اکتوبر 27, 2020

امن ، اور پڑوسیوں کی مغرضانہ باتیں

امن ، اور پڑوسیوں کی مغرضانہ باتیں

آج کی بات
ایک ایسے وقت میں جب افغان عوام آج 6 اکتوبر کو بیرونی جارحیت کے 19 ویں برس کے موقع پر جارحیت کے خاتمے اور قیام امن کا انتظار کررہے ہیں، عالمی برادری خصوصا ہمسایہ ممالک سے ایسے تعاون کی توقع رکھتے ہیں جو اس طویل سانحے کے حل میں ممد ثابت ہوں، ایسا نہ ہو کہ ہمدردی کے نام پر افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوشش کی جائے۔
دوحہ میں امارت اسلامیہ اور دوسرے افغان دھڑوں کے مابین جارحیت اور جنگ کے خاتمے کے لئے مذاکرات جاری ہیں، ظاہر ہے کہ مذاکرات میں اختلافات ضرور ہوں گے لیکن دونوں فریقین ان کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ تاکہ حریت پسند افغان مسلم قوم کی امنگوں کے مطابق قومی اور اسلامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی معقول حل تلاش کرسکیں۔
مگر پڑوسیوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کابل حکومت کی زبان استعمال کریں ، افغان عوام خود جانتے ہیں کہ مذاکرات کے لئے کون سا آئین اور کون سا فریم ورک متعین کرنا ہے۔
ایرانی حکومت کے ترجمان کو ضرورت نہیں ہے کہ وہ ایران سے افغان عوام کے لئے فریم ورک بتائیں اور 19 برس کی پیشرفتوں یا نام نہاد آئین کو بہتر قرار دینے کی کوشش کریں، جو حملہ آوروں نے لڑاکا طیاروں کے بل بوتے پر ہماری مظلوم قوم پر مسلط کیا ہے۔
اقلیت ، اکثریت ، سمت ، زبان ، فقہ ، قانون ، فریم ورک اور اسی طرح کے دیگر معاملات، ان سب کا انتخاب افغانیوں کے اپنے اندرونی معاملات ہیں، پڑوسیوں کو ان کے بارے میں ایسے بیانات نہیں دینے چاہیں جو بظاہر تعاون پر مبنی نظر آئیں لیکن در حقیقت داخلی معاملات میں مداخلت ہوں۔
اس سے نہ صرف افغانستان کے مسائل حل ہونے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے افغانوں کے دلوں میں ان پڑوسی ممالک کی ساکھ اور وقار کو بھی نقصان پہنچے گا۔
آج چھ اکتوبر کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کے 19 برس مکمل ہوگئے، جس سے افغان عوام آج تک مشکلات کا شکار ہیں، جب کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بھی بے مثال جنگی جرائم ، بدنامی اور انسانیت کے ساتھ بدترین مظالم کے مرتکب ہوئے، انہیں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا سامنا بھی ہوا، لیکن اس کے نتیجے میں افغانستان کے مظلوم اور بے دفاع لوگوں کو قتل، زخمی اور بے گھر کردیا گیا، ایک بدعنوان انتظامیہ کے ماتحت غصب، چوری ، رشوت ، غداری ، فحاشی، خیانت اور منشیات کی پیداوار اور مختلف قسم کے جرائم ان پر مسلط کر دیئے گئے۔
امید ہے کہ عالمی برادری موجودہ امن اور افہام و تفہیم کے مشن پر کاربند رہے گی، امارت اسلامیہ پورے اعتماد کے ساتھ اس کے لئے پہلے بھی پرعزم تھی اور اب بھی پرعزم ہے۔

Related posts