اکتوبر 27, 2020

کابل انتظامیہ تباہی کے دہانے پر

کابل انتظامیہ تباہی کے دہانے پر

آج کی بات
کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی میں صورت اقتدار نہیں چھوڑیں گے اور صدارتی محل سے انہیں کوئی بے دخل نہیں کر سکتا، انہوں نے اپنے 17 اعلی مشیروں کو بھی برطرف کر دیا، اور فوری طور پر وزارت داخلہ سے کمانڈروں اور دیگر عہدیداروں کو برخاست اور مقرر کرنے کا اختیار لے لیا۔
اشرف غنی کے یہ خیالات اور اقدامات اس وقت سامنے آئے جب کابل کا ایک وفد قطر میں امارت اسلامیہ کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہے، اور ڈاکٹر عبد اللہ کی زیرقیادت ایک اور وفد ہمسایہ پاکستان کے دورے پر ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امن عمل اس کے ہاتھ نکل گیا ہے اور سب کچھ ان کی اور اس کی ٹیم کے ساتھیوں کے خلاف ہورہا ہے۔ اسی وجہ سے اشرف غنی اور ان کی ٹیم کے لوگ میڈیا میں پورے عمل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
کابل انتظامیہ میں شامل صدارتی محل کا حلقہ جارحیت کے خاتمے اور امن کوششوں کی شدید مخالفت کر رہا ہے۔ اشرف غنی سے لیکر ان کے معاونین تک ہر ایک محفوظ ٹھکانوں سے وقتا فوقتا ٹی وی اسکرینوں پر یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے خاتمے پر سمجھوتہ کریں گے اور نہ ہی 19 سالہ پیشرفتوں پر سودہ بازی کریں گے۔
لیکن لگتا یوں ہے کہ سب کچھ برعکس ہے، وہ خود ہی سیکیورٹی فورسز کی بیخ کنی کرتے ہیں اور 19 سالہ پیشرفت بھی کھو رہے ہیں۔
جب ایوان صدر نے پرائیوٹ ملیشیا کی تشکیل اور جنگجوؤں کی بحالی کا عمل شروع کیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز (قومی فوج + پولیس) کے تابوت میں آخری کیل ہوگا۔
ایوان صدر کا حلقہ جانتا ہے کہ امریکیوں کے انخلا کے بعد وہ فوج کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے اور نہ ہی فوج اشرف غنی، ان کے معاونین اور دیگر افراد کے ناجائز اقتدار کے لئے اپنا وجود کھو سکتی ہے۔ اس لئے ابھی سے ملیشیا بنانے کی تیاری میں ہیں، لہذا یہ انارکی اگرچہ ان کا دفاع کرنے سے قاصر ہے، لیکن وطن عزیز کی تباہی کا ایک ایسا نسخہ ثابت ہو گا جو ان کے خیال میں امارت اسلامیہ کے لئے سر درد ہوگا۔
ان کے حریف عبد اللہ عبد اللہ نے امن عمل کو سنبھالا ہے ، اسی طرح سیاستدان ، حزب اختلاف اور کابل انتظامیہ کے اندر موجود دیگر حکام اس سلسلے میں اشرف غنی کے خلاف اور ڈاکٹر عبداللہ کے حامی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایوان صدر کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب مسلح افراد اور حکومتی چوروں نے عوام خصوصا کابل کے شہریوں کا جینا حرام کر دیا ہے، دن دہاڑے کابل میں ایک موبائل کی چوری پر شہریوں کو قتل کیا جاتا ہے، خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے، گھروں کو لوٹ لیا جاتا ہے ، اغواء برائے تاوان، جنسی تشدد، چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی واردات روز کا معمول بن چکا ہے، اور یہ سب ایوان صدر کے زیر سایہ ہورہا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایوان صدر نے 19 سالہ پیشرفتوں کو کھو دیا ہے اور کابل انتظامیہ تباہی کے دہانے پر ہے۔

Related posts