اکتوبر 24, 2020

کابل انتظامیہ دوحا معاہدہ سے خوفزدہ کیوں؟

کابل انتظامیہ دوحا معاہدہ سے خوفزدہ کیوں؟

تبصرہ: قاری محمد يونس راشد

امارتِ اسلامیہ افغانستان اور امریکا کے درمیان دستخط ہونے والا معاہدہ اقوامِ متحدہ،سلامتی کونسل اور ہمسایہ ممالک سمیت دنیا بھر کے بڑے ممالک نے نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اس کی بھرپور حمایت کا اعلان بھی کیا ہے ۔ جس میں کابل انتظامیہ کی خواہشات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے-
امریکا اور اس کے اتحادیوں نے سالہا سال بہت کوشش کی کہ طالبان کو براہِ راست کابل انتظامیہ سے ایک میز پر اکٹھا کرکے تصفیہ کرایا جائے؛کیونکہ یہ دونوں افغان ہیں اور تاثر یہ دے رہے تھے کہ گویا جاری کشمکش بذاتِ خود افغانوں کے درمیان ہے-مگر امارتِ اسلامیہ نے روزِ اول سے یہ دوٹوک موقف اختیارکیا کہ امریکا اور یورپ کی طرف سے مقرر کردہ بلکہ مسلط کردہ انتظامیہ کو نہ ہم جانتے ہیں اور نہ ان کے پاس اتنا اختیار اور قوت ہے کہ افغانستان پر جاری استعمار کے خاتمہ کے لیے بروئے کار آئےاور ملک وملت کے مستقبل کے بارے فیصلہ کرسکے۔ اس لیے بات ہم ان سے کریں گےجو جنگ کی جڑ ہے اور جس نے اپنی ظالمانہ جارحیت سے وطنِ عزیز پر قبضہ کررکھا ہے-
امریکا سالہاسال کی جنگ اور مختلف طریقے آزمانے کے بعد اس بات پر آمادہ ہوا کہ امارتِ اسلامیہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے اور جارحیت کے خاتمہ کے لیے ایک معاہدہ اتفاق رائے کرکے دستخط کے مرحلہ تک پہنچادے۔
دوحا معاہدہ افغانستان کے مستقبل کی بنیاد ہے-یہ معاہدہ دو ایسے فریقوں کے درمیان متفقہ طورپر طے ہواہے جن میں ایک جانب فاتح اور دوسرا مجبور محض ہے۔ امریکا مجبور تھا کہ امارتِ اسلامیہ کی وہ طویل ترین جد وجہد اور مسلح مبارزہ کے آگے جھک جائے، جس کے نتیجہ میں مظلوم افغان قوم استعمار کے خاتمہ کے بعد ایک ایسا افغانستان دیکھے جو اپنے پاؤں پر کھڑا اور ایک مکمل اسلامی نظام کا حامل ہو-
معاہدہ کی بعض وہ اہم شقیں جو امارتِ اسلامیہ نے مطلوبہ نتائج کے طور پر حاصل کرلی ہے:
۱- استعمار کا خاتمہ:معاہدہ میں ملک کی مکمل آزادی کی ضمانت دی گئی ہے-امارت اسلامیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ استعمار کی حالت میں استعماری ٹولہ سے ہر طرح کا افہام وتفہیم دینی اور ملی خیانت کے ساتھ اپنے آپ کو دھوکہ دینے اور دین وعقیدے کے دشمن کے سامنے سرخم تسلیم کرنا ہے-اس بنیاد پر پہلا اور بنیادی ہدف استعمار کاخاتمہ تھا تا کہ دیگر مطالبات کے لیے راہ ہموار ہوجائے-
۲- اسلامی نظام:امارتِ اسلامیہ کا نظریہ ہے کہ استعمار کے سایہ تلے ہر نظام اور ہر قانون ناجائز ہے -امارتِ اسلامیہ افغان قوم کے لیے افغانستان کی آنگن میں ایسے نظام کے متمنی ہے جو شریعتِ اسلامیہ کو نافذ اور مظلوم افغانوں کے آنسو کو پونچھے-دنیا کے ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعاون کی بنیاد پر روابط بنائے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے-
