نومبر 29, 2020

خانہ جنگی کے خطرات کیا ہیں؟

خانہ جنگی کے خطرات کیا ہیں؟

آج کی بات

کابل حکومت کے ایک اہلکار حمد اللہ محب نے کہا ہے کہ اگر غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہوا تو ملک کو خانہ جنگی کا چیلنج درپیش ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ملک میں جنگ نہیں ہے، ان کے غیر ملکی ڈونر آقاؤں کو نہیں جانا چاہئے، ورنہ خانہ جنگ پیدا ہوگی۔
سابقہ قابض، سوویت فیڈریشن کے کٹھ پتلی ببرک کارمل بھی یہی بات کرتے تھے اور اپنے آقاؤں کے سامنے یہ نعرہ لگاتے تھے جب وہ افغان عوام کے مقدس جہاد کی بدولت فرار ہو رہے تھے۔ ببرک کہتا تھا: اگر افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلا کا فیصلہ کیا گیا تو سوویت قیادت ایک ملین فوج کو دوبارہ افغانستان بھیجنے پر مجبور ہوگی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں 40 سالہ بحران کا آغاز غیر ملکی جارحیت کی وجہ سے ہوا تھا جو آج تک جاری ہے۔
شومئی قسمت کہ حملہ آوروں کو لانے ، ان کی بقا اور قبضے کا تسلسل برقرار رکھنے میں سب سے بڑا عمل دخل ملکی کٹھ پتلیوں کا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب غیر ملکی جارحیت کا خاتمہ ہوتا ہے اور ان کی مداخلت ہمیشہ کے لئے بند کردی جاتی ہے تو ان کے کٹھ پتلی اقتدار سے الگ ہوجاتے ہیں، جنگ کی آگ خود بخود اس کے ساتھ ہی کم ہوجائے گی، کیونکہ اس کے عوامل کا خاتمہ ہوگا۔ اس کا افغان تاریخ میں بار بار مشاہدہ کیا گیا ہے۔
آج کابل کے چند ناعاقبت اندیش حکام غیر ملکیوں کی واپسی کو افغانستان کے لئے تباہی قرار دے رہے ہیں اور اعلان کر رہے ہیں کہ اپنے آقاؤں کی واپسی کے ساتھ ہی خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ در حقیقت بیرونی جارحیت اور ملک میں ہونے والے مظالم کو جاری رکھنے اور امن کو روکنے کے لئے کٹھ پتلیوں کی بے رحمانہ مہم ہے۔
وہ چاہتے ہیں کہ ان کے غیر ملکی آقا نہتے شہریوں پر بمباری کریں، رات کے چھاپے اور مظالم جاری رکھیں، جیلیں اور قبرستان پھیلائیں لیکن ڈالر اور اقتدار ان کے ہاتھ سے نہ نکلیں۔
کابل حکام امن کے اس سنہری موقع پر عوام کو امن کی نوید سنانے اور اپنے اچھے ارادے کا اظہار کرنے کے بجائے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ صرف جنگ ، قبضے کا تسلسل اور امن کی روک تھام کی کوششوں کو کام سمجھتے ہیں۔
اس کے برعکس امارت اسلامیہ نے بارہا عوام کو یقین دلایا ہے کہ قبضے کے خاتمے کے بعد ملک سے جنگ کا خاتمہ کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔
وہ عناصر جو جنگ ، قبضے اور غیر ملکی ڈالر کے پیاسے ہیں۔ وہ منظرنامہ سے ایسے غائب ہوجائیں گے جس طرح ان کے آقاؤں کو آخر کار حقائق کا اندازہ ہوگیا اور افغان عوام کے خلاف مقابلہ ترک کر لیا۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

Related posts