نومبر 29, 2020

بین الافغان مذاکرات اورکابل ادارے کے سربراہان کے زہریلے بیانات

بین الافغان مذاکرات اورکابل ادارے کے سربراہان کے زہریلے بیانات

ماہنامہ شریعت کا اداریہ
تمام انسان فطری طور پر آزادی پسند ہیں لیکن اس کی بہترین قدردانی وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے ناجائز قبضوں کے نقصانات کا مشاہدہ کیاہو ،جنہوں نے آزادی کی حصول کے لئے تحریک چلائے ہوں اوراس راہ میں بڑی بڑی قربانیاں دی ہوں ۔
تاریخ گواہ ہے کہ قبضہ کی غرض سے کئی بڑی بڑی غاصب قوتوں نے افغانستان پر حملے کئے ہیں لیکن الحمدللہ سب کو منہ کی کھانی پڑی ہے ، افغانوں نے ایک بھی غاصب کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا اوراللہ تعالیٰ کے فضل واحسان سے اوراپنی قربانیوں کی بدولت ہرغاصب کو شکست فاش دی ہے ، اس لئے افغان قوم آزادی کی قیمت دوسروں کے بہ نسبت بہتر جانتے ہیں ،وہ آزادی کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیاررہتے ہیں اور آزادی چھن جانے پرانہیں دکھ بھی زیادہ ہوتاہے ۔
2001میں امریکی قیادت میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی اتحاد نے افغانستان پر حملہ کیاجس سے افغان قوم کو یقینا غم اوردکھ پہنچا لیکن افغان قوم ناامید نہیں تھی اورنہ ہی اس بڑی قوت اوران کے جنگی وسائل سے مرغوب تھی اس لئے اپنے انتہائی کمزور وسائل کے ساتھ اس بڑی قوت کے مقابلے میں نکل آئی ۔تو جہاد جیسے اہم فریضے سے پیچھے نہ ہٹنا اور دشمن کے مقابلے میں نکل آناہی اصل کامیابی تھی ۔
امیرالمومنین رحمہ اللہ اور دیگر جہادی رہنما دنیا کے اس بڑی فوجی اتحاد اورجدید جنگی طیاروں،اسلحہ اور جنگی وسائل سے غافل نہیں تھے بلکہ ان سب چیزوں سے خوب واقف تھے اوریہ بات خوب جانتے تھے کہ امارت اسلامیہ مادی طورپر اس طاقت کے ہم پلہ نہیں ہے لیکن امارت اسلامیہ کے رہنماوں اور عام مجاہدین کے نزد اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی ، اہم بات یہ تھی کہ قابضین نے ہمارے ملک پر قبضہ کیاہے ،ہمارے نظام کو تہس نہس کیا ہے ،ہزاروں لوگوں کو شہید اورقیدکردیاہے اس لئے ہم پر جہاد فرض ہے اورآرام سے بیٹھ جانے کا کوئی جواز نہیں ۔
اس جہاد کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ جہاد کامیاب ہوگا ؟ اہداف کاحصول ممکن ہوگا ؟ دشمن کو شکست ہوگی ؟ اورقبضہ ختم ہوگا یانہیں ؟یہ اوراس جیسے دیگر سوالات ایسے سوالا ت تھے جس کا جواب دینے کے لئے ہم خود کو مکلف نہیں سمجھ رہے تھے ۔ہم مکلف تھے تو صرف جہا دکے ، جہاد کے نتائج پر نہیں ۔
جی بالکل ہم نتائج کے مکلف نہیں تھے لیکن ہمیں یقین تھا کہ ہمارا جہاد کامیاب ہوگا ،دشمن کو شکست ہوگی ، یہ ہمارے درویش امیرالمومنین رحمہ اللہ کی زبان سے نکلی ہوئی بات اور ہرمجاہدکے دل کی آوازتھی ۔
مسلمانان عالم کی امیدوں کے عین مطابق اللہ تعالی نے اس مقدس جہاد اوراس جہاد میں دی جانے والی بڑی بڑی قربانیوں پر نتائج مرتب کئے ،مجاہدین دن بہ دن مضبوط ہوتے گئے اوردشمن پر کاری ضربیں لگانے کی وجہ سے دشمن کی شکت یقینی دکھائی دینے لگی یہاں تک کہ وہ دن بھی آگیا کہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے اپنی شکست کا برملا اعتراف کیا اور پرامن طریقے سے افغانستان سے نکل جانے کے لئے امارت اسلامیہ سے مذاکرات کی پیشکش کردی ۔
چونکہ دشمن کی جانب سے صلح کی پیشکش پر صلح کی طرف میلان کا اظہار اللہ تعالیٰ کاحکم ہے اس لئے امارت اسلامیہ نے امریکہ کی اس پیشکش کو رد نہیں کیا اوراندرونی مشاورت کے بعداس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے عملی مذاکرات کافیصلہ کرلیا ۔
