نومبر 29, 2020

دوحہ معاہدے سے انحراف

دوحہ معاہدے سے انحراف

تحریر: سیف العادل احرار

امارت اسلامیہ اور امریکہ نے ایک دوسرے پر دوحہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے ہیں، امارت اسلامیہ کے ترجمان قاری محمد یوسف احمدی نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی فوج صوبہ ہلمند میں میدان جنگ سے باہر بمباری کرکے مجاہدین اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے جوکہ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے، دوسری جانب افغانستان میں امریکی فوج کے اعلی کمانڈر اسکاٹ میلر اور زلمی خلیل زاد نے اپنے ٹویٹئر پیغامات میں کہا ہے کہ طالبان نے ہلمند میں افغان فورسز کے خلاف جنگ میں شدت لائی ہے جو امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس سے امن عمل کو دھچکہ لگ سکتا ہے اور امن مخالف عناصر اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
دوحہ معاہدے میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ میدان جنگ میں افغان فورسز کی مدد کے لئے طالبان کو نشانہ بنا سکتی ہے جب کہ میدان جنگ سے باہر پرامن علاقوں میں اور جنگ کے وقت کے علاوہ مجاہدین اور نہتے شہریوں پر بمباری نہیں کرے گی۔ مجاہدین نے امریکی افواج کو واپسی کے لئے محفوظ راستہ دیا ہے جب کہ بدلے میں امریکی فوج طالبان کے ٹھکانوں، کانوائے اور ٹریننگ سینٹروں پر بمباری نہیں کرے گی۔
کیا واقعی مجاہدین نے ہلمند میں افغان سیکورٹی فورسز پر حملے کر کے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے یا حقیقت کچھ اور ہے، اس حوالے سے امارت اسلامیہ کے ترجمان محترم ذبیح اللہ مجاہد نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ پچھلے سال امارت اسلامیہ اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے دوران افغان سیکورٹی فورسز نے ہلمند میں مجاہدین کے خلاف اشتعال آنگیز کارروائیاں کیں۔ مجاہدین نے حکمت عملی کے تحت شہری علاقوں سے عقب نشینی کی، سیکورٹی فورسز جب ان علاقوں میں داخل ہوئیں تو اپنی عادت کے مطابق انہوں نے شہریوں پر تشدد اور لوٹ مار شروع کر دی، لوگ اس صورتحال سے تنگ آگئے اور متعدد بار مجاہدین سے رابطہ کیا کہ اس جبر سے انہیں نجات دلائیں، مجاہدین نے مظلوم لوگوں کو اس صورتحال سے بچانا اپنا فرض سمجھا اور ان علاقوں کو دوبارہ آزاد کرانے کے لئے چند روز قبل آپریشن شروع کر دیا، جو نہایت کامیاب رہا، چار اضلاع گرشک، نادعلی، ناوہ اور نہرسراج سے افغان فورسز نے پسپائی اختیار کی اور مجاہدین صوبائی دارالحکومت تک پہنچ گئے۔ مجاہدین کے حملے کے بعد افغان فورسز کے میدان چھوڑ کر بھاگنے کی متعدد ویڈیوز سامنے آگئیں۔
امریکی فوج نے کابل انتظامیہ کی فورسز کی مدد کے لئے امارت اسلامیہ کے مجاہدین اور نہتے شہریوں پر فضائی حملے کیے، جس سے شہری آبادی کو بھاری جانی نقصان پہنچا، لیکن مجاہدین نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بارہ دن گزرنے کے باوجود فریقین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، مجاہدین نے مختلف علاقوں میں پیش قدمی کی اور دشمن کے زیر قبضہ علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا۔
امارت اسلامیہ کے ترجمان کے مطابق صوبہ ہلمند میں بمباری کر کے امریکی فضائیہ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے، اگر امریکہ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہا تو اسے اشتعال آنگیز کارروائیوں اور بمباری کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
امریکی فوجی ترجمان کرنل سونی لیچیٹ نے طالبان کے جواب میں کہا کہ فضائی حملوں میں طالبان کے ساتھ معاہدے اور امریکہ افغان مشترکہ اعلامیہ کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، یہ کارروائی افغان فورسز کے دفاع کے لئے کی گئی جن پر طالبان نے حملہ کیا تھا۔ دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ڈاکٹر زلمی خلیل زاد نے بیان میں کہا کہ مذاکرات امن کے لئے تاریخی موقع ہیں جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہئے۔
واضح رہے کہ مجاہدین نے ملک بھر میں ماضی کے برعکس اپنے حملوں میں نمایاں کمی لائی ہے، رواں سال کے دوران انہوں نے نئے آپریشن کا اعلان نہیں کیا حالانکہ ماضی میں وہ ہر سال موسم بہار کی آمد کے موقع پر نئے آپریشن کا اعلان کرتے تھے، اسی طرح مجاہدین نے بڑے شہروں، بڑے فوجی اڈوں، چھاونیوں اور صوبائی دارالحکومتوں پر فدائی اور اجتماعی حملے نہیں کئے ہیں، پہلے فوجی حکمت عملی کے تحت بڑے فوجی اڈوں اور چھاونیوں پر فدائی حملے ہوتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ رک گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امارت اسلامیہ کی قیادت دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کے لئے پرعزم ہے۔
ایک امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں مجاہدین کی جارحانہ کارروائیوں میں اچانک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، یہ کارروائیاں دراصل دشمن کے چھاپوں اور فضائی حملوں کا ردعمل ہیں، بدخشان، فراہ، تخار، قندوز ودیگر صوبوں میں مجاہدین کی فاتحانہ کارروائیاں دفاعی اور جوابی وار ہیں، دشمن نے رہا ہونے والے قیدیوں کے گھروں پر چھاپے مارے، فراہ میں دشمن نے دو ماہ قبل بگرام جیل سے رہا ہونے والے ایک قیدی مجاہد کے گھر پر چھاپہ مارا اور سفاکیت کی انتہا کر دی جس میں مجاہد سمیت ان کے خاندان کے 12 افراد شہید ہوئے جن میں دو معصوم بچیاں بھی شامل تھیں جن کی تصویریں وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔ اسی طرح بغلان میں بھی رہا ہونے والے ایک مجاہد کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جس میں مجاہد اور ان کے والد شہید ہوگئے۔ ان اشتعال آنگیز کارروائیوں کے خلاف مجاہدین مجبور ہوکر اپنے عوام اور مجاہدین کے تحفظ کے لئے دشمن پر جوابی وار کرتے ہیں جس کی ذمہ داری دشمن پر عائد ہوتی ہے۔

Related posts