اکتوبر 27, 2020

بین الافغان مذاکراتی ٹیم کے اراکین کا مختصر تعارف/ عباس ستانکزئی

بین الافغان مذاکراتی ٹیم کے اراکین کا مختصر تعارف/ عباس ستانکزئی

جناب شیر محمد عباس ستانکزئی

ترجمہ : ہارون بلخی

شیر محمد عباس ستانکزئی مرحوم حاجی بادشاہ خان کے فرزندہیں، 1959ء کو صوبہ لوگر ضلع برکی برک کے عباس گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مسجد اور کابل میں عمراخان اسکول سے حاصل کی اور کابل فوجی کالج سے فارغ ہوئے۔ سردار محمد داؤدخان نے دیگر طلبہ کے ہمراہ آپ کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بھارت روانہ کیا اور  1981ءمیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد روس کے خلاف جہادی صفوف کا  رخ کرلیا۔ انہوں نے جمعیت اسلامی اور اتحاد اسلامی جماعتوں میں فوجی استاد کی حیثیت سے فرائض منصبی انجام دی اور 1985ء کو اتحاد اسلامی حلقہ جنوب مغرب کے سربراہ مقرر ہوئے۔  انہوں نے قلات، قندہار ایئرپورٹ، لشکرگاہ وغیرہ بڑی بڑی کاروائیوں میں عملی طور پر حصہ لیا اور اسی وقت سے شہید ملا بورجان، شہید ملا مشر، مرحوم ملا محمد ربانی اور دیگر سابق جہادی قائدین  کیساتھ آشنا ہوئے۔ 1990ء کو حرکت انقلاب اسلامی کے جنرل فوجی ذمہ دار کے طور پر منتخب ہوئے اور نجیب حکومت کے سقوط تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ تنظیمی جنگوں (خانہ جنگی) کے دوران گھر پر رہے، جب تحریک طالبان کا قیام عمل میں آیا، تو اس میں شامل ہوگئے۔ طالبان کی حکومت میں پہلے قندہار کے نائب سیکریٹری خارجہ تھے، اس کے بعد کابل میں نائب وزیرخارجہ اور پھر نائب وزیر صحت کے عہدوں پر فائز رہے۔ ملک پر امریکی جارحیت کےبعد آپ نے  ایک بار پھر فوجی اور سیاسی جدوجہد شروع کی، ابتداء میں طالبان سیاسی کمیشن کے رکن، پھر نائب ،اگست 2015ء سےجنوری 2019ء  تک سیاسی دفتر کے سربراہ رہے۔ جناب ستانکزئی امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے منتظم تھے اوراس وقت رہبری شوری کا رکن، سیاسی دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے نائب ہیں۔

 

Related posts