دنیا کا خیال تھا کہ امریکی تجربہ کا رکھلاڑی بڑی اسانی کے ساتھ طالبان رہنماؤں کو ورغلالیں گے اورانہیں اپنے مطالبات سے دستبردارکرلیں گے لیکن دنیا نے طالبان رہنماؤں کی سمجھداری اور دوراندیشی کو مان لیا ۔ اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت ان کے شامل حال رہی اورتقریبا 18 ماہ تک انہوں نے اس امریکی تجربہ کار مذاکراتی ٹیم کو مصروف رکھا اوران سے وہی مطالبات تسلیم کروائے جو امارت اسلامیہ ان سے منواناچاہتی تھی دس بیس نہیں بلکہ اپنے پورے پانچ ہزارقیدیوں کو رہاکروایا اورامریکہ نے افغانستان سے اپنی فوج نکالنے کے ساتھ ساتھ امار ت اسلامیہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے ارادے کا اظہاربھی کیا ۔
مذاکرات کے لئے مقررکردہ تاریخ سے پہلے نیشنل اورانٹرنیشنل میڈیا پر اس حوالے سے بڑے زوروشورسے تبصرے جاری تھے ،بعض کو تو یہ اعتبار بھی نہیں تھا کہ امارت اسلامیہ کئے گئے فیصلوں کے مطابق ملک بھر میں جنگ کو کم کرنے کے فیصلہ پر عمل درامدکرسکیں گے ،لیکن جب اس فیصلے پر عمل کرنے کاوقت آیا تو ان لوگوں کی غلطی ثابت ہوگئی اورافغان عوام سمیت دنیابھر کے لوگوں نے دیکھ لیا کہ اس موقع پر پورے افغانستان میں امارت اسلامیہ کے حکم کی معمولی سی خلاف ورزی بھی نہیں کی گئی ۔پوری دنیا پر واضح ہوگیا کہ امارت اسلامیہ کی قیادت اپنی جہادی صفوں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے ۔جسے دیکھتے ہوئے امارت اسلامیہ پر اعتماد میں اضافہ بھی ہوا اور ناسمجھ تبصرہ نگاروں کی پیشینگوئیاں بھی غلط ثابت ہوگئیں ۔
لیکن پھر بھی شیطانی حلقوں ،اقتدار اورمادیات کے بھوکوں کو افغان قوم کی اس بڑی کامیابی کو دیکھنا گوارہ نہیں تھا انہوں نے پوری کوشش کی کہ افغان قوم ان تاریخی لمحات کو دیکھنے سے محروم رہے ۔
لیکن خوش قسمتی سے افغانستان میں ایک روشن سحر کا طلوع ہونا یقینی تھا اس لئے کوئی بھی اس کے طلوع میں حائل ورکاوٹ نہ بن سکااور29 فروری 2020 کو دنیا کی تاریخ میں افٖغانستان اورافغانوں کا ایک بڑا کارنامہ ظہورپذیرہوا ۔اور افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء اورناجائز قبضہ ختم کرنے کا معاہدہ ہوا ۔
اس معاہدے کے دس دن بعد چاہئے تھا کہ پانچ ہزار قیدی رہاکردیئے جاتے اور بین الافغانی مذاکرات شروع ہوتے لیکن کابل ادارے میں براجمان اقتدارکے بھوکوں نے قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں اوراسے عملی ہونے میں دیر لگاتے رہے ،انہوں نے پوری کوشش کی اس مرحلے کو ناکام بنائیں لیکن امارت اسلامیہ کی اپنے کئے گئے وعدوں کی پاسداری ،عوام کے شدید مطالبے اوربیرونی دباؤ کی وجہ سے ان کی پیداکردہ رکاوٹیں ختم ہوگئیں اوربین الافغانی مذاکرات شروع ہوگئے ۔ یہ افغان عوام کے لئے ایک بڑی خوشی اورامیدکا باعث ہے کہ افغانستان میں چالیس سالہ لڑائی ختم ہوکریہاں امن وامان کی فضاء قائم ہوجائے گی ۔
لیکن اشرف غنی کے ادارے کے سربراہان اپنی اقتدار اورمادی فوائد کاحصول صرف لڑائی میں ہی ممکن سمجھتے ہیں اس لئے وہ اب بھی ان مذاکرات میں رکاوٹیں پیداکرنے کی کوشش میں ہیں ،جس کی واضح دلیل اشرف غنی کے دومعاونین سروردانش اورامراللہ صالح کی تعصب پر مبنی اورجنگ کو ہوادینے والی تازہ ترین گفتگو ہے ۔
اشرف غنی اورکابل ادارے کے دیگر اہلکاروں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اب مزید جھوٹ بول کر قوم کو ورغلایانہیں جاسکتا اورنہ ہی ایسی چالیں چل کر زیادہ دیر حکومت میں رہاجاسکتاہے ۔اورنہ ہی بیرونی دنیا کی نظروں میں کوئی قیمت حاصل ہوپائے گی ۔
ملک میں امن وامان کی فضا کا قیام یقینی ہے ۔ا ن شاء اللہ ،چند غلام افراد اپنی حکومت واقتدارکے لئے اس کا راستہ نہیں روک پائیں گے ۔
جب امریکہ اوراس کے اتحادی یہاں اپنے اہداف کو حاصل نہیں کرسکے اور دوحہ معاہدہ پر مجبورہوگئے توان کی عدم موجودگی میں ان کے کاسہ لیس کس طرح سے افغان قوم کی مرضی کے خلاف اپنی ناجائز حکومت جاری رکھ سکیں گے ؟اورکیسے ملک میں امن وامان کی فضا برقراررکھنے میں رکاوٹ بن سکیں گے ؟
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرکابل ادارے نے جاری اس سیاسی اورعسکری حالات کا درست ادراک نہیں کیا اورپرامن طریقے سے مسئلہ حل کرنے کی جانب توجہ نہ دی توایک بڑی رسوائی اورذلت کا سامنا کرنا ان کا مقدرہے ۔

Related posts