.۳- بین الافغان مذاکرات:معاہدہ میں بین الافغان مذاکرات اصطلاح درج کرنے کے ساتھ ہی امارتِ اسلامیہ نے افغانستان میں آنے والا اسلامی نظام کے بارے افغانوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اپنا موقف ثبت کرایا -اور واضح کردیا کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ امارتِ اسلامیہ اور افغانی جہات کے درمیان چلتا رہے گا جس میں کابل انتظامیہ بھی ایک جہت کے طور پر شامل ہے-کابل انتظامیہ کی یہ حیثیت بالکل نہیں کہ وہ ایک حکومت،نظام یا ریاست کے طور پر شرکت کرلے-
.۴- افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بیرونی مداخلت کا سدباب:دوحامعاہدہ میں امریکا نے اس بات پر یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کے مستقبل اور بین الافغان مذاکرات سمیت افغانستان کے کسی بھی قومی اور ملی ایشو میں وہ مداخلت نہیں کرے گا-
مندرجہ بالا کامیابیوں کی بنیاد پر امارتِ اسلامیہ افغانستان اپنے ملک کے روشن مستقبل کے لیے مطمئن اور پر امید ہے-بجائے اس کے کہ کابل انتظامیہ کے چند ہوس پرست ،مال ودولت اور اقتدار کے پرستار غلاموں کے مطالبات پر توجہ دی جائے اور ان کی واحد تمنا یعنی اقتدار کے بخرے کیے جائیں یہ اطمینان کرلیں کہ بین الافغان مذاکرات کے نتیجہ میں ایک صاف شفاف اور سچا اسلامی.نظام قائم ہوگا جو مظلوم افغان قوم کی خدمت کے لیے ہمہ تن کوشاں ہوگااور مقدس شریعت کی روشنی میں اپنی قوم وملت کے لیے خوشحال اور پر امن فضاء ہموار کردے گا-
قرآن وسنت کے نام سے کابل انتظامیہ کس طرح مفاد حاصل کرنا چاہتی ہے؟
امارتِ اسلامیہ نے مذاکرات کے لیے دوحا معاہدہ کو کوئی تشریعی بنیاد نہیں بنایا ہے (کہ اس کی بنیاد پر ڈھنڈورا پیٹا جائے)بلکہ ان پیش قدمیوں اور کامیابیوں کی حفاطت کے لیے بنیاد بنایاہے جو بین الافغان مذاکرات کے لیے مشعلِ راہ بننی چاہیے-امارتِ اسلامیہ کابل انتظامیہ سے حکومت اور نظام کی حیثیت سے مذاکرات کے معاملات آگے نہیں بڑھاتی بلکہ افغانی جہات میں جس طرح ہر گروہ اپنی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے اسی طرح کابل انتظامیہ بھی ایک ٹولہ ہے جو ٹولے ہی کی حیثیت سے مذاکرات میں شریک ہے-
مذاکرات کا محور آئندہ کے لیے اسلامی حکومت کے دائرہ میں شرعی قوانین کی تنفیذ، اس کی کیفیت کی تشریح،رعایا کے حقوق کے میکانزم اور ان تحفظات کے بارے میں بحث ہوگا جو شرکاء آئندہ حکومت کی تشکیل اور قوانین کے بارے میں رکھتے ہیں-امارتِ اسلامیہ کا یہ موقف امریکا جو کہ براہِ راست افغانستان پر ناجائز قبضہ اور غصب میں ملوث ہے نے دوحا معاہدہ میں تسلیم کیا ہے-امارتِ اسلامیہ نے امریکا سمیت تمام بیرونی قوتوں کو آئندہ اسلامی نظام کے ایجاد،تشکیل اور ساخت کے بارے میں ہر طرح کی سیاسی اور نظامی مداخلت سے منع کیا ہے اور امریکا نے بھی دوحا معاہدہ میں اس کی تائید اور پاسداری کاوعدہ کیا ہے-
کابل انتظامیہ چاہتی ہے کہ جو حیثیت انہیں دوحا معاہدہ میں ملی ہے وہ قرآن وسنت کے نام کو استعمال کرکے اپنے لیے مستقل حیثیت حاصل کرلے-
اس کے ساتھ مذاکرات کے نتیجہ میں ہونے والے فیصلوں کی تعمیل کے لیے ضمانت کے نام پر ایک دفعہ پھر بیرونی مداخلت کے لیے سدابہار راہ ہموار کررہی ہے-
کابل انتظامیہ دوحا معاہدہ اور بالخصوص مندرجہ بالا شقوں سے اس لیے خوف محسوس کررہی ہے کہ اس کی رو سے انہیں مستقل حیثیت ملی ہے اور نہ ہی آئندہ نظام میں بیرونی مداخلت کے لیے کوئی گوشہ چھوڑا گیا ہے -اگر چہ یہ مداخلت ضمانت کے نام سے ہو یا کوئی اور لیبل لگایا گیا ہو-

امارتِ اسلامیہ کا ہر فیصلہ قرآن وسنت کی روشنی میں ہوگا!
