اکتوبر 24, 2020

امارت اسلامیہ کی امدادی سرگرمیاں

امارت اسلامیہ کی امدادی سرگرمیاں

تحریر: مستنصر حجازی

امارت اسلامیہ کی ایک تصویر وہ ہے جسے استعمار کی ایما پر دجالی میڈیا نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے، ایسی تصویر جس میں وہ صرف مرنے مارنے پر یقین رکھنے والے تہذیب و تمدن سے عاری انسان دشمن گروہ ہے۔لیکن ایک ان کا اصل روپ ہے جو پچھلے بیس سالوں سے دنیا سے دانستہ طور پر چھپایا گیا تھا۔ اس حقیقی اور اصلی شکل سے اب سوشل میڈیا کی بدولت دنیا دھیرے دھیرے باخبر ہورہی ہے، جیسے جیسے امارت اسلامیہ کا حقیقی روپ دنیا کے سامنے ظاہر ہورہا ہےاس کے بارے میں اہل فکر و دانش کی رائے بھی تبدیل ہورہی ہے۔کیوں کہ دنیا کو معلوم ہورہا ہے کہ یہ سچے کھرے لوگوں پر مشتمل عوام دوست گروہ ہے۔ان کا بس چلے تو دنیا کے کسی بھی رفاہی ادارے سے زیادہ غریب عوام کی مددکرے، انھیں تعلیم دلائے اور خوشحال زندگی کے مواقع بہم پہنچائیں۔گذشتہ چند مہینوں میں امارت اسلامیہ کے رفاہی کمیشن نے ملک کے مختلف صوبوں میں غریب و نادار لوگوں کی مدد کی۔ نقدی دیے اور شیائے خورد نوش فراہم کیے۔ جس سے ان کا امیج بہتر ہوا ہے۔
اکتوبر کے پہلے عشرے میں امارت اسلامیہ کے رفاہی کمیشن نے صوبہ ہرات کے ضلع شین ڈنڈ کے دو یونین کونسل کے 730 گھرانوں میں امدادی سامان تقسیم کی۔جن میں 3750 نقدی کے علاوہ دو پارسل آٹا، دو کلو نمک اور دیگر روزمرہ ضروریات زندگی کے اشیا شامل تھے۔اس سے قبل ضلع شین ڈنڈ ہی کے چار یونین کونسلز کے غریب گھرانوں میں 2000 نقدی تقسیم کیے تھے۔ ستمبر میں بھی صوبہ میدان وردگ کے ضلع چک میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سامان تقسیم کی۔یہ امدادی سامان ضلع چک کے سیاب اور حکیم خیل علاقوں میں تقسیم کیے، جس میں ایک بوری آٹا، ایک واٹر کولر، کپڑے دھونے کا بڑے سائز کا تھال، چار کلو چاول، ایک کمبل، 11 ہزار نقدی شامل تھے۔ اگست میں صوبہ بغلان کے ضلع نہرین میں بھی امارت اسلامیہ کے رفاہی کمیشن کی جانب سے 24 مستحق گھرانوں میں 530 من گندم تقسیم کیے۔جولائی میں صوبہ پکتیکا میں چار ہزار مستحق گھرانوں میں امدادی سامان تقسیم کی۔جس میں آٹا، گھی، دال، نمک اور دیگر ضروری چیزیں شامل تھیں۔
رفاہی کمیشن کی ان سرگرمیوں پر ایک نظر ڈال لینے سے امارت اسلامیہ کی عوام دوستی اور خلق خدا کی خدمت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یہ سب ایسی حالت میں ہورہا ہے جب امارت اسلامیہ حالت جنگ میں ہے، ایسی مثال شاید ہی دنیا میں کہیں اور ملے۔یہ امارت اسلامیہ کا وہ رخ ہے جسے پچھلے بیس سالوں سے دانستہ طور پر دنیا سے چھپایا گیا تھا۔اب دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ امارت اسلامیہ داعش یا کسی دوسرے مسلح گروہ کی طرح نہیں ہے جن کے پاس نہ کوئی وژن ہے اور نہ ہی کوئی واضح پروگرام۔ امارت اسلامیہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا نفاذ چاہتی ہےجس کے لیے وہ جہاں میدان جنگ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتی وہاں سیاسی میدان میں بھی مذاکرات اور بات چیت سے نہیں چوکتی اور اسی حالت میں وہ افغانستان کے مظلوم مسلمانوں کی مالی مدد بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

Related posts