اکتوبر 24, 2020

بین الافغان مذاکرات سے متعلق امارتِ اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کی تازہ ترین گفتگو

بین الافغان مذاکرات سے متعلق امارتِ اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کی تازہ ترین گفتگو

ترتیب وترجمہ:سید افغان
سوال: ابھی تک آپ لوگوں کے درمیان دو نقطوں پر ڈیڈلاک برقرار ہے اور اختلاف موجود ہے-تو کیا حل کے لیے کسی اور طریق کار پر غور کیا گیا ہے؟ اور یہ بھی بتادیجیے کہ آپ کی طرف سے کس حد تک لچک دکھائی گئی ہے؟
ڈاکٹر صاحب: سب سے پہلے میں آپ کو اور تمام سننے اور دیکھنے والوں کو سلام کہتا ہوں-سوال سے متعلق یہ بتاتا چلوں کہ گزشتہ کل مذاکراتی ٹیموں کی رابطہ کمیٹیاں آپس میں بیٹھی ہیں اور اختلافی نکات پر بحث کی ہے اور ان کمیٹیوں کی یہ مجالس اسی طرح جاری رہیں گی ۔ ہمیں امید ہے کہ جلد ہی طرز العمل پر بات مکمل ہو گی پھر ہم ایجنڈا پر بحث شروع کریں گے-
سوال: کچھ بتائیں گے کہ جن نکتوں پر اختلاف ہے وہ ہیں کیا؟
ڈاکٹر صاحب:یہاں میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مذاکراتی ٹیموں نے اتفاقِ رائے سے یہ طے کیا تھا کہ جب تک کسی بات پر افہام اور تفہیم کا مرحلہ مکمل نہ ہو اور دونوں طرف سے اس پر مکمل اتفاق نہ ہو اس وقت تک اسے پبلک نہیں کریں گے-لیکن بدقسمتی سے جانبِ مقابل نے اس پر انتہائی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو بات اختلافی تھی اس کو بھی میڈیا پر نمایاں کرلیا جس سے دو نقصان ہوئے-ایک تو جانبِ مقابل نے معاہدہ سے رو گردانی کی اور ساتھ میں اس بات سے غلط فائدہ اٹھایا گیا اور طرح طرح کے منفی پروپیگنڈے وجود میں آگئے-
میں اپنی قوم اور ملت کو بتانا چاہتا ہوں کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ ملکی تاریخ کا ایک بہت ہی اہم اور نازک موڑ ہے؛ اسی لیے ہم نے اپنی جانب سے مکمل سنجیدگی اور ذمہ دار ہونے کا ثبوت دیا ہے-یہ بات ایک دفعہ ظاہر ہوئی ہم نے برداشت سے کام لیا-دوسری دفعہ پھر ظاہر ہوئی اور اب مسلسل اس کا غلط طرز سے ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے؛ اس لیے ہم وضاحت دینے پر مجبور ہوگئے-
سب سے پہلے جب ہم اور جانبِ مقابل ایک مجلس میں بیٹھے تو ہم نے ایک مسئلہ یہ پیش کیا کہ جو بات،جو مسئلہ اسلامی اصول اور ملکی مفاد سے متصادم ہو اس کو ایجنڈا میں شامل نہیں کریں گے-جانبِ مقابل نے اس سے مکمل اتفاق کرلیا-اور تسلیم کرلیا کہ ہماری جو بھی بات ہوگی وہ قرآن وسنت کے ڈھانچے اور دائرے میں ہوگی اور ان سے سرِمو انحراف نہیں ہوگا-
