اکتوبر 27, 2020

بین الافغان مذاکرات اور میڈیا سے بطورآلہ کار استفاده

بین الافغان مذاکرات اور میڈیا سے بطورآلہ کار استفاده

تحریر:عبدالستار سعید

ہوسکتاہے آپ کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کررہاہو کہ بین الافغانی مذاکرات کے ابتدائی اہم مراسم میں افغان میڈیا نے ایک بہت ہی اہم رکنِ مذاکراتی کمیٹی شیرمحمد عباس ستانکزئی سے کوئی انٹرویو کیوں نہیں لیا؟
اسی طرح ایک یا دو میڈیاچینلز کے علاوہ کسی ریڈیو اسٹیشن یا ٹی وی چینلز نے بھی اس اہم موضوع پر طالبان کے مشہور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے بھی کوئی انٹرویو نہیں لیا؟ اور شاید آپ کی توجہ اس پر بھی پڑی ہوگی کہ کابل سے آئے میڈیا اہلکار جنگ بندی اور جمہوریت کے چند محدود الفاظ بار بار دہرارہے تھے؟
کیا یہ سب کچھ محض اتفاق تھا یااس کے پیچھے کوئی منصوبہ سازی تھی؟حقیقت یہ ہے کہ کابل انتظامیہ نے پلاننگ ایسی بنائی ہے جس کی رو سے میڈیا کو جیسے جنگ میں استعمال کیا گیا اسی طرح ان کی چاہت ہے کہ امن عمل کے لیے مذاکرات کے اس منصوبہ میں بھی اسے ایک آلہ کے طور پر استعما کرے-وہ انتظامیہ جو بیان کی آزادی کو ایک جانب اپنی بیس سالہ ترقیوں کی لسٹ میں جگہ دیتی ہے تو دوسری جانب سنسر شپ اور کنٹرول کرنے میں آخری حد تک پھرتی دکھائی ہے اور میڈیا کو محض اپنے ذاتی مفادات کے لیے بھرپور استعمال کررہی ہے-
دوحا میں انٹراافغان ڈائیلاگ سے چند دن پہلے کابل انتظامیہ کے شعبہ اطلاعات ومیڈیا مرکز کے ایک سربراہ لطیف محمود نےکابل میں تمام مشہور میڈیا اہلکاروں،ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز کے ملازمین،ذمہ داران اور افرادِ کار سے میٹنگز شروع کیے-ان میٹینگز کے دوران کابل انتظامیہ کی جانب سے میڈیا اہلکاران کو بتایا گیا کہ مذاکرات کایہ مرحلہ انتہائی اہم ہے-ایسے اہم مرحلہ پر میڈیا کو کابل انتظامیہ کی پالیسی اور فرمائشوں کے ساتھ ہمہ تن ہمسفر ہونا چاہیے-
کابل انتظامیہ کے اطلاعات اور میڈیا مرکز سے میڈیا سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ کابل انتظامیہ کی جانب سے بھیجی گئی ٹیم کی مکمل حمایت کی جائے-انیس سالہ ترقیوں کے نام پر ان تمام چیزوں کا دفاع کیا جائے جن کاباقی اور برقرار رہنا کابل انتظامیہ اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے-اس کے علاوہ طالبان کے کسی بھی موقف کو اپنے نشریات میں بالکل جگہ نہ دی جائے-طالبان کے دو اہم اور ضروری افراد شیرمحمدعباس ستانکزئی اور ذبیح اللہ مجاہد سے کسی حال انٹرویو نہ کیا جائے-اور اس اہم منصوبہ کے تمام مراحل میں کابل انتظامیہ کی بھیجی گئی ٹیم کی حمایت میں تبلیغات کے لیے بحیثیت لاوڈ اسپیکر کردار اداکیاجائے-
کابل میں چند آزاد میڈیا ورکرز کاکہنا ہے کہ ان دنوں وہ کابل انتظامیہ کی جانب سے سخت سنسر کاسامنا کررہے ہیں-اور کابل انتظامیہ کادباو ہر وقت کی بنسبت اب زیادہ ہوچکاہے-میڈیا اب مجبور ہے کہ صرف اور صرف کابل انتظامیہ کے موقف کو مثبت اور قابل تعریف ثابت کرے اور لوگوں کو اس کے فوائد بتائے-
جو افغان صحافی قطر کے دارالحکومت دوحا اس مذاکراتی مرحلہ کی افتتاحیہ مجلس کی رپورٹنگ کے لیے گئے تھے ان کی شکایت ہے کہ کابل انتظامیہ انہیں قطر میں دو دن سے زیادہ ٹھرنے کی اجازت نہیں دیتی-
ان صحافیوں کاکہناہے کہ ان کے ویزے میں ایک مہینے کامکمل وقت تھا-لیکن اس کے باوجود وزارتِ خارجہ انہیں دھمکیاں دیتی ہے کہ وہ جلد سے جلد کابل واپس آئیں-
کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ افتتاحی کانفرنس کے بعد وہ طالبان کے نمائندوں سے آزادانہ طور پر ملاقاتیں کریں گے اور پھر انٹرویوز لیں گے-اسی وجہ سے بہت سارے صحافی بہت جلد وطن واپس ہوگئے-
کابل انتظامیہ کی جانب سے میڈیا کو دھمکیاں اور اس حساس مرحلہ میں اپنے مفادات کے لیے استعمال ایک طرف تو ان کے بیان کی آزادی والے نعرے سے متصادم ہے-اور دوسرا نقصان یہ ہے کہ ایک اہم قومی ایشو پر عامہ ذھنیت کو پراگندہ کرنے کاسبب بنتاہے-عوام کی آنکھوں سے حقائق چھپائے جاتے ہیں اور جو کچھ آتا ہے وہ تحریف زدہ نہیں تحریف کامجموعہ ہوتاہے-

Related posts