نومبر 23, 2020

فتوحات جاری، کمانڈروں سمیت 18 کمانڈو ہلاک، 44 سرنڈر

فتوحات جاری، کمانڈروں سمیت 18 کمانڈو ہلاک، 44 سرنڈر

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کمانڈو اور سیکورٹی فورسز کو غزنی، بلخ، پکتیا، لوگر اور بغلان صوبوں میں نشانہ بنایا، جب کہ صوبہ بلخ میں 44 سیکورٹی اہلکاروں نے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

آمدہ اطلاعات کے مطابق اتوار کےروز مغرب کے وقت صوبہ غزنی کے صدرمقام غزنی شہر کے پشتون آباد کے علاقے میں مجاہدین نے ظالم وحشی کمانڈر ثناء محمد کو قتل کردیااور ان کی گاڑی کو قبضے میں لی۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ ضلع دولت آباد کے مرکز میں فوجی یونٹ پر اتوارکےروز شام کے وقت مجاہدین نے حملہ کیا،جس کے نتیجے میں کمانڈر امیرمحمد سمیت 7 کمانڈو ہلاک، 3 زخمی اور 2 ٹینک تباہ ہوئے، جب کہ پیرکےروز صبح کے وقت ضلع چاربولک کے سبزی کار کے علاقے میں فوجی یونٹ پر ہونے والے حملے میں یونٹ کمانڈر محمداللہ سمیت 3 اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

دوسری جانب کلدار، زارع، دولت آباد، شولگرہ، نہرشاہی، کشندہ، چاربولک اور خاص بلخ اضلاع میں کابل انتظامیہ کے 44 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

صوبہ پکتیا سے اطلاع ملی ہےکہ ضلع پھٹان کے مقبل کے علاقے نرئے کنڈاو کے مقام پر چوکی پر ہونے والے حملے میں2 اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔جب کہ ضلع زرمت کے مقرب خیل کے علاقے میں بم دھماکہ سے 3 کمانڈو ہلاک، 4 زخمی اور بعد میں مجاہدین کے حملے میں ایک اور کمانڈو بھی ہلاک ہوا۔

نیز صوبہ لوگر کے صدر مقام پل عالم شہر کے بادخواب شانہ کے علاقے میں مجاہدین کے حملے میں 3 کمانڈو ہلاک جب کہ 5 زخمی ہوئے۔

ذرائع کے مطابق صوبہ بغلان ضلع نہرین کے خواجہ خضر کے علاقے میں مجاہدین نے دشمن کے خلاف وسیع کاروائی کا آغاز کیا،جس کے نتیجے میں اللہ تعالی کی نصرت سے دو فوجی مراکز اور کئی چوکیاں فتح ہونے کے علاوہ مجاہدین نے وسیع علاقے کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا۔

Related posts