نومبر 29, 2020

امریکی جارحیت اور چند حقائق

امریکی جارحیت اور چند حقائق

تحریر: سیف العادل احرار

7 اکتوبر 2001 کو امریکہ کی زیر قیادت نیٹو سمیت 48 ممالک کی افواج نے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان پر جارحیت کی حماقت کی اور فوجی طاقت کے ذریعے اسلامی نظام کا خاتمہ کر دیا، یہ دن افغانستان کی تاریخ میں ایک اور سیاہ دن ہے، اس دن افغانستان کی بربادی اور تباہی اور افغانوں کے قتل عام اور ان پر تشدد کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا، قابض افواج نے بگرام، قندہار اور بدنام زمانہ گوانتاناموبے جیلوں میں ہزاروں حریت پسنوں کو پابند سلاسل کر دیا، ہزاروں بم اس دھرتی پر برسائے، ہزاروں لوگوں کو تہہ تیغ سے نکالا، ہزاروں شہری مکانات، مساجد، مدارس، اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور پبلک مقامات کو تباہ کر دیا گیا۔
امارت اسلامیہ کی قیادت میں افغان عوام نے امریکی جارحیت کے خلاف کامیاب اور تاریخ ساز مزاحمت شروع کر دی، ڈیڑھ لاکھ قابض افواج کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں مزاحمتی تحریک ابھرنے لگی اور ایک بار پھر منظم طریقے سے امارت اسلامیہ کے رہنماوں نے مجاہدین کو متحد کر کے جہاد شروع کر دیا، قابض افواج نے دور دراز علاقوں اور دیہاتوں میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کر دیا، ہر داڑھی اور پگڑی والے کو شک کی نگاہ سے دیکھا، طالبان کے لئے دو راستے تھے، موت یا جیل۔ خوف و ہراس کے اس ماحول میں بہت سارے نامی گرامی اشخاص نے ایمان اور ضمیر فروخت کر دیا، بہت سارے لوگ بک گئے، بہت سارے لیڈر امریکی طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے لیکن صرف ایک مرد مجاہد اور خدا کے سچے مومن امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے وعدہ ایزدی پر بھروسہ کرتے ہوئے امریکی طاقت کو چیلنج کر دیا اور اعلان کیا کہ ایک دن امریکہ سرنگوں ہوکر اس دھرتی سے بھاگ جائے گا اور یوں ملک بھر میں ہر قسم جدید وسائل اور ہتھیاروں سے لیس 48 ممالک کی ڈیڑھ لاکھ افواج اور چند ہزار نہتے مجاہدین کے درمیان مقابلہ شروع ہوا، حق اور باطل کے اس معرکے میں 19 برس کے دوران مجاہدین سرفراز اور سرخرو ہوئے اور حملہ آوروں کو ذلت آمیز شکست ہوئی جو اللہ تعالی کی نصرت اور افغان عوام کی حمایت کی غمازی کررہا ہے۔
اس جنگ کے 19 سال بعد اب یہ سوال اٹھایا جارہا ہے، کہ امریکا نے کیا کھویا کیا پایا، امریکہ نے اس جنگ میں کامیابی حاصل کی یا شکست کھائی؟ جن مقاصد کے حصول کے لئے امریکہ حملہ آور ہوا وہ مقاصد حاصل کیے گئے؟ اس حوالے سے قارئین کی خدمت میں ایک اجمالی نقشہ پیش کروں گا۔
جب نائن الیون کا ڈرامہ رچایا گیا تو امریکہ نے بلاتحقیق افغانستان پر چڑھائی کے لئے کمرکس لی، دنیا میں جب اس طرح کے چھوٹے واقعات رونما ہوتے ہیں تو پہلے تحقیقات کی جاتی ہیں اور جب کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں پھر اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن امریکہ نے بلا تحقیق اور بغیر ثبوت کے افغانستان پر حملہ کرنے کا اعلان کیا۔
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق افغانستان پر حملہ کیا ہے لہذا افغانستان میں امریکی افواج کی جنگ اور ان کی موجودگی کو قانونی جواز حاصل ہے لیکن یہ تاریخی جھوٹ ہے کیونکہ نائن الیون واقعہ کے بعد جب 7 اکتوبر کو امریکہ نے افغانستان پر یلغار کی تو اس وقت تک سلامتی کونسل نے کوئی قرارداد پاس نہیں کی تھی اور نہ ہی اس جارحیت کی اجازت دی تھی، جب گیارہ ستمبر کا واقعہ رونما ہوا تو سلامتی کونسل نے اس کی مذمت کی اور یہ اعلان کیا کہ وہ اس مسئلہ پر غور کرے گی، عالمی قوانین کے مطابق سلامتی کونسل کی اجازت سے قبل امریکہ کو کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ افغانستان پر حملہ کرے لیکن جب امریکہ نے جارحیت کا