اکتوبر 27, 2020

حملےاور دعوت، 49 فوجی سرنڈر، کمانڈر سمیت 33 ہلاک

حملےاور دعوت، 49 فوجی سرنڈر، کمانڈر سمیت 33 ہلاک

 

سیکورٹی فوسز پر قندوز،بلخ، پکتیا، غزنی، بغلان، پروان، کنڑ، ننگرہار اور لغمان صوبوں میں حملے اور دھماکے ہوئے،جب کہ خوست، پکتیا، جوزجان اور ننگرہار صوبوں میں 49 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوئے۔

تفصیل کے مطابق صوبہ قندوز کےصدرمقام شورابی قشلاق کے علاقے میں مجاہدین کے مرکز پر حملہ آور کمانڈو کو شدید مزاحمت کا سامنا ہوا، جس کے نتیجے میں 5 اہلکار ہلاک ، 4 زخمی ہوئے ، جب کہ امام صاحب بندر کے قریب مجاہدین نے اینٹلی جنس سروس اہلکار کو قتل کردیا اور ضلع دشت آرچی کے غلام پمپ نامی چوکی پر مجاہدین نے حملہ کرکے اللہ تعالی کی نصرت سے اس پر قبضہ کرلیا اور وہاں تعینات اہلکاروں میں سے 8 ہلاک، 2 زخمی، 2 ٹینک تباہ اور مجاہدین نے اسلحہ وغیرہ بھی قبضے میں لیا۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ ضلع شولگرہ کے نوآباد کے علاقے میں بم دھماکہ سے فوجی ٹینک تباہ اور اس میں سوار اہلکاروں میں سے 3 ہلاک، 2 زخمی ہوئے، جب کہ ضلع چاربولک کے گورتپہ کے علاقے میں فوجی بیس پر ہونے والے حملے میں ایک فوجی ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔

اسی طرح صوبہ پکتیا ضلع پھٹان کے مربوطہ علاقے میں بم دھماکہ سے 2 فوجی ہلاک ہوئے اور صوبہ غزنی کے صدر مقام غزنی شہر میں  مجاہدین نے ضلع خوگیانی اینٹلی جنس سروس آفسر محفوظ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

نیز صوبہ کنڑ ضلع مانوگی کے مانوگی نامی چوکی پر ہونے والے حملے میں ایک فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوئے، جب کہ صوبہ بغلان ضلع دوشی کے کیلہ گی کے علاقے میں کاروان پر ہونے والے حملے میں 2 فوجی ہلاک اور 2 زخمی ہوئے،اسی طرح صوبہ پروان کے صدر مقام چاریکار شہر کے پایان علیا گاؤں میں مجاہدین نے فوجی کمانڈر عتیق اللہ ولد قاضی محمداسلم کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اسی طرح صوبہ ننگرہار ضلع خوگیانی کے  بربہار کے علاقے میں چوکی پر ہونے والے حملے میں  ایک جنگجو ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

دوسری جانب صوبہ لغمان ضلع بادپش کے تودہ چینہ کے علاقے میں چوکی پر حملے میں 4 اہلکار ہلاک ہوئے اور قریبی چوکی پر ہونے والےحملے میں 3 فوجی ہلاک ہوئے اور مجاہدین نے ایک کلاشنکوف بھی قبضے میں لیا۔

کمیشن برائے دعوت و ارشاد کے عہدیداروں کی جدوجہد کے نتیجے میں صوبہ خوست کے نادرشاہ، باک، صبری، اسماعیل خیل اور زازئی میدان اضلاع میں 31 سیکورٹی اہلکار، جب کہ صوبہ صوبہ پکتیا ضلع سیدکرم میں 15 فوجی اور صوبہ جوزجان ضلع منگجیک میں 2 اور صوبہ ننگرہار ضلع شیرزاد میں ایک سپیشل فورس اہلکار نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

Related posts