اکتوبر 24, 2020

امارت اسلامیہ اور اظہار رائے کی آزادی

امارت اسلامیہ اور اظہار رائے کی آزادی

ترتیب وترجمہ:سید عبدالرزاق

اس وقت جب کہ امارتِ اسلامیہ اور افغان جماعتوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں انٹراافغان ڈائیلاگ جاری ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ جلد یا بدیر اسلامی نظام نافذ ہوگا-اسلامی نظام کی صورت میں میڈیا اور بیان کی آزادی کو کیا واقعی کوئی خطرہ ہے؟ اس حوالہ سے امارتِ اسلامیہ کے ترجمان جناب ذبیح اللہ مجاہد نے ایک تازہ گفتگو کی ہے جو بہت سارے حقائق پر مشتمل اور منفی پروپیگنڈوں کا رد ہے-چند اہم نکات پیشِ خدمت ہیں:

بیان کی آزادی کے لیے بین الاقوامی سطح پر جو اصول اور قوانین موجود ہیں اور وہ اسلام اور اسلامی اصول سے متصادم نہیں ہیں ان اصولوں سے کوئی اختلاف نہیں-امارتِ اسلامیہ کے لیے ان اصولوں کو جاری رکھنے میں کوئی مسئلہ نہیں –
دوسری بات اس حوالہ سے یہ ہے کہ میں بیان کی آزادی کی کوئی معین تعریف بیان نہیں کرنا چاہتا-البتہ یہ بتاتا چلوں کہ بیان کی آزادی کابنیادی مقصد ملک وملت کے لیے مثبت رویہ،اجتماعی مفادات اور اسلامی اقدار کا تحفظ ہوتا ہے-ہم جس نظام کے قیام کے لیے کوشاں ہیں اور اس وقت اس نظام کی کرنیں نمودار ہوگئی ہیں اس میں بیان کی آزادی کے لیے ایک ایسی جامع تعریف ہوگی جو ملکی اور ملی اجتماعی مفادات اور اسلامی اقدار کو تحفظ دینے کی ضامن ہو-
بیان کی آزادی میں ہم نظام کے حوالہ سے ایسی تنقید کے روادار ہیں جو خلوصِ نیت پر مبنی ہو،قوم کی رفاہ کے لیے ہو،معاشرہ کے اعلی اخلاقی رویہ کاعکس اور پرتو ہو-البتہ تنقید کے نام پر توہین کے روادار ہیں نہ کسی کو اس طرح سے کسی کی پگڑیاں اچھالنے کی اجازت دیتے ہیں-
پوری دنیا میں مشرق سے لے کر مغرب تک کہیں بھی میڈیا یا بیان کے نام پر کوئی لامحدود آزادی نہیں ہے-ہر جگہ کچھ نہ کچھ اصول اور ضوابط اور حدود وقیود موجود ہیں-اس تناظر میں ہم یہ کہتے ہیں کہ افغانستان ایک اسلامی معاشرہ پر مشتمل مملکت ہے-یہاں ایک اسلامی اور افغانی کلچر موجود ہے-مختلف قومیں یہاں آباد ہیں -اگر بیان اس تہذیب،اسلامی اخلاق اور اقدار اور قوموں کی ملی بھگت سے ہم آہنگ ہو تو ایسی آزادی کے ہم نہ صرف اجازت دیتے ہیں بلکہ اس کے خواہاں ہیں-ہاں جو آزادی ان چیزوں سے متصادم ہو اور اس سے ان چیزوں کو صدمہ پہنچتاہو اور اسلامی اقدار پر زد پڑتی ہو تو اس کے لیے عالمی اصولوں کے مطابق ہم رکاوٹ بنیں گے-
اس وقت ایک افسوس ناک امر یہ ہے کہ استعمار کے اثرات سے میڈیا اور بیان کی آزادی بھی متاثر ہوئی ہے-ہم دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا پر قومی،لسانی اور رنگ ونسل کے تعصبات کو ہوا دی جارہی ہیں-میڈیا پر ایسی چیزوں کی اشاعت ہوتی ہے جو قوم وملت اور ملک واسلام کے خلاف ہیں-جب اسلامی نظام کاقیام ہوگا تو ایک ایسا دائرہ کار بنایا جائے گا جو قوم وملت سے ہم آہنگ ہو اور میڈیا کو اس دھارے میں شامل کرکے حقیقی آزادی مہیا کی جائے گی-
اصلاحات کے حوالہ سے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ استعماری اثرات سے میڈیا کو پاک کرنا ضروری ہے-لیکن یہ کوئی قابل تشویش امر نہیں ہے-یہ بہت ہی کم مقدار میں کام ہے جس کی مثال میں یہ دیتاہوں کہ کچھ میڈیا چینل اور اسٹیشنز ہیں جنھیں باہر سے فنڈز ملتے ہیں-ان کو آزاد وبا اختیار کرنا اور انہیں حقیقی افغانی سوچ دینا ایک معمولی کام ہے-اس سے میڈیا کی قانونی آزادی پر کوئی حرف نہیں آتا-
میڈیا کے بارے میں ہمارا یہ تاثر ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کافی حد تک پوری کررہاہے- لیکن اب بھی کچھ کچھ منفی اثرات موجود ہیں-قوم جس چیز کامطالبہ کررہی ہے وہ ابھی تک پوری نہیں ہوپارہی-اسلام جو حکم دیتاہے اس میں بھی کمی ہورہی ہے -اس لیے! اس نکتہ کو مدّنظر رکھنا چاہیے کہ قوم اور دین کی جو ڈیمانڈ ہو اس کو مکمل کیا جائے-اس باب میں ہم اصلاح ضروری سمجھتے ہیں-
بین الافغان مذاکرات میں ہم میڈیا کی موجوگی پر تحفظات نہیں رکھتے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ایک عام اجتماع اور مذاکراتی میز میں بہت بڑا فرق ہے-مذاکرات میں تمام باتوں کو اس وقت تک ظاہر نہیں کیا جاتا جب تک اتفاقِ رائے قائم نہ ہوجائے-ہم اس وقت مذاکرات کی کامیابی کی امید رکھتے ہیں -لیکن اگر میڈیا کو ہر بات حوالہ کی گئی تو خدشات ظاہر ہونگے -جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ مذاکرات میں یہ بات زیرِ بحث لائی گئی کہ اگر مذہب کے حوالہ سے کوئی نکتہ مختلف فیہا ہوجائے تو اس کے لیے میز کی حد تک حل نکالنے کے لیے حنفی مذہب کی طرف رجوع کریں گے-یہی بات جب باہر نکلی تو اس قدر منفی انداز میں پیش کی گئی کہ مذہبی منافرت کاخطرہ پیدا ہوگیا؛اس وجہ سے میڈیا کو اس بات کا از خود احساس ہونا چاہیے-

Related posts