ارتکاب کیا اور افغانستان پر قبضہ جمایا تو دسمبر میں سلامتی کونسل نے ایک اعلامیہ جاری کیا کہ اب تو امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا ہے لہذا اب افغانستان میں قیام امن کے لئے امن فورسز کو تعینات کرنا چاہئے لہذا عالمی قوانین کے مطابق امریکہ کا حملہ کھلی جارحیت ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے جو لوگ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق امریکی جارحیت کو جواز بخشتے ہیں وہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ صدر بش نے اس جنگ کو دفاعی جنگ قرار دیا جب کہ عالمی قوانین کے مطابق دفاعی جنگ کی تعریف یہ ہے کہ یہ حملہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ہو، اور فوری طور پر اس کا جواب دیا جائے، مطلب کسی پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو وہ فوری طور پر اپنے دفاع کے لئے جوابی وار کرتا ہے تو یہ دفاعی جنگ ہے، لیکن امریکہ میں گیارہ ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوتا ہے اور ایک ماہ بعد 7 اکتوبر کو امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس دوران وہ بھرپور تیاری کرتا ہے، لہذا اس کو دفاعی جنگ قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کے حکام نے امریکی جارحیت سے قبل مطالبہ کیا کہ امریکہ ثبوت پیش کرے کہ اس حملے میں اسامہ بن لادین اور القاعدہ ملوث ہیں، ہم اپنی عدالتوں کے سامنے انہیں پیش کریں گے یا کسی دوسرے اسلامی ملک کے سپرد کریں گے لیکن نے ایک نہ سنی اور بڑے غرور کے ساتھ افغانستان پر جارحیت کے لئے کمر کس لی۔
امریکہ نے اسامہ بن لادن کو مارنے کے لئے افغانستان پر حملہ کیا اور 2011 میں اس کے مطابق انہیں مار دیا، اس کے بعد افغانستان پر قبضہ جمانے کا کیا جواز تھا؟ ظاہر ہے کہ اس نے کئی عشروں تک افغانستان پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے بھرپور تیاری کے ساتھ یہاں قدم رکھا لیکن تاریخ ساز مزاحمت کے بعد اس کی جارحیت کچل گئی اور امریکی فوج سرنگوں ہوئی تو مجبورا طالبان کے ساتھ ان کی شرائط پر سمجھوتہ کرنا پڑا جو امریکہ کی تاریخ کے ماتھے پر ایک شرمناک داغ ہوگا۔
امریکہ نے 19 برس کی جنگ کے دوران کونسی کامیابی حاصل کی، اس کا تسلی بخش جواب ابھی تک نہیں ملا ہے، امریکی جارحیت سے قبل امریکہ جمہوریت، انسانیت، انسانی تہذیب، آزادی اور ترقی کے جو بلند و بانگ دعوے کررہا تھا، وہ سب بے نقاب ہوگئے۔ افغانستان میں امن آیا اور نہ ہی منشیات کی پیداوار ختم ہوئی، مستحکم حکومت قائم کی گئی اور نہ ہی غربت ختم ہوئی، ملک ترقی کی شاہراہ پر چل پڑا اور نہ ہی منظم فوج تشکیل دی گئی چنانچہ امریکی حکمران اس نتیجہ پر پہنچیں کہ اس لامتناہی اور بے سود جنگ سے جنتی جلدی چھٹکارا حاصل کرسکیں امریکہ کے لئے بہتر ہوگا اس لئے انہوں نے امارت اسلامیہ کے ساتھ 16 ماہ پر مشتمل طویل مذاکرات کے بعد 29 فروری کو ایک تاریخی معاہدہ کیا جس کی بدولت امریکی افواج کو افغانستان سے باعزت واپسی کے لئے محفوظ راستہ ملا اور شاہد وہ پھر کبھی بھی افغانستان پر یلغار کرنے کی حماقت نہ کریں۔
طالبان نے جو آزادی حاصل کی ہے یہ کسی سے خیرات میں نہیں ملی ہے بلکہ اس کے لئے ایک طویل اور صبرآزما جدوجہد کی گئی ہے، لاکھوں نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور وطن عزیز کو امریکی غلامی اور جارحیت سے آزاد کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا اور اپنے ابا واجداد کی تاریخ زندہ کر دی۔ اب کوئی ملک بھی افغانستان پر حملہ کرے گا تو وہ سو بار سوچے گا۔ ہمیں توقع ہے کہ نئے افغانستان کے لئے امارت اسلامیہ کی قیادت نے جو فریم ورک تیار کیا ہے وہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔ اللہ تعالی شہداء کی قربانیاں قبول فرمائے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنائے۔

Related posts