اکتوبر 27, 2020

کیا اشرف غنی نے خود جمہوریت قبول کی ہے جو دوسروں سے منواتے ہیں؟

کیا اشرف غنی نے خود جمہوریت قبول کی ہے جو دوسروں سے منواتے ہیں؟

آج کی بات

اشرف غنی خود کو جمہوریت یا ڈیموکراسی کا محافظ قرار دیتے ہیں ، جب کہ ان کے اقدامات بالکل یکطرفہ طور آمریت کی طرح ہیں۔ اشرف غنی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیاست کو ماکیولیائی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ سیاسی مفادات کے لئے کسی اخلاقی اصول کا پابند نہیں ہے۔ صداقت، امانت، دیانتداری اور عہد و وفا کے اصول ان کے لئے بیکار سکے ہیں جن کی سیاست کی منڈی میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

انہوں نے ماضی میں دھاندلی زدہ الیکشن اور جعلی ووٹوں سے اقتدار حاصل کیا اور پھر اپنے شریک اقتدار ڈاکٹر عبداللہ کے ساتھ بھی دھوکہ کیا۔ پھر اپنے نائب ، جن کے ووٹوں سے وہ حکمران بنا تھا، کو استعمال کیا۔ انہوں نے انتخابی مہم کے وعدوں کی پاسداری کرنے اور لوگوں کی پریشانیوں پر توجہ دینے کی بجائے عوام کو دھوکہ دینے کا رخ اختیار کر لیا، اور صدارتی محل کو مداحوں اور چاپلوسیوں کے دربار میں تبدیل کردیا۔

لیکن اشرف غنی یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اندھے ہیں اور وہ کچھ نہیں جانتے ہیں۔ اگر ان کے مداح اور چاپلوس ان کے اقدامات کو نہیں دیکھتے اور اندھے ہو گئے ہیں یا خود کو اندھا بنا دیا ہے لیکن ان کے مخالفین نے ان کے تمام اقدامات پر کڑی نظر رکھی ہے اور ان کے اقدامات کی روشنی میں ان کی شخصیت کی تعریف کرتے ہیں تاکہ پھر اس کے مطابق ان کے ساتھ رویہ اختیار کریں۔

اشرف غنی نے بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے دوران خود کو جمہوریت کا محافظ قرار دیا۔ آئیے اس مسئلہ پر غور کریں گے کہ انہوں نے خود کس حد تک جمہوریت کے اصولوں کی پاسداری کی ہے اور جمہوریت کو قبول کیا ہے جو اب دوسروں کے لئے بھی جمہوریت بہتر سمجھتے ہیں۔

انہوں نے اقتدار کے دونوں ادوار میں جمہوریت کے بنیادی اصول کی تضحیک کی، انتخابی نتائج کے برخلاف سیاسی ملی بھگت سے منصب صدارت تک رسائی حاصل کی، اس کے علاوہ انہوں نے پارلیمنٹ ، جو جمہوریت کا سب سے اہم ستون ہے ، کو بائی پاس کیا اور اس کی بے توقیری کی، بلکہ مقننہ اور حکومتی امور کی نگرانی کا حق بھی اس سے چھین لیا۔

ان کے پچھلے اور موجودہ دور میں کابینہ کے بیشتر وزرا پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر وزارت کے منصبوں پر براجماں ہیں اور اب بھی کابینہ کی تقرری کے سلسلے میں اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ پارلیمنٹ ، جس کا کام قوانین کو منظور کرنا اور اس میں ترمیم کرنا ہے ، اشرف غنی کے دور اقتدار میں اس کو قوانین کی منظوری کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ ان پر دستخط کرتے ہیں اور میڈیا پر ان کی اشاعت ہوتی ہے۔

انہوں نے سیاست اور حکمرانی کے تمام اصولوں کو اپنی حد تک محدود کر دیا ہے جو امریت کی ایک بدترین قسم ہے ، وہ 35 ملین عوام پر وہ فیصلے مسلط کرتے ہیں جو صرف ان کے سیکولر ذہن سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت ان کے لئے صرف ایک پرفریب نعرہ ہے جو اس عنوان کے تحت کچھ اعتبار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ورنہ تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی اصول پر یقین نہیں رکھتے ہیں، وہ صرف اقتدار پر یقین رکھتے ہیں جس کے حصول اور تحفظ کے لئے کچھ بھی کرتے ہیں۔

Related posts