اکتوبر 24, 2020

افغانستان ستمبر 2020 میں

افغانستان ستمبر 2020 میں

تحریر: احمد فارسی
نوٹ: یہ تحریر ان واقعات اور نقصانات پر مشتمل ہے جن کا دشمن نے بھی اعتراف کیا ہے۔ مزید اعداد و شمار دیکھنے کے لئے امارت اسلامیہ کی آفیشل ویب سائٹ کا وزٹ کیجئے۔
ستمبر 2020 میں اہم واقعات رونما ہوئے، اس ماہ کے دوران مجاہدین نے متعدد اضلاع پر کنٹرول حاصل کرنے کے علاوہ عسکری محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں، نیز سیاسی محاذ پر بھی یہ مہینہ اہم رہا، ماہ ستمبر میں اہم واقعات اور پیشرفتوں کے حوالے سے درج ذیل سطور میں مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں۔
افغان فورسز کے نقصانات:
یکم ستمبر کو صوبہ تخار میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا، اسی دن قندھار کے ضلع ارغستان کی قومی سلامتی کے ڈائریکٹر کو مجاہدین نے ہلاک کردیا۔ 5 ستمبر کو صوبہ سمنگان میں دشمن کا ایک ڈرون طیارہ گر کر تباہ ہوا، اسی دن کابل شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے کابل ایئرپورٹ کا کمانڈر بھی ہلاک کردیا۔ 7 ستمبر کو صوبہ زابل کے ضلع شہر صفا کے پولیس چیف نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا، اسی دن صوبہ قندوز میں مجاہدین نے دشمن کا ایک ڈرون طیارہ مار گرایا، اور صوبہ کنڑ کے ضلع غازی آباد کا سیکیورٹی انچارج مجاہدین کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔ 16 ستمبر کو کابل میں نامعلوم افراد نے این ڈی ایس کے ایک کمانڈر کو گولی مار کر ہلاک کردیا، 19 ستمبر کو پکتیا کے صوبائی کونسل کے نائب سربراہ ، پکتیکا کے محکمہ تحفظ کے سربراہ اور ضلع یوسف خیل ضلع کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو ہلاک کردیا گیا۔
24 ستمبر کو مجاہدین نے صوبہ بغلان میں فوجی کارروائی کے دوران وزارت دفاع کا ہیلی کاپٹر مار گرایا، 26 ستمبر کو صوبہ بدخشان میں ایک اربکی کمانڈر مجاہدین کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔ 28 ستمبر کو کابل انتظامیہ کے کمانڈوز نے کابل ائیرپورٹ کے ایک فوجی افسر کو اپنے گھر میں ہلاک کر دیا اور 30 ستمبر کو صوبہ بدخشاں کے ضلع کوہستان کا پولیس کمانڈر مارا گیا۔
نہتے شہریوں پر تشدد:
6 ستمبر کو کابل انتظامیہ کے طیاروں نے صوبہ فاریاب میں ایک مسجد اور ایک اسلامی مرکز پر بمباری کی، اسی دن صوبہ ننگرہار میں ایک خاندان کے 4 بچے سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ 8 ستمبر کو صوبہ قندوز میں مزید چار شہری دشمن کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ 9 ستمبر کو سفاک دشمن نے صوبہ غزنی میں ایک دینی مدرسہ پر فضائی حملہ کیا۔ 11 ستمبر کو قابض افواج کے لڑاکا طیاروں نے عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی جس سے کچھ لوگوں کو مالی اور جانی نقصان پہنچا۔ اگلے دن افغان فضائیہ نے صوبہ بغلان میں شہری آبادی پر شدید حملے کیے۔ 12 ستمبر کو دوحہ میں ہونے والے بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب کے دن دشمن کے طیاروں نے صوبہ غزنی میں چار بچوں کو شہید کر دیا۔ 13 ستمبر کو قندھار اور بغلان صوبوں میں بھی دشمن نے شہری آبادی پر حملے کیے۔
19 ستمبر کو قندوز میں کابل انتظامیہ کے وحشیانہ حملے میں درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوئے، اگلے روز صوبہ سمنگان میں تین شہری اور کابل میں دو خواتین شہید ہوئیں۔ 22 ستمبر کو صوبہ ننگرہار میں پولیس گاڑی کی ٹکر سے چار بچے شہید ہوگئے۔
مذکورہ بالا واقعات کابل انتظامیہ کی جانب سے مظلوم اور غریب عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کی ایک مثال ہیں، جب کہ نہتے شہریوں پر تشدد کے واقعات کی صحیح تعداد اور تفصیلات امارت اسلامیہ کی آفیشل ویب سائٹ میں متعلقہ موضوع پر خصوصی رپورٹ میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
