نومبر 29, 2020

مراکز فتح، آفسروں سمیت 30 کمانڈو ہلاک، غنائم

مراکز فتح، آفسروں سمیت 30 کمانڈو ہلاک، غنائم

الفتح آپریشن کے سلسلے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کابل، قندوز، پکتیکا، لوگر، تخار، ننگرہار، بلخ اور غزنی صوبوں میں فوجی مراکز اور چوکیوں پر حملہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کےروز صبح کے وقت مجاہدین نے کابل شہر  میں افغان سویس شفاخانہ کے قریب کابل پولیس ہیڈکوارٹر  منشیات ڈیپارنمنٹ کے آفسر لمرخیل کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

واضح رہےکہ مقتول کابل انتطامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے نائب امراللہ صالح کے خالہ زاد بھائی اور ظالم کمانڈر تھا۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ قندوز ضلع امام صاحب کے جوئے بیگم، اسماعیل قشلاق اور شیرخان بند کے علاقوں میں  مجاہدین کے حملوں میں  4 مراکز اور چوکیاں فتح، دشمن فرار، دو ٹینک تباہ، 11 کمانڈو ہلاک، 7 زخمی اور امریکی گنیں بھی مجاہدین نے قبضے میں لیا۔

دوسری جانب صوبہ پکتیکا کے صدرمقام شرنہ شہر کے کوٹوال کے علاقے میں بم دھماکہ سے فوجی رینجر گاڑی تباہ اور اس میں سوار اہلکاروں میں سے 3 ہلاک، 2 زخمی ہوئے، جبکہ ضلع سرحوصہ کے سرحوضہ گاؤں کے قریب  تین دھماکوں سے ایک جنگجو ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ ننگرہار ضلع سرخ رود کے شمس پور کے علاقے میں قائم دو چوکیوں پر مجاہدین نے رات کے وقت حملہ کرکے اللہ تعالی کی نصرت سے دونوں کو تباہ اور وہاں تعینات اہلکاروں میں سے 2 ہلاک، کمانڈر سمیت 3 زخمی ،دیگر فرار اور مجاہدین نے اسلحہ وغیرہ بھی قبضے میں لیا۔

اسی طرح صوبہ لوگر کے صدرمقام پل عالم شہر کے زرداد قلعہ کے علاقے میں چوکی پر ہونے والے حملے میں 6 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ۔

صوبہ بلخ سے اطلاع ملی ہےکہ ضلع شولگر کے شیخان کے علاقے میں چوکی پر لیزرگن حملے میں ایک فوجی ہلاک، ایک زخمی اور ٹاور بھی تباہ، جب کہ صوبہ غزنی ضلع جغتو کے فتنہ کے علاقے میں چوکی پر ہونے والے حملے میں 2 پولیس اہلکارہلاک ہوئے۔

نیز صوبہ تخار ضلع خواجہ غار کے مرکز کے قریب فوجی چوکی پر ہونے والے حملے میں 3 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔

Related posts