یہ طے ہونے کے بعد جب باتوں میں مزید پیش رفت ہوئی اور بحث آگے بڑھی تو جانبِ مقابل نے پھر وہی مسئلہ اٹھایا،جس پر ہم نے کہا کہ وہ تو شروع میں حل ہوچکا ہے اس لیے اب آگے بڑھنا چاہیے – مگر جب ان کا اصرار بڑھا اور معاملہ اٹک گیا تو ہم نے یہ تجویز پیش کی کہ معاملات رو بہ ترقی لے جانے کے لیے یوں لکھیں گے کہ یہ مذاکرات قرآن وسنت اور احکامِ شریعت کی تطبیق اور اسلامی نظام کی تنفیذ کے لیے دوحا معاہدہ کی بنیاد پر ہونگے؛کیونکہ اس میں ایک شق یہ تھی کہ چھ ہزار قیدیوں کے تبادلہ کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہونگے-
اس پر یہ بات باہر آئی اور منفی رخ میں لے جائی گئی- حالانکہ جو قرآن وسنت کا مسئلہ ہے وہ پہلے مرحلہ میں حل ہوگیا تھا اور اس کی پیشکش بھی ہم نے ہی کی تھی-
سوال: آپ جس اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں کیا وہ کابل میں موجودہ نظام سے مختلف ہے؟ یا آپ کے نزدیک کیا کیا فرق ہیں ان دونوں میں؟
ڈاکٹر صاحب: ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ اسلامی نظام میں آزادی،خود مختاری اور استقلال ہوگا-اجنبی جہاز،اغیار کے ٹینک اور پرایوں کی بالادستی نہیں ہوگی-
دوسرا فرق یہ ہے کہ اسلامی نظام میں کرپشن اور فساد نہیں ہوگا-
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا کے سامنے کابل انتظامیہ کے زیر سرپرستی محض لوٹ مار،بداخلاقی اور فساد کی نت نئی قسمیں ظاہر ہورہی ہیں جو افغان قوم کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں-
جب اسلامی نظام نافذ ہوگا تو یہ سب کچھ ختم اور ہر سونیک نامی ہی نیک نامی ہوگی-
سوال: آپ پر الزام ہے کہ آپ امن خراب کررہے ہیں،جس کی تازہ مثال ہلمند میں رواں جھگڑا ہے-جو فریقین کے علاوہ اہلِ علاقہ کے لیے بھی گھمبیر صورتحال پیدا کرنے کا باعث بن رہاہے؟
ڈاکٹر صاحب: یہ الزام محض ایک بھونڈےپن کا اظہار ہے-ہمیں امن خراب کرنے اور تخریب کاری کاالزام دینے والے یہ لوگ بتاسکتے ہیں کہ کابل میں امن خراب کرنے کی پشت پناہی کون کررہے ہیں؟ پرائیوٹ ملیشیا کس مقصد کے لیے تشکیل دیا جاریا ہے؟ جگہ جگہ ناکہ بندی کرکے عوام کو لوٹ مار کا نشانہ کون بنارہا ہے؟ چیک پوسٹوں پر ہزار روپے کی معمولی رقم پر قوم کا خون کون بہارہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اپنا کیا دھرا چھپانے کے لیے الزام تراشی کاسہارا لے رہے ہیں-ھلمند میں ہم نے کیوں یہ اقدام اٹھایا ہے؟ یہ سمجھنے کی بات ہے-وہاں کی آبادی وہاں کی انتظامیہ کی غنڈہ گردی سے اتنی تنگ آچکی تھی کہ جان جوکھوں میں پڑگئی اور ہم سے مسلسل تقاضا کررہی تھی کہ ہم انہیں اس کشمکش سے چھٹکارادیں- اسی بنیاد پر ہم نے کاروائی شروع کی-
کل کو اگر ہم کابل میں عوام کی مدد کے لیے میدان میں آئیں اور وہاں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف کوئی اقدام کریں -اس وقت بھی یہ لوگ ہمیں تشدد کاالزام دیں گے؛ کیونکہ یہ اپنی بقاء اسی میں دیکھتے ہیں-حالانکہ ہم صرف اور صرف اپنی قوم اور ملت کی بہبود اور خوشحالی کے لیے اپنی جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں-

Related posts