اکتوبر 24, 2020

تاریخ کااٹل فیصلہ

تاریخ کااٹل فیصلہ

تحریر:سید عبدالرزاق

تاریخ سب کچھ محفوظ کرتی ہے، زندگی کا کوئی گوشہ ،کوئی اہم موڑ اور کوئی نازک حالت اس بے رحم میموری کارڈ سے کنارہ کشی نہیں کرسکتی-الگ بات ہے کہ کبھی مؤرخ انصاف کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اپنا خورد بین بالکلیہ غیرجانبدار رکھ کر اصل نشانہ پر نظر رکھتاہے تو کشتی واقعی کنارے لگ جاتی ہے-تو کبھی مؤرخ تعصب کی عینک آنکھوں پر جماتا ہے اور زور زبردستی حقائق کو رقابتوں کی نذر کرلیتا ہے اور یوں دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ورغلانے پہ آمادہ کرتا ہے-مگر پھر بھی یہ دبی ہوئی چنگاری ابھر کر آتی ہے اور ورغلانے والوں کے خواہشات اور تمناؤوں کے برعکس، ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتاہے-
ورغلانے والوں نے تو کوشش کی کہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نئی دین،آباء واجداد سے بیزاری اور اپنی وجاہت کاسکہ بٹھانے کی کوشش باور کرائے-اس کاز کے لیے کیا کچھ نہ کیا گیا، کونسی طاقت ایسی تھی جس کااستعمال نہیں کیاگیا؟ کونسا پروپیگنڈا تھا جسے ہردم رچایا نہیں گیا؟ کیا فریب ومکر کی کمانیں تھیں جو ہلائی نہیں گئیں؟ کہاں کہاں سے دلفریبی کے نشتر برآمد کرکے چلائے نہیں گئے؟ دھوکہ دہی کی کونسی صورت ایسی تھی جو بروئے کار نہیں لائی گئی؟
مگر!چشمِ فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ ان تمام ہتھکنڈوں، دھمکیوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود تاریخ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ مقام محفوظ کرلیا جس کے دیکھنے کے لیے گردنوں کی جنبش،سمجھنے کے لیے دماغی صلاحیت،سمیٹنے کے لیے قلبی توانائی،بیان کرنے کے لیے زبانی جمع خرچ،لکھنے کے لیے قلم کی نوک اور محفوظ کرنے کے لیے کاغذ وقرطاس ناکافی ہیں-
خواہش تو یہ بھی تھی کہ دین حنیف کو زیر زمین دفن کرلیا جائے اور ہمیشہ کے لیے اس کے نام لیواوں کا خاتمہ کردیا جائے-جس کے لیے باتیں اتنی بنائی گئیں کہ حق اور باطل کاعنوان ہی دنگل سے نکل گیا-بے جا تہمت کی تو اس حد تک تشہیر کی گئی کہ بڑے بڑے اہلِ حق بھی مخمصے میں دیکھتے رہ گئے-غلط بیانیوں کا سہارا انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس کثرت سے لیاگیا کہ جھوٹ سچ کاروپ دھار گیا-
مگر!تاریخ نے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے حنفیت کی حقانیت جس انداز سے محفوظ کر رکھی تھی اسی انداز سے آشکارا کے رہی اور تاقیامِ قیامت زریں ہی رکھے گی-
تاریخی دریچوں پر جھوٹ اور سچ کی یہ کشمکش آدم کی پیدائش سے لے کر آج تک ہیجانی صورتحال میں چلی آرہی ہے لیکن اصول یہ ہے کہ سچ کا پلڑا جس قدر ہواؤوں کے نالوں میں دھکیلا جائے یہ سب اس کے لیے بہر حال پھونکوں سے زیادہ دیر پا ثابت نہیں ہوتے جو آئے اور گزرے-
اسی تسلسل میں آج سے انیس سال قبل ۷ اکتوبر کو دنیا کی طاقت ور طبقوں نے ایک الزام کی بنیاد پر ایک لاچار اور مجبور پر چڑھائی کرنے کی ٹھانی-امریکا کی سرپرستی میں نیٹو اتحاد نے طاقت کے نشہ میں چور ہوکر افغانستان کا تیا پانچہ کرنے کے لیے مادیات اور اپنی روحانیات جمع کردیں-اعلان یہ کیا کہ ہم اپنا سکہ جمانے کے ساتھ وہاں کے کلچر اور تہذیب وتمدن کا جنازہ نکال کر دم لیں گے-
