہے ہیں۔

دوسری جانب کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے ایک دن کے بعد دونوں نائبین کے ہمراہ بامیان کا دورہ کیا۔ وہاں غنی کے خطاب کے بعد امراللہ صالح نے معمول کے مطابق ہرزہ سرائی کی اور عوام میں نفرت کی بیج بونے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن سب سے مضحکہ خیز اور قابل نفرت گفتگو اشرف غنی کے دوسرے سیکریٹری سرور دانش نے کی۔ انہوں نےنہ صرف امن عمل کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کی، بلکہ عظیم فاتح احمدشاہ ابدالی اور ان کے خاندان کی شان میں گستاخی کی،جس سے ملک بھر میں غم وغصہ پایا گیا اور ہزارہ برادری کے خلاف عوام میں نفرت کی لہر دوڑ گئی۔اپنے اشتعال انگیز بیان میں سرور دانش نے طالبان رہنماؤں کی توہین  کی اور فرقہ ورانہ جنگ چھیڑنے کےلیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔

اگر میڈیا کی ٹاک شوز پر نگاہ ڈالی جائے، تو امن عمل میں رخنہ ڈالنے کے لیے ان نام نہاد دانشوروں کو گفتگو کے لے بلایا جاتا ہے جو سرکار کے اعلی عہدوں پر فائز اور جنگ طلب ہیں،جن کے خاندان مغربی ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور وہ افغان قوم کا سرمایہ کو لوٹنے کے لیے ہی یہاں بیٹھے ہیں۔ ایک روز قبل ایک سیاسی تجزیہ نگاراحمد سعیدی نے طالبان پر شدید تنقید کے علاوہ اسلامی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ایک پسماندہ اور موجودہ دنیا کے قوانین سے متصادم نظام کہا۔اس سے قبل ایک ٹی وی ٹاک شو میں سابق کمیونسٹ اور اشرف غنی کے دست راست انجینئر فکور نے برملا کہا کہ  حقوق نسواں اسلام کی روشنی میں، آزادی اظہار اسلام کی روشنی میں وغیرہ وغیرہ اسلام کی روشنی میں آخر موجودہ ڈیموکریسی اور ہمارا آئین کس لیے؟

اس نوعیت کی ہرزہ سرائیاں اور بےبنیاد الزامات نہ صرف امن عمل کو نقصان پہنچاسکتے ہیں، بلکہ ملک میں فرقہ وارنہ تشدد اور جنگوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔جو ملک اور قوم کے لیے تباہ کن اور مضر ثابت ہونگے۔ بیرونی ممالک کے مسلط کردہ حکمرانوں کو جوش کی بجائے ہوش  کا احساس کرنا چاہیے۔اپنے ذاتی مفادات کے بدلے قومی اور ملکی منافع کو مدنظر رکھنا چاہیے۔اس طرح دھمکیوں اور چہ میگوئیوں سے افغان قوم کی نمائندگی کرنے والے طالبان رہنما مرعوب نہیں ہونگے۔ ان کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔ جس طرح افغان قوم کی قیادت میں  امریکا،نیٹو اور مغربی ممالک کا کئی سالوں تک مقابلہ کیا، اس سے بڑھ کر اجنبی غلاموں کے مقابلے کے لیے کمربستہ ہیں۔

اللہ تعالی عالم اسلام اور خصوصا افغانستان میں امن قائم فرمائے۔ مسلمانوں اور خاص کر افغانوں کو امن وسکون اور آرام دہ زندگی نصیب فرمائے اور انہیں دشمنوں کےدھوکہ سے حفظ و امان  میں رکھے۔

بشکریہ ماہنامہ شریعت

Related posts