نومبر 29, 2020

امارتِ اسلامیہ کے سیاسی دفتر قطر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کی تازہ گفتگو

امارتِ اسلامیہ کے سیاسی دفتر قطر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کی تازہ گفتگو

ترتیب وترجمہ:سید افغان

امارتِ اسلامیہ کی مذاکراتی ٹیم نے جانب مقابل کے ساتھ دو طرفہ رابطہ کے لیے رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ۵ افراد امارتِ اسلامیہ اور ۷ کے لگ بھگ جانب مقابل کے شامل تھے-حالیہ دنوں اس کمیٹی کے افراد میں تبدیلی کی گئی ہے -اسی طرح مذاکرات پر ایک ماہ سے زائد کاعرصہ گزرچکا ہے مگر کوئی پیش قدمی کی خبر سامنے آئی ہے اور نہ ہی ایجنڈا تک دونوں ٹیمیں پہنچی ہیں -اسی طرح ملک کے اندر جنگوں کی بھی خبریں آرہی ہیں -ایسی صورتحال میں سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمدنعیم وردگ صاحب نے تازہ گفتگو کی ہے جو بہت سے حقائق کو آشکارا کرتی ہے-چند اہم نکات پیش خدمت ہیں:
رابطہ کمیٹی کے ارکان میں تبدیلی واقع ہوئی ہے -پہلے ہماری طرف سے ۵ اور جانب مقابل کے ساتھ افراد تھے-مگر اب دونوں جانب سے تین تین نئی افراد کاانتخاب کیا گیا اور اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بحث میں کچھ جدت آجائے اور جوساتھی اس کام کے لیے متعین تھے وہ تھکاوٹ محسوس نہ کریں-

مذاکرات افغانستان میں رواں جھگڑے کی انتہاء کے لیے ہیں-اور یہی مقصد ہم سب کامطمح نظر ہے اور اسی لیے ہم اپنی طرف سے بھرپور کمی لائی ہے-مثال کے طور پر پہلے ہم موسمِ بہار میں آپریشن کااعلان کرتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ نام کااعلان کرتے تھے مگر اس سال اس کااعلان کیا ہے اور نہ ہی نام دیا ہے-اس سلسلہ میں جو صوبہ فراہ،ہلمند اور دیگر جگہوں میں جو کچھ کچھ جنگ ہوئی ہے اور جس کا جانب مقابل ہمیں الزام دے رہا ہے تو ہم یہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہمارا یہ عمل رد عمل اور ری ایکشن ہیں-آپ خود ہی وہاں کی فوٹیج دیکھ سکتے ہیں -وہاں کے عوام انتظامیہ سے اتنے تنگ آچکے ہیں کہ بار بار ہم سے مطالبہ کرتے رہے -ہم نے ان کے مطالبہ کی بنیاد پر ایسا کیا ہیں-
انتظامیہ کی وحشت انتہاء کو پہنچ چکی ہے- بمباری اور چھاپوں سے لوگوں کا برا حال کردیا ہے-ابھی چند دن پہلے کی بات ہے ایک قیدی جو ستمبر کے اوائل میں جیل سے رہاہوئے تھے انتظامیہ نے چھاپہ مار کر اپنی دو معصوم بیٹیوں کے ساتھ تہ تیغ کیا –

ہمارے جہاد کےروز اول سے دومقصد ہیں-ایک یہ کہ ہم بیرونی استعماری ٹولہ کو ملک سے باہر کردیں جو تکمیل کے مرحلہ میں ہے-اور دوسرا یہ کہ فساد کاخاتمہ کرکے اسلامی نظام قائم کرلیں اس کے لیے اب بھی جد وجہد جاری ہے-اس لیے شکوک وشبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے-

ہم وہ اسلامی نظام چاہتے ہیں جو سو فیصد آزاد،خود مختار اور ہر اجنبی دباو سے صاف ہو-ساتھ ہی وہ ہر طرح کے فساد سے بری ہو چاہے وہ اخلاقی فساد ہو یا مالی کرپشن-

