اکتوبر 24, 2020

جنگ جاری رکھنے کے بہانے ڈھونڈنا

جنگ جاری رکھنے کے بہانے ڈھونڈنا

آج کی بات
امارت اسلامیہ اور فریق مخالف کے مابین 12 ستمبر کو دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے لئے ایک پروقار تقریب کا انعقاد ہوا، امارت اسلامیہ کے سیاسی نائب اور سیاسی دفتر کے سربراہ محترم ملا برادر اخوند نے مختصر مگر پرمغز خطاب کیا جس پر تقریب کے شرکاء نے مسرت کا اظہار کیا۔
افتتاحی تقریب کے بعد امارت اسلامیہ اور فریق مخالف کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے لئے طرز عمل یا روڈ میپ تیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ فریقین کے مابین طرز عمل کی تیاری پر تبادلہ خیال شروع ہوا جو دس دن تک جاری رہا اور اب تک بات چیت شروع ہوئے ایک مہینہ گزر چکا ہے لیکن طرز عمل پر اب تک اتفاق نہیں ہوا ہے۔
فریق مخالف طریقہ کار وضع کرنے میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے، اس کا موقف ایک نہیں ہے، کبھی ایک چیز کا بہانہ کرتا ہے اور کبھی دوسری چیز کا بہانہ بنا دیتا ہے، وہ مذاکرات کے طریقہ کار وضع کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرتا ہے اور بین الافغان مذاکرات کے موقع کو ضائع کردیتا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے مخالف فریق جنگ پسند حلقوں کی طرف سے دیئے گئے منصوبے کے مطابق مذاکرات میں تاخیر کررہا ہے اور جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، جو لوگ جنگ کو دوام بخشنے میں اپنے ناجائز ذاتی مفادات کو تلاش کرتے ہیں، وہ یہ بات سمجھ لیں کہ اس راستہ سے نہ صرف وہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہیں گے بلکہ انہیں عوام کی نفرت اور مخالف کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں وہ صدارتی محل سے راہ فرار اختیار کریں گے یا مظلوم لوگوں کے احتساب کا سامنا کرنا پڑیں گے۔
پچھلی دو دہائیوں سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جارحیت کا تسلسل اور جنگ کا دوام مخالف فریق کے مفاد میں بھی نہیں ہے، مخالف فریق کو چاہئے کہ وہ اب جنگ جاری رکھنے کے بہانے تلاش نہ کرے، مظلوم عوام کو اپنے ذاتی مفادات اور بیرونی اہداف کے لئے ہراساں نہ کریں ، ان کے گھروں کو نذر آتش نہ کریں ، مساجد ، اسکولوں اور مدارس کو تباہ نہ کریں اور نیویارک اور واشنگٹن کے تحفظ کے لئے پیارے افغانستان کو تباہ نہ کریں۔
امارت اسلامیہ نے بار بار کہا ہے کہ امن کا یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہئے اور اس سے بڑا فائدہ حاصل کرنا چاہئے لیکن شومئی قسمت کہ فریق مخالف کو امن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ مختلف بہانوں سے امن کے اس اہم موقع کو ضائع کرنے اور جنگ جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امارت اسلامیہ نے ایک بار پھر فریق مخالف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلوص نیت سے مذاکرات میں حاضر ہوں، بہانے تلاش کرنے سے باز آجائیں اور اپنے پیارے ملک اور مظلوم عوام کی نجات ، ترقی اور خوشحالی کے لئے ذاتی اور پارٹی مفادات کو قربان کریں۔

Related posts