سازوسامان،آلاتِ حرب،جنگی وسائل،مادی ذرائع اور قوت کی تمام اقسام سمیت میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو بھی برسرِ پیکار کردیا گیا-حقائق کو مسخ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی-واحد اور اکلوتا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کی سرزمین اور اس پاک مٹی کے غیور اور فرزندانِ توحید کو تہس نہس کرکے سدابہار حکمرانی کا جھنڈا لہرایا جاسکے-
چنانچہ فضاؤوں سے بے دریغ بمباری،زمینی سطح پر ٹینک اور گولی کا بے دریغ استعمال کیاگیا-دوسری جانب ذرائع ابلاغ سے افغانستان کے غیور اور بہادر سپوتوں کو بدنام کرنے کی جدوجہد جاری رکھی-امارتِ اسلامیہ کو انتہاء پسند،ٹریرسٹ،دہشت گرد،خون خرابہ پر مبنی اور بشری حقوق سے ناواقفیت پر قائم ایک ظالم اور خونخوار جتھا باور کرانے کی ٹھانی-میڈیا نے بھی حکم کی تعمیل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا-
اس کانتیجہ یہ ہوا کہ طاقت کے استعمال سے فضائیں خون آشام منظر پیش کررہی تھیں-زمین پر بموں اور گولیوں کی پوجھاڑ سے آبادیاں بدترین بربادی کی تصویر بنی جارہی تھیں-چادر اور چاردیواری کی حرمتیں پامال ہورہی تھیں-معصوم عصمتیں لٹ رہی تھیں-خواتین حالتِ زار کی انتہاؤوں کو پہنچی تھیں-افغانستان کے عوام بے تحاشا بغیر کسی مقدمہ کے دنیا بھر کی بدنام ترین جیلوں میں ٹھونسے جارہے تھے-بے گناہ افراد کی شہادتوں کا سلسلہ قائم ہوگیا-اسلامی نظام پر شبخون ماری گئی-لوگ تو کہتے ہیں کہ سیاہ دن تھا لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس دن اور اسی دن کے تسلسل کو نام دینے سے میں عاجز ہوں-
اس تمام پسِ منظر میں امارتِ اسلامیہ اپنی افغانی ملت کی نمائندگی میں یہ موقف اپنارہی تھی کہ زور اور طاقت کسی مسئلہ کاحل نہیں ہے-اگر کوئی بات ہے بھی تو آئیے بیٹھ کر مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعہ اسے حل کرتے ہیں-مفاہمت کے ذریعہ ایک اتفاقِ رائے قائم کرلیں گے اور خون وکشت کے اس ناگفتہ بہ حالت سے بچ جائیں گے-مگر امریکا،نیٹو اور دیگر اتحادیوں کو طاقت کی ایسی لت پڑ چکی تھی کہ بات سننے سے بھی گریزاں رہتے تھے اور بہر صورت تباہی پر تلے تھے-ببانگِ دہل یہ اعلان کرتے تھے کہ آج سے داڑھی پگڑی کلچر اور اسلامی نام لیواؤوں کو زمین بوس ہی کرنا ہے-
مگر!
یہ سچ ہے کہ آپ صبح کی روشنی کو رات کے اندھیرے کے سینے میں چیر پھاڑ سے چھپاسکتے ہیں-دوپہر کی سرسخت گرمی کو ٹھٹھرتی شام کی سردیوں میں ملاسکتے ہیں-صحراے بے گیاہ کو سبزہ زار میں تبدیل کرسکتے ہیں – پر جو نہیں کرسکتے ہو تو تاریخ کا اٹل فیصلہ ٹلا نہیں سکتے-
یہی اٹل فیصلہ تھا کہ آج انیس سال گزرنے پر امریکا نے مذاکرات کی میز پر حاضری دے کر مثبت معاہدہ پر دستخط کردیا اور تسلیم کرلیا کہ تاریخی طور پر جو موقف امارتِ اسلامیہ کا روزِ اول سے تھا وہ درست تھا اور جو ہم نے اپنایا تھا وہ تاریخ نے غلط ثابت کردیا-

Related posts