نومبر 29, 2020

جنگ مذاکرات سے دستبردار ہونے سے ختم نہیں ہوتی

جنگ مذاکرات سے دستبردار ہونے سے ختم نہیں ہوتی

آج کی بات

کابل انتظامیہ کے بے اختیار پارلیمانی ارکان نے گزشتہ روز حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ قطر میں امارت اسلامیہ کے ساتھ جاری مذاکرات کو روکیں اور اپنے وفد کو کابل واپس بلا لیں۔
ان کے بقول طالبان امن عمل سے دلچسپی نہیں رکھتے ہیں کیونکہ وہ جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب تک طالبان جنگ بندی کا اعلان نہیں کرتے ہیں، کابل مذاکراتی ٹیم کو فوری طور پر طلب کیا جانا چاہئے اور بات چیت رکنی چاہئے۔
کابل پارلیمنٹ ایک ایسے وقت میں یہ سفارشات دے رہی ہے جب کابل کی جانب سے بھیجا ہوا وفد ابھی باضابطہ مذاکرات کے عمل میں داخل نہیں ہوا ہے، اور وہ جنگ بندی اور دیگر اہم امور کے بجائے ابھی تک دیگر فرمائشوں کو منوانے کے لئے امارت اسلامیہ کے ساتھ مصروف عمل ہے، ابھی تہ وہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے لئے فارغ نہیں ہوا ہے، وہ ابھی تک دوحہ مذاکرات کی بنیاد رکھنے کے لئے نام نہاد لویا جرگہ کی سفارشات کو پیش کرنے پر مصر ہے، جو پارلیمنٹ نے بھی غیر قانونی قرار دیا تھا۔
وہ اب بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مذہبی اور مسلکی باتوں کو فرقہ وارانہ تنازعات میں تبدیل کرنے کے لئے کس طرح استعمال کیا جائے۔ کابل کا وفد ابھی تک باضابطہ مذاکرات کے دوران جنگ بندی یا جنگ ختم کرنے پر تبادلہ خیال کے لئے فارغ نہیں ہوا ہے۔
کابل کی پارلیمنٹ اس صورتحال میں مذاکراتی عمل کو ختم کرنا چاہتی ہے جہاں لاکھوں افغانوں کی امیدیں ان مذاکرات سے وابستہ ہیں اور انہیں توقع ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہمیشہ کے لئے جنگ ختم ہوگی۔ لیکن کابل کی کرپٹ انتظامیہ کے کرپٹ اراکین پارلیمنٹ اس بہانے سے کہ وہ جنگ روکنے کے حق میں ہیں، مذاکرات کے عمل کو روکنا چاہتے ہیں۔
اگر وہ واقعتا ملک میں جنگ بندی کے حق میں ہیں اور اس جنگ میں اپنے مفادات تلاش نہیں کرتے ہیں تو پہلے دوحہ بھیجے گئے وفد سے مطالبہ کریں کہ وہ فروعی معاملات پر وقت ضائع نہ کریں، امارت اسلامیہ کے وفد کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے عمل میں داخل ہونا چاہئے۔ جس کی بدولت ان بین الافغان مذاکرات کے لئے راستہ کھولا گیا ہے ، جس میں ملک کی آزادی اور اسلامی خودمختاری کی ضمانت حاصل کی گئی ہے۔
جب ان کا وفد مذاکرات کے عمل میں داخل ہوتا ہے تو اسے پہلے جنگ بندی کا معاملہ اٹھانا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ کابل انتظامیہ اور اس کے حکام کی اکثریت کبھی بھی مستقل جنگ بندی کے حامی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ عارضی طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، اور ان کے پاس جنگ کے خاتمے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
کابل انتظامیہ کی امن کی راہ میں رکاوٹ آج پوری دنیا کے لئے سورج کی طرح واضح ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمنٹ اور دیگر حکام کو عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل جنگ بندی پر اصرار کرنا چاہئے۔ مذاکراتی عمل کو بند کرنے سے جنگ ختم نہیں ہوتی بلکہ مذاکراتی عمل کو مزید مضبوط بنانے اور اپنے وفد کو نرمی اختیار کرنے اور اچھی دینے کے ذریعے جنگ کی آگ کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

Related posts