نومبر 23, 2020

لوگر،بلخ، میدان،غزنی وپکتیا، 17 ہلاک، 6 سرنڈر

لوگر،بلخ، میدان،غزنی وپکتیا، 17 ہلاک، 6 سرنڈر

کابل انتظامیہ کے سیکورٹی اہلکاروں پر امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے لوگر، بلخ، میدان اور غزنی صوبوں میں حملہ کیا، جب کہ صوبہ پکتیا میں 6 پولیس اہلکار مخالفت سے دستبردار ہوئے۔

تفصیل کے مطابق صوبہ لوگر کے صدر مقام پل علام شہر کے زرداد قلعہ کے علاقے میں رات کے وقت مجاہدین نے پولیس چوکی پر حملہ کیا،جس میں 6 اہلکار زخمی ہوئے اور تازہ دم اہلکاروں کور مزاحمت کا سامنا ہوا،لیکن تفصیل فراہم نہ ہوسکی، جب کہ پوچک قلعہ کے علاقے میں فوجی کاروان پر ہونے والے حملے میں ایک ٹینک تباہ اور اس میں سوار 6 کمانڈو ہلاک ہوئے۔اسی طرح ضلع محمدآغہ کے شاہی کے علاقے میں مجاہدین کے حملے میں 2 جنگجو مارے گئے۔

صوبہ بلخ سے موطولہ رپورٹ کے مطابق ضلع زارع کے مرکز کے قریب مجاہدین کے حملے میں ایک ٹینک تباہ، ایک فوجی ہلاک، ایک زخمی ہوا اور ضلع چاربولک کے سبزی کار کے علاقے میں مجاہدین نے فوجی ٹینک کو توپ کا نشانہ بناکر تباہ کردیا۔اسی طرح ضلع خاص بلخ کے ہیواد کے علاقے میں چوکی پر لیزرگن حملے میں ایک فوجی ہلاک، جب کہ ضلع شورتپہ کے قریب پولیس چوکی پر ہونے والے حملے میں 3 اہلکار ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ میدان ضلع چک کے مرکز اور پولیس چوکی کے درمیانی علاقے میں بم دھماکوں سے ایک فوجی ہلاک، 2 زخمی ہوئے، جب کہ ضلع سیدآباد کےمرکز اور  ڈاگبغری  کے علاقے میں کمانڈو کے کاروان پر حملوں کے دوران ایک کمانڈو ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

دوسری جانب صوبہ غزنی ضلع جغتو کے آہنگرخیل کے علاقے میں رات کے وقت پولیس چوکی پر لیزرگن حملے میں 2 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

کمیشن برائے دعوت و ارشاد امارت اسلامیہ کے عہدیداروں کی جدوجہد کے نتیجے میں صوبہ پکتیا ضلع سیدکرم کے رہائشی 6سیکورٹی اہلکاروں سلیمان، گلبدین، محمداشرف، نیازئی، ولی خان اور صدام نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوئے۔

Related posts