اکتوبر 24, 2020

19 سالہ امریکی جارحیت کے آغاز کے بابت امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

19 سالہ امریکی جارحیت کے آغاز کے بابت امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

آج سے 19 برس قبل امریکی نے ہمارے ملک پر وحشیانہ جارحیت کی۔

امریکی جارحیت سے قبل امار ت اسلامیہ نے اپنی پرامن پالیسی کی رو سے بار بار مطالبہ کیا کہ تنازعہ کے حل کے لیے احتیاط، تدبر اور پرامن سفارتی پالیسی کو استعمال کرنا چاہیے۔

مگر اس وقت امریکی حکام نے مغرور انداز  میں  امارت اسلامیہ کی گفتگو کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے 15 میزان 1380 ھ ش بمطابق 07 اکتوبر 2001ء کو ہماری سرزمین پر فوجی لشکرکشی کی۔

19 برس کے  بعد تمام فریق امارت اسلامیہ کی اس بات پر متفق ہوئے کہ تنازعہ کو  ابتداء ہی میں افہام وتفہیم اور گفتگو کے ذریعے حل ہونا چاہیے تھا اور اگر اس وقت امارت اسلامیہ کے پرامن تجاویز کو  مثبت جواب دیا جاتا،  تو اتنی طویل جنگ، ظلم وزیادتی، ہمارے نہتے عوام کا قتل عام، زخمی، گھربارچھوڑنے، ایک بدعنوان انتظامیہ کے دائرے میں غصب، لوٹ مار، رشوت، غداری، منشیات کی وسیع تر پیدوار وغیرہ جرائم  کی راہ ہموار ہونے کی روک تھام کی جاسکتی۔

امریکا، اس کے متحدین اور حواریوں کو اتنے جنگی جرائم، بدنامی، جانی و مالی نقصانات کا سامنا نہیں ہونا پڑتا۔

چوں کہ 19 برس کے بعد دوحہ میں امریکی جارحیت کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوئے  ۔ ایک قابل اعتبار   اقرارنامہ اور معاہدہ طے ہونا بھی اچھی بات ہے،اس پر قدم قدم پر عمل درآمد ہونا چاہیے، جس کی رو سے تمام بیرونی افواج  ہماری سرزمین سے نکل جائیں، امریکا سمیت قرب و جوار تمام ممالک کو  ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے،تاکہ افغان قوم آپس میں آزاد اور خوشگوار ماحول میں اپنے ملک کے مستقبل کے متعلق فیصلہ کریں۔

امارت اسلامیہ سازگار ماحول میں  تمام امور کے حل پر مکمل باعزم ہے، مخالفت فریق کو بھی سفارش کرتی ہے کہ موقع کو غنیمت جانیں، صورتحال کو درک کریں اور ایک جامع، خودمختار اور مستقل اسلامی نظام، جو تمام افغانوں کا مطالبہ ہے، کے نفاذ کی راہ میں متحد ہوجائیں اور مزید رکاوٹیں کھڑی  نہ کریں۔ والسلام

امارت اسلامیہ افغانستان

19 صفرالمفظر ھ ق

15 میز ان 1399 ھ ش

06 اکتوبر 2020 ء

Related posts