یہ کہنا کہ دوحا معاہدہ کو بین الافغان مذاکرات کے لیے بنیاد بننے سے ختم کیا جائے اور قرآن وسنت کو معیار بنا کر ان کی روشنی میں عمل کیا جائے امارتِ اسلامیہ کے خلاف ایک پروپیگنڈا ہے؛اس لیے کہ دوحا معاہدہ مکمل طور پر قرآن وسنت کا مظہر اور اس کا ہر مادہ قرآن وسنت اور شریعت مقدسہ پر مبنی ہے-
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ہر مادہ کے لیےدین اسلام کے مایہ ناز علمائے کرام اور شیوخ عظام سے طویل ترین مشاورت کے بعد اسے معاہدہ میں جگہ دی گئی ہے-امارتِ اسلامیہ جس کا بنیادی ہدف ہی قرآن وسنت کا نفاذ ہے اور اسی کے لیے اپنا مبارزہ جاری رکھا ہوا ہے اپنے اوپر لازم سمجھتی ہے کہ استعمار کے سایہ تلے تشکیل شدہ قوانین،شریعت سے متصادم بے دینی پر مبنی وہ رواجات جو ترقی کے نام پر وجود پاگئے ہیں،اور وہ تمام سیاہ دھبے جو پیش رفت کے نام پر رونما ہوئے ہیں اور دین متین کی روح سے تضاد رکھتے ہیں کو مذاکرات کی میز پر نہ لایا جائے-
بلکہ ان سب کو قرآن وسنت کی مقدس ہدایات اور روشنی میں تحلیل کیا جائیں-
مذاکراتی ٹیم سے کابل انتظامیہ کا بطور آلہ کار استفادہ اور امریکا کی ذمہ داری:
اگر چہ مذاکراتی ٹیم کی ساخت روزِ اول سے تحفظات موجود تھے مگر چونکہ مخالفین کی اکثریت کی نمائندگی اس میں موجود تھی اس لیے امارتِ اسلامیہ کی مذاکراتی ٹیم اس کے ساتھ مذاکراتی میز پر آبیٹھی-
لیکن کابل انتظامیہ کے اقتدار کے نشہ میں دھت افراد جو ہر موقع پر اپنے ذاتی مفادات اور اقتدار کو طول دینے کے لیے استفادہ کرنے کی تاک میں رہتے ہیں انہوں نے اس موقع کو بھی غنیمت جانا اور اپنی خوابیدہ قسمت کو جگانے کے لیے مذاکراتی ٹیم کو امتحان کے میدان میں دھکیل دیا-
ان کی تمنا یہ رہتی ہے کہ مذاکراتی ٹیم سے بطور آلہ کار استفادہ کرتے ہوئے آخری چانس کے طور پر اپنی دیرینہ تمناؤوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے اور اپنا جائز اقتدار برقرار رکھ کر ڈیموکریسی سمیت انیس سالہ جرائم کو بنامِ پیش قدمی محفوط رکھ سکے-جس کی بنیاد پر افغانی گروہوں کی ٹیم کو برائے نام اسلامی جمہوریت کی بے صلاحیت ٹیم کا نام دیا اور بین الافغان مذاکرات کے اصل موضوعات کی بجائے اپنی بیہودہ فرمائشیں تھمائی گئیں-
