اکتوبر 24, 2020

حقیقتِ حال از ذبیح اللہ مجاہد

حقیقتِ حال از ذبیح اللہ مجاہد

ترتیب وترجمہ:ابومحمد الفاتح

اس وقت ایک طرف قطر میں بین الافغان مذاکرات جاری ہیں تو دوسری جانب صوبہ ہلمند میں کئی دنوں سے کشیدگی کی بڑھتی صورتحال کے اطلاعات ہیں-اس موقع پر میڈیا اور دیگر بعض حلقوں کی جانب سے منفی پروپیگنڈے اور تبلیغات کاپرچار کیا گیا جس کے ردعمل کے طور پر امارتِ اسلامیہ کے ترجمان جناب ذبیح اللہ مجاہد نے اصل صورتحال، اسباب اور عوامل کی نشاندہی فرمائی-وقت کی ضرورت کے پیش نظر چند اہم نکات پیشِ خدمت ہیں:

سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ ہم نے ملک بھر میں جنگ کی سطح بہت ہی معمولی رکھی ہے-ہم اس وقت جہاں جہاں بھی مصروف ہیں اس کو ایک استثنائی حالت سمجھیں۔ کیونکہ ہم بالکل دفاعی حالت میں ہیں -ہلمند میں اس وقت جو کچھ چل رہاہے اور جس کے بارے میں غلط پروپیگنڈے ہورہے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ جانبِ مقابل نے ہماری امن پر مبنی پالیسی سے غلط استفادہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی اور حدود سے تجاوز کی- ہم نے بڑا عرصہ برداشت اور تحمل سے کام لیا لیکن ان کی تجاوزات اتنے ہی بڑھتے رہے اس لیے ہم ردعمل پر مجبور ہوئے-
دوسری بات یہ ہے کہ ہم اس وقت صوبہ ہلمند کے جن مضافات میں برسرِ پیکار ہیں یہ وہاں کے عوام کے مطالبہ پر ایسا ہواہے؛کیونکہ وہاں کابل انتظامیہ کے غنڈوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی-
جانب مقابل اوچھے ہتھکنڈوں پہ اتر آیا ہے اور یہ الزام لگارہا ہے کہ رہا ہونے والے قیدی دوبارہ محاذوں پر آگئے ہیں اور تشدد کے اضافہ کا باعث بن رہے ہیں-ہم اس الزام کی شدت سے تردید کرتے ہیں کہ اول تو کابل انتظامیہ نے ان قیدیوں کی ایسی حالت چھوڑی نہیں ہے کہ وہ دوبارہ جنگ کے قابل ہوں- وہ علاج اور تعلیم میں مصروف ہیں -پھر ہم ہر میدان کے لیے بااستعداد لوگ رکھتے ہیں، ان قیدیوں کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں ہے-اس کے لیے ہم نے اپنے تمام ذمہ داروں کو باقاعدہ ہدایات دی ہیں کہ کسی رہاہونے والے قیدی کو میدانِ جنگ میں شرکت نہ کرنے دے-
ایک تہمت یہ بھی لگائی جارہی ہے کہ ہلمند میں رواں جھگڑا ہمسایہ ممالک کی پشت پناہی پر ہورہاہے لیکن یہ الزام اتنا پرانا ہوچکا ہے کہ سنتے ہی اس کا جھوٹ ہونا آشکارا ہوجاتاہے-یہ الزام درحقیقت وہ لوگ لگاتے ہیں جنھیں افغان قوم کی حقیقت سے واقفیت نہیں، جس قوم نے ایک دو نہیں کئی سپر طاقتوں کو یہاں زیر کیا ہو اسے کسی اور سے کیا رہنمائی لینے کی ضرورت ہے؟
ہم چیلنج دیتے ہیں پوری دنیا کو کہ ہمارے جہاد کے ابتداء سے لے کر آج تک کی پوری مدت میں ہمارا کسی ایک ملک سے تعلق ثابت کرے-لیکن ہمیں یقین ہے کہ ایسا کسی سے نہیں ہوگا-
امن عمل کے لیے دوطرفہ کوشش کی ضرورت ہے-ہم دیکھ رہے ہیں کہ کابل انتظامیہ کے اہم افراد تخریب کاری کررہے ہیں-جگہ جگہ نئے محاذ کھول رہے ہیں -ملک کو فساد کی چنگل میں دھکیل رہے ہیں یہ حالت ہم برداشت نہیں کرسکتے -کابل کے عوام موجودہ فساد کے خاتمہ کے لیے ہمیں دہائی دے رہے ہیں-ہلمند میں عوام نے ہم سے مکرر مطالبہ کیا کہ کابل انتظامیہ نے ہمارے گھروں کو مورچے بنارکھا ہے۔ -ہمارے اموال اور عزتوں پہ دن دہاڑے ڈاکے پڑرہے ہیں-ایسے میں ہم مجبور ہیں کہ اقدام کریں-ورنہ تو ہم نے پورے ملک میں حالت بہت ہی کنٹرول میں رکھی ہے-
جو لوگ اپنے گھروں سے نکل کر بے گھر ہوئے وہ اپنی جان کی حفاظت کے لیے گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک عارضی حالت ہے جو جلد ہی انتہاء کو پہنچے گی اور وہ لوگ ہمیں بتارہے ہیں کہ یہی حالت کابل انتظامیہ کی موجودگی سے ان کے لیے حد سے زیادہ خوشگوار ہے –
ہم مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں اور افہام وتفہیم سے مسائل کاحل چاہتے ہیں اسی لیے ہم نے اصول کی راہ اپنا کر ایک بہت ہی مضبوط ٹیم مذاکرات کے لیے قطر بھیجی ہے۔ لیکن دوسری طرف کابل انتظامیہ مسلسل رکاوٹیں ڈال رہی ہے جس کے لیے ہمیں مجبورا جنگ کاآپشن اختیار کرنا پڑتا ہے-
میں پھر کہتاہوں کہ جنگ ہماری مجبوری ہے -ہم جنگ کے ذریعہ کوئی امتیاز حاصل کرناچاہتے ہیں نہ ہی ہمیں امتیاز کی ضرورت ہے-ہمیں احساس ہے کہ جنگ میں ہمیں ہی قربانی دینی ہے اور ہمارے اعزہ واقرباء کو قربان ہونا پڑتاہے-ہم ایک منطقی حل چاہتے ہیں اور اسلامی نظام کی حاکمیت چاہتے ہیں -اگر یہ مقصد مذاکرات سے حاصل نہیں ہوتا تو ہم مجبورا جنگ کی راہ پر چلیں گے-

Related posts