ہم اپنی قوم وملت کے مطالبات کی بنیاد پر نکلے ہیں اور قوم کی آرزو ہماری آرزو ہے-ہم قوم کی دکھ درد میں اپنے کو شریک سمجھتے ہیں اور اسی احساس کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے حاضر ہوئے ہیں -قوم وملت کی آرزو صرف اور صرف بات چیت سے ہی حل ہوسکتی ہے-منفی تبلیغات ،پروپیگنڈے اور ایسی باتیں جو نفرت کا باعث بنیں کبھی حل نہیں ہیں-یہاں المیہ یہ ہے کہ معمولی باتوں کو تو ہوا دیا جاتا ہے لیکن اصل حقیقت چھپانے کی کوشش ہوتی ہے-ابھی چند دن پہلے صوبہ فراہ میں دشمن نے راتوں رات بمباری کی جس میں بچوں اور خواتین سمیت بارہ معصوم افراد لقمہ اجل بنے-کیا کسی نے اس پر لب کشائی کی ضرورت محسوس کی ہے؟حکومتی کارندوں سے لے کر بشری حقوق اور میڈیا تک کسی نے مہرلب توڑنے کی جرات نہیں کی ہے-ہم ملت کے ان دکھوں کاازالہ کرنا چاہتے ہیں اور اگر یہ دکھ بات چیت سے حل نہ ہو پھر ہم مجبور ہیں کہ ان کے انتقام کے درپے ہوں-

امیرالمؤمنین کی طرف سے ہمیں واضح ہدایات ملی ہیں اور بہت ہی دوٹوک انداز میں ملی ہیں کہ قومی املاک اور عام المنفعت اشیاء کی امکان سے حفاظت کا خیال رکھا جائے-چنانچہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک کمیشن بنایا گیا ہے اور ہر جگہ اپنا کام بڑی خوبی سے سرانجام دیتاہے-بجا ہے کہ بعض جگہوں پر قومی املاک کو نقصان پہنچا ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ کی حالت میں مجاہدین کے پہنچنے سے قبل ہی کچھ شرارتی قسم کے لوگ ایسی حرکت کرتے ہیں لیکن مجاہدین کے پہنچنے کے ساتھ ہی حالات معمول پر آجاتے ہیں اور سب کچھ محفوظ بن جاتے ہیں-

ہلمند کی جنگ میں جو لوگ گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں ہماری کوشش ہے کہ انہیں تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اس کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں مگر یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہلمند کی جنگ در حقیقت ان کی حقوق برآری کے لیے ہے -اور ان مظالم کی دفاع کے لیے جو انتظامیہ مسلسل ان پر ڈھارہی تھی-اس لیے یہ وقتی تکلیف اگرچہ ہے مگر وہ جلد ہی زائل ہوجائے گی-

امریکا کے ساتھ کیے گئے معاہدہ میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ ہم اس حد تک مکلف ہیں اور اس حد تک مکلف ہیں-ہم نے از خود اپنے حملوں میں جو کمی ہے وہ در حقیقت ہماری سنجیدگی اور امن عمل کے قیام کے لیے ہمارے کوشاں رہنے کےلیے ایک واضح ثبوت ہیں-جبکہ اس کے برعکس توافق نامہ میں یہ بات بڑی صراحت کے ساتھ درج ہے کہ امریکا،کابل انتظامیہ کو بمباری،چھاپوں اور اقدامی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں ہیں-مگر اس کے باوجود وہ حدود سے تجاوز کرکے بمباری کرتے ہیں -چھاپے مارتے ہیں اور بے گناہ افراد کو شہید کرتے ہیں اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ تشدد کا الزام ہمیں دیتے ہیں-وہ قیدی جو ابھی حال ہی میں رہاہوئے ہیں انہیں بلاوجہ شہید کیا جارہا ہے-ہمیں مستند معلومات کے ذریعہ پتہ چلا ہے کہ صوبہ تخار اور ننگرہار وغیرہ میں ان رہا ہونے والے قیدیوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور بلاوجہ انہیں تنگ کیا جارہا ہے-ایسی صورتحال میں ہم دفاع کا حق رکھتے ہیں اور کسی کی مرضی ہو یا نہ ہو ہم اسے استعمال کرتے رہیں گے-

Related posts