اکتوبر 24, 2020

امارت اسلامیہ قرآن و سنت کو ایک نعرہ نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد چاہتی ہے

امارت اسلامیہ قرآن و سنت کو ایک نعرہ نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد چاہتی ہے

آج کی بات
حال ہی میں کابل کی بکھری ہوئی شرمندہ انتظامیہ کے کارکنوں نے میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے، جس میں انہوں نے طالبان سے قرآن اور سنت کی روشنی میں ان سے بات چیت شروع کرنے کی تجویز دی ہے، دوحہ معاہدے کے تحت نہیں۔
کابل انتظامیہ کے اسلام دشمن اور افغان دشمن حکام قرآن و سنت پر اس وجہ سے اصرار نہیں کرتے ہیں کہ وہ واقعی بھی الہی احکامات اور نبوی ہدایات سے دلی محبت کرتے ہیں، بلکہ یہ دوحہ معاہدے کو خراب اور اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا ہر لفظ اسلام کے مقدس دین کے مطابق ہے اور جس کا منبع قرآن و حدیث ہے، اور جو غیر ملکی قبضے کو ختم کرتا ہے۔ اور جارحیت کی کھوکھ سے جنم لینے والی کرپٹ اور بدعنوان حکومت کو مزید کچھ دن مہلت ملے۔
اگر اسلام ، قرآن و حدیث اشرف غنی اور ان کے حکام کے لئے اتنے اہم ہوتے تو قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک حقیقی اسلامی نظام نافذ کرتے، شرعی حدود اور الہی احکامات کو عملی جامہ پہناتے، ریاستی اداروں اور محکموں کو بدعنوانی سے پاک کرتے، اس وقت افغان عوام اس بات کو تسلیم کر لیتے کہ وہ قرآن اور سنت کو نہ صرف کہنے کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اس کا نفاذ چاہتے ہیں۔
لیکن ایسا نہیں ہے !!
کیونکہ اشرف غنی خود ہی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ وہ نیویارک ، واشنگٹن اور یورپ کے مفادات کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔
کابل انتظامیہ کے حکام نے پہلے بھی قابض افواج کے انخلا کی مخالفت کی تھی اور اب بھی کررہے ہیں اور وہ کوشش کررہے ہیں کہ امریکی اور نیٹو فورسز کو افغانستان سے نہ نکلیں۔
یہی واحد وجہ ہے کہ امارت اسلامیہ دوحہ معاہدے پر اصرار کرتی ہے، کیونکہ اس میں افغانستان کے جاری بحران کی دو بڑی جہتیں ہیں، ایک بیرونی اور دوسری داخلی ، جن کو حل کرنے کے مناسب طریقے کی نشاندہی کی گئی ہے اور جس طرح بیرونی جہت کو معقول انداز سے حل کر دیا، اسی طرح ملکی جہت جو بین الافغان مذاکرات ہیں، کو باوقار اور معقول طریقے سے حل کیا جائے گا۔
لہذا اگر امارت اسلامیہ دوحہ معاہدے کے علاوہ کوئی اور جرگہ یا فریم ورک قبول کرتی ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امارت اسلامیہ "غیر ملکی قبضہ کاروں” کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے دستبردار ہو رہی ہے اور یہ اقدام بلا شبہ افغانستان کے مسائل حل کرنے کے بجائے مزید مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے اور افغان عوام کی تاریخی فتح کو صدمہ پہنچاتا ہے۔
امارت اسلامیہ نے تمام افغان جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الافغان مذاکرات کا یہ سنہری موقع ضائع نہ کریں، دوحہ معاہدے کو کمزور کرنے اور رکاوٹ بنانے کے بجائے اس کو مزید مضبوط بنائیں۔

Related posts