اکتوبر 24, 2020

نجی ٹی وی سے سیاسی دفتر کے ترجمان کی گفتگو کے اہم نکات

نجی ٹی وی سے سیاسی دفتر کے ترجمان کی گفتگو کے اہم نکات

امارت اسلامیہ کے قطر سیاسی دفتر کے ترجمان اور مذاکراتی ٹیم کے رکن  ڈاکٹر محمد نعیم کی رواں بین الافغانی مذاکرات کے حوالہ سے افغان نجی ٹی وی سے تازہ ترین گفتگو کے چند اہم نکات

ترتیب وترجمہ:سید افغان
<‏مذاکرات کے حوالے سے قوم کو آگاہی دینا قوم کامسلمہ حق ہے-لیکن جن باتوں پر اتفاق رائے قائم نہ ہوئی ہو اس کو شریک کرنا لازم نہیں سمجھتے۔جس وقت یہ اتفاقِ رائے سامنے آئے گی اسی وقت قوم کو سب کچھ بتائیں گے۔
< کابل انتظامیہ کو بحیثیت حکومت تسلیم کیا تھا نہ ان کے ساتھ بطورِ حکومت معاملات کو آگے بڑھارہےہیں۔ جو نظام کابل انتظامیہ کی سرپرستی میں قائم ہے وہ قوم کے عقیدے،تمناؤوں اور مطالبات کے مخالف ہے۔
<ہم قوم کی نمائندگی میں وہ نظام چاہتے ہیں جو اسلامی ہو،کرپشن سے پاک ہو، خود بھی اخلاقیات پر مبنی ہو اور دوسروں کو بھی یہی درس دیتاہو-
<ہم بھی چاہتے ہیں کہ چالیس سال سے مسلط کردہ جنگ انتہاء کو پہنچے، موجودہ مسائل ختم ہوں اور امن قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں- اس لیے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عظیم مقصد ایک یادودن میں حاصل نہیں ہوسکتا-
<ہم اپنے عوام سے رابطہ میں ہیں-ہمیں معلوم ہے کہ وہ ایک آزاد،خود مختار اور سچے اسلامی نظام کے خواہاں ہیں-ہمارا مبارزہ انہیں عوام کے لیے ہے اور یہی قوم ہماری پشت پر کھڑی ہے-
‏ < امریکا کے ساتھ کیے گئے معاہدہ میں کوئی خفیہ دستاویز نہیں ہے، جو کچھ بھی ہے وہ قوم کے سامنے تحریری شکل میں موجود ہے اور وہی ہے جس کی کاپیاں میڈیا میں اسی وقت شائع ہوئیں۔
<جو لوگ ہمارے درمیان اختلاف اور انتشار کی باتیں پھیلاتے ہیں اور منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں انہیں کوئی اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی اس کی طرف توجہ دینی چاہیے-سیز فائر کے وقت ہمارا اتحاد اور یکجہتی دنیا پر کھلم کھلا آشکارا ہوگئی جس کے بعد کسی دلیل کی ضرورت نہیں-
<امارتِ اسلامیہ اپنے فیصلوں میں بالکل آزاد اور خود مختار ہے-آج تک کسی کی فرمائش اور فہمائش قبول نہیں کی۔
<ہم کہتے ہیں سیز فائر سے پہلے وہ عوامل اور اسباب ختم کردینے چاہییں جن کی وجہ سے یہ جنگ کی صورتحال پیش آئی ہے تاکہ پھر ایسی صورتحال کا سامنا نہ ہو-
<ہم عارضی جنگ بندی کبھی نہیں چاہتے۔
<امارتِ اسلامیہ تمام افغانوں پر مشتمل ایک ہمہ جہت نظام ہے اور عملی طور پر اپنے عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور انہیں کے مشکلات کو ختم کرنے کے لیے جد وجہد کرتی ہے- ساتھ ہی امارتِ اسلامیہ اور سب افغان ایک جان وجسد کی مانند یک مشت ہیں کوئی تفرقہ نہیں ہے۔
<ہم پر جارحیت ہوئی ہے-ہمارے اسلامی نظام کو درہم برہم کیا گیا ہے-ہمارے خلاف ہر طرح کے حربے استعمال کیے گئے -ہم دفاعی حالت میں تھے اور اب بھی ہیں-ہم ابتداء سے اسلامی نظام کی حاکمیت اور آزاد وخودمختار افغانستان چاہتے تھے اور اب بھی چاہتے ہیں۔
<یہ بات میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ آج عارضی طور پر جنگ بندی ہوگی تو کل کو پھر سے جنگ شروع ہوگی۔ہم اس طرح کاحل نہیں چاہتے۔
ہم یہ چاہتے ہیں کہ دائمی امن قائم ہو اور ہمیشہ کے لیے جنگ ختم ہو، نہ یہ کہ وقتی اور جزوی طور پر۔
<ہماری کوشش ہے کہ ان عوامل کو ختم کریں جن کی وجہ سے یہ جنگ جاری ہے اور اسی مقصد کے لیے یہ مذاکرات جاری ہیں۔
<ہم مجموعی طور پر ایسا نظام چاہتے ہیں جو قوم کے خوابوں کی تعبیر اور ان کے مطالبات کی تکمیل ہو۔
<خواتین کے حقوق کے حوالہ سے ایک بات کی واضح کرتاہوں کہ ہمارا سابقہ دور ایک ایسے وقت میں آیا جب ملک ملوک الطوائفی کی حالت سے گزررہاتھا اور وطنِ عزیز مختلف مشکلات کاسامناکررہاتھا-مگر اس کے باوجود خواتین کی تعلیم جاری تھی- خواتین ہسپتالوں میں کام کرتی تھیں-دیگر اداروں میں خدمات سرانجام دیتی تھیں-
<ہم پوری دنیا سے دوطرفہ احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔کسی کے خلاف جارحیت کرنے کاارادہ رکھتے ہیں نہ کسی اور کو اپنے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت دیتے ہیں-
<عورتوں کو تعلیم اور دیگر مواقع میں وہ تمام حقوق دینے کا اپنے کو پابند سمجھتے ہیں جو اسلام کے مبارک دین نے انہیں عطا کیے ہیں۔
<ہم نہیں چاہتے کہ خواتین کو برائے نام ہرکام میں شریک کریں اور پھر ان کو حقوق دینے کی بجائے ان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں-
<ہر وہ حق جو اسلام اور افغانی کلچر سے متصادم ہو ہم اس کو حق نہیں سمجھتے۔
<ہماری پالیسی بڑی واضح ہے-ہم آزاد لوگ ہیں -کسی دباو میں نہیں آئیں گے-
<کرسی اور اقتدار ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے،ہماری تمنا،ہماری آرزو اور ہماری امیدیں صرف اور صرف آزاد اور خود مختار اسلامی نظام سے بندھی ہیں اور یہ ہی ہمارا مقصد ہے۔

Related posts