اکتوبر 27, 2020

بین الافغان مذاکراتی ٹیم کے اراکین کا مختصر تعارف/ عبدالسلام حنفی

بین الافغان مذاکراتی ٹیم کے اراکین کا مختصر تعارف/ عبدالسلام حنفی

جناب مولوی عبدالسلام حنفی

ترجمہ : ہارون بلخی

جناب مولوی عبدالسلام حنفی نے 1969ء کو صوبہ جوزجان ضلع درزآب (درزآب ماضی میں صوبہ فاریاب کا حصہ رہا) کے گردن گاؤں میں جناب علی مردان کے گھر آنکھ کھولی۔

ابتدائی تعلیم شربیگ اسکول میں حاصل کی، جب روس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا، اپنے گاؤں میں دینی علوم کے سلسلے کو جاری رکھا۔ صرف، نحو اور فقہ کی ابتدائی کتب وہی پڑھیں۔اس کے بعد سرپل اور فاریاب صوبوں کے مختلف اضلاع میں مشہور علمائے کرام سے مختلف فنون یعنی نحو، منطق، حکمت، بلاغت، فقہ، قرائت اور تجوید کی کتابیں پڑھ لیے۔

تعلیم کی تکمیل کی غرض سے پاکستان ہجرت کی اور وہاں مارتونگ، ڈاگی اور پشاور میں اعلی منطق، ریاضی، اصول فقہ، ادب، مناظرہ، عقائد اور قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ لیا اور موقوف علیہ تک علم حاصل کرلی۔ اس کے بعد دورہ حدیث کی غرض سے کراچی کے مشہور علمی ادارے دارالعلوم کراچی تشریف لے گئے اور وہاں 1414ھ کو دورہ حدیث مکمل کرلی،اس کے بعد بہاولپور میں اصول افتاء، احادیث، تفاسیر اور فقہ کی کتب ایک مرتبہ پھر پڑھ لیے۔ بعد از آں جامعہ تفسیریہ رحیم یار خان میں فتوی نویسی اور میراث کے علوم حاصل کرلیے۔ موصوف دینی علوم کیساتھ ساتھ چھٹیوں کے دوران مختلف زبانیں، کمپیوٹر پروگرام، ہارڈویئر اور اکاونٹنگ بھی سیکھتے رہتے۔

فراغت کے بعد حنفی صاحب مختلف فنون، علوم موقوف علیہ ،ترمذی شریف اور میراث تک  پڑھاتے۔

موصوف تین سال تک کابل یونیورسٹی میں حقوق اور سیاسی علوم کے شعبہ میں اسلامی ثقافت کے  استاد رہے۔ اسی طرح مختلف ممالک میں سفارتی اور مذاکراتی عمل کے حوالے سے تعلیم حاصل کی ہے۔

حنفی صاحب کی مادری زبان ازبیک ہے، لیکن موصوف پشتو، فارسی، انگریزی، عربی، اردو، قرغیز، ترکمن اور ترکی زبانوں سے بھی واقف  ہیں۔

جب قندہار میں تحریک طالبان کا آغاز ہوا،حنفی صاحب اس وقت مدرس تھے ۔ اپنے شاگردوں اور فاریاب و دیگر صوبوں کے علماء کرائے اور طلباء کے ہمراہ تحریک اسلامی طالبان میں شامل ہوگئے۔

امارت اسلامیہ کے دور اقتدار میں انہوں نے پہلی ذمہ داری صوبہ فراہ میں تعلیم وتربیت کے ڈائریکٹر کے طور پر انجام دی اور پھر کابل میں ایک سال تک نگران وزیر تعلیم رہے اور بعد میں وزارت تعلیم میں نائب وزیر تدریس رہے۔

2001ء کو امریکی جارحیت کے بعد جناب حنفی صاحب کو امارت اسلامیہ نے صوبہ جوزجان کا گورنر مقرر کیا اور کچھ عرصہ کے بعد سیاسی کمیشن کے رکن اور مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد نوراللہ مرقدہ کی جانب سے رہبری شوری کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

اب سیاسی دفتر کے نائب اور مذاکرتی ٹیم کے رکن ہیں۔

 

Related posts