مجاہدین کے سامنے سرنڈر ہونا:
امریکہ اور امارت اسلامیہ کے مابین امن معاہدے پر دستخط کے بعد کابل انتظامیہ کے اہل کاروں کی مجاہدین کی صف میں جوق در جوق شمولیت اور آئے روز ہتھیار ڈالنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، اس طرح کی ایک مثال یہ ہے:
6 ستمبر کو امارت اسلامیہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران کابل انتظامیہ کے ایک ہزار سے زیادہ فوجیوں اور اہلکاروں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، اسی دن صوبہ غزنی میں 6 فوجیوں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ 11 ستمبر کو صوبہ نورستان میں 14 فوجی مجاہدین میں شامل ہوئے۔
15 ستمبر کو دشمن کے 61 فوجیوں نے صوبہ بلخ میں مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈالے، 17 ستمبر کو بدخشان اور بغلان صوبوں میں مزید 18 فوجی سرنڈر ہوئے، اگلے روز زابل اور بادغیس صوبوں میں مزید 20 فوجیوں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ 20 ستمبر کو صوبہ میدان وردگ اور صوبہ دایکندی میں اہل تشیع کے سینکڑوں افراد نے امارت اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کر دیا، 23 ستمبر کو صوبہ بغلان میں 22 اہل کاروں اور صوبہ پکتیا میں 11 اہل کاروں نے امارت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی، 26 ستمبر کو صوبہ بدخشاں میں 63 فوجی اور اگلے روز پکتیا میں 8 فوجی مجاہدین میں شامل ہوئے۔ 29 ستمبر کو صوبہ بغلان میں 33 اور میدان وردگ میں 30 فوجی امارت اسلامیہ میں شامل ہوئے۔
الفتح آپریشن:
ماہ ستمبر میں مجاہدین نے کابل انتظامیہ کی فورسز پر سینکڑوں چھوٹے اوربڑے حملے کئے، مثلا: یکم ستمبر کو امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے صوبہ پکتیا میں مرکزی سیکیورٹی سینٹر پر حملہ کیا، جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، 7 ستمبر کو صوبہ غزنی میں مجاہدین کے حملے میں دشمن کے سات کمانڈوز ہلاک ہوئے۔
8 ستمبر کو امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے اعلان کیا کہ انہوں نے صوبہ پنجشیر کے علاقے آبشار میں کابل انتظامیہ کی متعدد چوکیاں تباہ کردی ہیں۔ اگلے روز مجاہدین نے صوبہ قندھار میں پولیس اسٹیشن پر بڑا حملہ کیا جس میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔
21 ستمبر کو مجاہدین نے صوبہ بامیان کے مختلف علاقوں میں بڑے حملے شروع کیے جن میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ 27 ستمبر کو مجاہدین نے ایک بار پھر بامیان میں دشمن کی چوکیوں پر ہلاکت خیز حملے کئے جن میں درجنوں کمانڈوز ہلاک اور زخمی ہوئے، 30 ستمبر کو صوبہ بغلان کا ضلع فرنگ مجاہدین کے قبضے میں آگیا۔
بین الافغان مذاکرات:
امارت اسلامیہ نے 5 ستمبر کو شیخ الحدیث مولوی عبد الحکیم حفظہ اللہ کو مذاکراتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا اور 12 ستمبر کو دوطہ میں بین الافغان مذاکرات شروع ہوِئے جو تادم تحریر جاری ہیں۔
حملہ آوروں کی واپسی:
8 ستمبر کو میڈیا نے خبر شائع کی کہ امریکی افواج نے صوبہ ہرات کے ضلع شينڈنڈ کا ہوائی اڈہ خالی کر لیا، 9 ستمبر کو ٹرمپ نے افغانستان میں اپنی فوجیں کم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 10 سمتبر کو کابل میں قابض فورسز کے اعلی کمانڈر نے اعلان کیا کہ وہ نومبر کے آغاز تک اپنی فوج کی تعداد کو کم کرکے 4500 کردیں گے۔ 11 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ اگر طالبان اپنے وعدے پر عمل کرتے ہیں تو وہ اپنی تمام فوجیں افغانستان سے واپس بلائیں گے اور 14 ستمبر کو کروشین فوجیں افغانستان سے نکل گئیں۔

Related posts