اکتوبر 24, 2020

امن مذاکرات اور ہلمند کی جنگ

امن مذاکرات اور ہلمند کی جنگ

تحریر: سیف العادل احرار
امارت اسلامیہ اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے بعد مجاہدین نے بڑے شہروں، صوبائی دارالحکومتوں اور بڑے فوجی اڈوں پر فدائی اور جارحانہ حملے نہیں کیے ہیں، رواں سال کے دوران نئے آپریشن کا اعلان بھی نہیں کیا، کچھ عرصہ قبل پکتیا، غزنی اور سمنگان میں تین فدائی حملے بھی ردعمل کے طور پر کئے تاہم دشمن نے مجاہدین کو اشتعال دلانے کے لئے زابل، پکتیا اور بلخ میں شہداء کی لاشوں کی بے حرمتی کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا جس پر امارت اسلامیہ کی قیادت نے دوراندیشی کا ثبوت دیا اور معاہدے کی خلاف ورزی کے بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔
اگرچہ سب یہ جانتے ہیں کہ اشرف غنی اور ایک مخصوص ٹولہ امن عمل کے مخالف ہیں اور کچھ بیرونی عناصر ان کی پشت پناہی کررہے ہیں، ملک کے شمالی صوبوں میں ستر ہزار افراد کو مسلح کرنا اور پرائیوٹ ملیشیا تشکیل دینا اشرف غنی کی بھوکلاہٹ اور حواس باختگی کا اظہار ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ 3 نومبر کو امریکی صدارتی الیکشن میں جوبائیڈن جیت جائیں گے اور وہ طالبان کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر نظرثانی کریں گے اور یوں وہ پانچ سال آرام سے اقتدار میں رہیں گے لیکن وہ بھول گئے کہ اگر ٹرمپ ہار گئے تو بھی 20 جنوری تک وہ وائٹ ہاوس میں ہی رہیں گے۔
افغان فورسز طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں چیک پوسٹیں بنانے کی کوشش کرتی ہیں یا ان علاقوں سے گزرنے کی کوشش کرتی ہیں جن پر مجاہدین حملے کرتے ہیں اور ان کو روکتے ہیں، اس کو بنیاد بنا کر اشرف غنی طالبان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ وہ معاہدے کے برخلاف پرتشدد کارروائیوں میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں اور عالمی سطح پر طالبان پر دباو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، چونکہ طالبان کا ایک موقف ہے اور وہ بار بار یوٹرن لینے یا سمجھوتہ کرنے والے محض سیاسی لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے مشن پر کاربند اور سچے عسکری اور سیاسی رہنما ہیں جو بات کرتے ہیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں، وہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کے لئے پرعزم ہیں۔ وہ مخالفین کے پروپیگنڈے کی پروا کرتے ہیں نہ ہی کسی کے دباو میں آتے ہیں بلکہ اپنی پالیسی کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
گزشتہ تین دن سے اچانک صوبہ ہلمند میں طالبان نے دشمن کی چوکیوں اور فوجی اڈوں پر حملے کیے اور دو دن کے دوران 47 فوجی اڈوں اور چوکیوں کو فتح کر کے چار اضلاع سے دشمن کو پسپا کر کے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ کے دروازے پر دستک دے دی، کابل حکام نے ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی خفت مٹاتے ہوئے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور طالبان پر الزام عائد کیا کہ وہ امن مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے ہیں، انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور صوبائی دارالحکومت پر حملہ کیا لیکن ہم نے ان کا حملہ پسپا کر دیا، اس کے بعد نیٹو افواج کے اعلی کمانڈر جنرل سکاٹ میلر نے بھی امارت اسلامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بند کریں، یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس سے امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جس کے ردعمل میں امارت اسلامیہ ترجمان محترم ذبیح اللہ مجاہد نے اعلامیہ جاری کیا کہ مجاہدین نے عوام کے مسلسل مطالبہ پر نجات آپریشن کیا اور جن علاقوں سے چند ماہ قبل عقب نشینی کی تھی ان علاقوں پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کیا۔
جن علاقوں پر مجاہدین کا کنٹرول ہے وہاں مکمل امن ہے، دوحہ معاہدے کے مطابق قابض افواج کی جانب سے وہاں ڈرون حملے ہوتے ہیں اور نہ مجاہدین کے مراکز اور ٹریننگ سینٹروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جب کہ کابل حکام کے زیر کنٹرول علاقوں میں بدامنی ہے، اغواء برائے تاوان اور ڈکیتی کی واردات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، کابل میں بدامنی عروج پر پہنچ چکی ہے، دن دیہاڑے لوگوں کو مارا جاتا ہے، اس لئے کابل انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں سے لوگ مجاہدین کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سیکورٹِ فورسز اور بدامنی سے انہیں نجات دلائیں۔ قابض افواج کے انخلا کے ساتھ افغان فورسز کے حوصلے پست ہورہے ہیں، پکتیا کے گورنر حلیم فدائی نے واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرویو میں اس کا اعتراف کیا کہ امریکی افواج کے انخلا سے ہماری سیکورٹی فورسز کے حوصلے پست ہوگئے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے لوٹ مار شروع کر دی ہے اور اس بدامنی کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔
کچھ تجزیہ کار اس حملے کو اس زاویہ سے دیکھتے ہیں کہ چونکہ دوحہ میں بین الافغان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور فریق مخالف بہانے ڈھونڈ رہا ہے، لہذا طالبان نے کابل حکام پر دباو لانے کے لئے ہلمند پر حملہ کیا اور یہ عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہو سکتی تو وہ فوجی قوت کے ذریعے اس رکاوٹ کو دور کرسکیں گے، طالبان کے لئے ماحول سازگار ہے، ٹرمپ نے ٹویٹ کر کے اعلان کیا کہ وہ کرسمس تک افغانستان سے اپنی باقی ماندہ افواج کو واپس بلائیں گے، طالبان سمجھتے ہیں کہ جہاد اور ہماری لازوال قربانیوں کی بدولت امریکی اور نیٹو فورسز فورسز افغانستان سے واپس جارہی ہیں، انہوں نے افغانستان پر جارحیت کے ارتکاب کی جو حماقت کی تھی، اس کو دوبارہ نہیں دہرائیں گی، ظاہر ہے کہ جب جارحیت کا خاتمہ ہوگا تو اس کے مضر اثرات کا خاتمہ بھی ضروری ہے، جارحیت کے خاتمے کا کریڈیٹ طالبان نے لیا وہ فاتح بن کر اقتدار حاصل کریں گے، یہی وجہ ہے کہ اشرف غنی اور ان کے ساتھ امن مذاکرات کی راہ میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں لیکن طالبان کے پاس دو آپشن موجود ہیں، وہ اسلام اور ملک کے غداروں کے ساتھ افہام و تفہیم سے نئے افغانستان کے قیام کے لئے مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں، وہ ملک میں جارحیت کے خاتمے کے بعد ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے پرعزم ہیں، اگر یہ آپشن کارآمد ثابت نہیں ہوا اور کابل حکام نے رکاوٹ پیدا کرنے کے لئے مزاحمت کی تو دوسرا آپشن بھی کھلا ہے جس کے ذریعے 58 ممالک کی ڈیڑھ لاکھ افواج نے شکست کھائی، افغان فورسز جن کا شیرازہ جلد بھکرنے والا ہے، مجاہدین کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔

Related posts