امریکا پر بحیثیتِ ایک ریاست دوحا معاہدہ کی بنیاد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مذاکراتی ٹیم کی راہ میں جو رکاوٹیں آتی ہیں ان کو دور کردے اور اپنے اصلی موضوع کی جانب انہیں متوجہ کرے-کیونکہ امریکا کے ساتھ اس طرح کے بین الافغان مذاکرات پر اتفاق ہوچکا ہے جس کی ٹیم افغانی سیاسی جماعتوں تشکیل ہو،اور اس کے ارکان انفرادی یا جماعتی دائرہ میں نمائندگی کرتے ہو،اور کابل انتظامیہ بھی ٹیم کے ایک رکن کی حیثیت سے شرکت کے مجاز ہو-
افغان سیاسی جماعتوں کی مذاکراتی ٹیم کو مشورہ:
امارتِ اسلامیہ جس نے امریکی حکومت کے ساتھ استعمار کے خاتمہ کا معاہدہ کیا ہے یہ عزم رکھتی ہے کہ ملک کے اندرونی مسائل افغان سیاسی جماعتوں کے ساتھ حل وفصل کرے-امارتِ اسلامیہ بین الافغان مذاکرات میں دوحا معاہدہ کے راستے سے داخل ہوئی ہے اور اسی راستے کو آگے معاملات بڑھانے کے لیے اسی راستے کو بنیاد بنا کر سفر جاری رکھے گی-
بین الافغان مذاکرات جس طرح ستم زدہ افغانوں کی امید برآری کے لیے ایک آسان اور مختصر آپشن ہے اس لیے اس پر اچھا نتیجہ برآمد کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات،حقیقت پر مبنی اور قومی جذبہ سے ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے-
اس بنیاد پر افغان سیاسی جماعتوں کو بطورِ مشورہ درج ذیل گزارشات پیش کرنا چاہتاہوں:
۱-مذاکراتی ٹیم کو حکومت کے دائرہ سے نکالنا ضروری ہے-اگر مذاکراتی ٹیم کو حکومتی ٹیم کے نام سے متعارف کرایا جائے گا تو یہ برملا مذاکراتی ٹیم کی توہین اور دوحا معاہدہ سے تصادم کی کیفیت ہوگی-
۲-مذاکراتی ٹیم کو فرمائشی ایجنڈوں سے اجتناب کرنا چاہیے-آئندہ حکومت کے متعلق اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو، یا کوئی رائے ہو یا پھر کوئی تحفظ ہو تو اس پر بحث کرنی چاہیے-
۳-بعض افراد اور جماعتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے جو خلاء موجود ہے اسے جلد سے جلد پاٹنا چاہیے -امارتِ اسلامیہ کی انٹرا افغان ڈائیلاگ میں موجودگی اس لیے نہیں کہ اقتدار کو طرفین کے درمیان تقسیم کیا جائے-بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہر افغانی گروہ اور سرکردہ شخصیت کے مطالبات،تحفظات کو سنے اور انہیں باور کرائے کہ آئندہ حکومت میں ہر افغان باشندے کو جگہ حاصل کرنے کا حق ہے-
اب بعض سرکردہ شخصیات جیسے احمدشاہ مسعود اور برھان الدین ربانی کے گھرانے یا ان کی طرح دیگر مشہور اور قومی سربراہ افراد وارننگ دے رہے ہیں کہ رواں مذاکرات اور ان کے نتیجہ میں ہونے والے فیصلے ہمیں منظور نہیں ہیں-اس طرح کے افراد کو حالات کے پیشِ نظر ضرور مذاکراتی ٹیم میں جگہ دینی چاہیے-

Related posts