اکتوبر 27, 2020

انیس سال کی ترقی

انیس سال کی ترقی

تحریر:سیدعبدالرزاق

جس دن سے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی پہل ہوئی ہے ایک بات میڈیا اور نام نہاد دانشور بڑے اہتمام سے اچھالتے ہیں -کہ امریکا کے افغانستان آنے کے بعد سے افغانستان مسلسل رو بہ ترقی ہے اور گزشتہ انیس سال میں مملکت افغانستان مختلف شعبوں میں ترقی کے بہت سارے مدارج طے کرچکاہے-افغانستان نے ان انیس سال میں جو پیش قدمی کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی-ایسے میں اگر طالبان کو پھر افغانستان کا قبضہ دیا جائے تو وہ ان ترقیوں کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے اور انیس سال کی محنتیں رائیگاں چلی جائے گی-
پھر جب امریکا کے ساتھ معاہدہ ہوا اور بین الافغانی مذاکرات کی باتیں سامنے آئیں تو یہ بات مزید زور پکڑگئی-اور جس وقت بین الافغانی مذاکرات کاافتتاحیہ اجتماع منعقد ہوا اس دن تو گویا ایک طوفان قائم ہوا-میڈیا اور دو ٹکے کے دانشوروں کے ساتھ چند اور عناصر بھی اس میں بھرپور حصہ لینے لگے-اسی تسلسل میں بی بی سی پشتو کے صحافی اسماعیل سادات نے قطر دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ملاخیراللہ خیرخواہ سے یہی سوال دہرایا کہ آپ کیاسمجھتے ہیں طالبان ان پیش قدمیوں کو کس حد تک باقی رکھیں گے؟
جس پر خیرخواہ صاحب نے جواب دیا کہ امارتِ اسلامیہ کی بنیادہی خیرخواہی اور قوم کی ہمدردی پر وجودپذیر ہوئی ہے؛ اس لیے وطن عزیز کی جو بھلائی ہے امارتِ اسلامیہ اس کے لیے قول وعمل سے کوشاں رہے گی-
صحافی نے سوال کیا کہ عورتوں کو انیس سال میں جو حقوق ملے ہیں اور جو آزادی انہیں میسر ہوئی ہے انہیں آپ برقرار رکھیں گے؟
اس پرخیرخواہ صاحب نے برجستہ کہا کہ آپ سے میں یہ سوال کرتاہوں -اس وقت عورتوں کو حقوق زیادہ ملے ہیں یا انہیں آئے دن نت نئی مسائل کاسامناہے؟ حقائق تو یہ بتارہے ہیں کہ خواتین کی زندگی اس وقت اجیرن بنادی گئی ہے-عزت اور عفت پر حملے ایک معمول بن چکا ہے-چند پیسوں کے لیے اپنے ناموس کے سودا پر مجبور ہوگئی ہیں -خود آپ کاادارہ بی بی سی یہ رپورٹ پیش کرچکا ہے کہ دارالحکومت کابل میں خواتین کے ساتھ کیا رویہ اپنایا جاتا ہے؟ ان چیزوں کو آپ آزادی سمجھتے ہیں؟ ہمارا تو یہ عزم ہے کہ ہم ان بیچاری ستم زدہ خواتین کو عزت مہیاکریں گے-
دوسری بات یہ ہے کہ خواتین کے حقوق ہو یا کوئی اور مسئلہ اس کے لیے ہمارے ہاں معیار یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلامی تہذیب وتمدن اور افغانی ثقافت کے دائرہ میں ہو-ہمارا دینِ متین اور افغانی بود وباش جس طرز سے حقوق کامتقاضی اور جن ترقیوں کاضامن ہے ہم اس کے لیے ہمہ تن تیار اور مستعد ہیں-البتہ یہ بات کہ ہم ترقی اور حقوق وپیش قدمی کے لیے مغربی کلچر اور امریکاویورپ کو معیار تسلیم کرلیں -ایساکبھی ہوسکتاہے اور نہ ہی ممکن ہے-
اس بے بنیاد الزام تراشی کاجو جواب محترم خیر خواہ صاحب نے دیا ہے وہ بالکل بجا اور مبنی بر حقائق ہے-اور حقیقت دیکھی جائے تو وہ بھی اس پروپیگنڈے اور منفی تاثر کی نفی کرتی ہے-روس کے دورے کے موقع پر محترم امیرخان متقی صاحب نے فرمایاتھا کہ "امارتِ اسلامیہ کے قیام کے دوران انتہائی بے سروسامانی اور حد درجہ کے خراب حالات اور جنگی ماحول کے باوجود امارتِ اسلامیہ نے اقتصادی سلسلہ میں ملک کانیاسکہ جاری کرنے کااہتمام کیااور اچھی پیش رفت ہوئی جو جارحیت کی بھینٹ چڑھ گئی-ملک میں مواصلاتی نظام کے لیے ٹلیفون اور موبائل کاسسٹم لانے کے لیے جد وجہد کی جو بحمداللہ کامیاب ہوئی اور جو کچھ نظر آرہاہےاس وقت یہ امارت ہی کے منظورِ نظر ہے-تباہ حال سڑکوں کے لیے وسیع منصوبہ بنایا -ہسپتالوں اور تعلیم پر بھرپور توجہ دی-آس پاس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی منصوبے دستخط کیے-"ایسے میں یہ الزام کس طرح درست ہوسکتاہے؟
جبکہ اس وقت اگر دیکھاجائے اور حقیقت کو تعصب کی عینک اتار کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جس چیز کو ترقی سے تعبیر کیاجاتاہے وہ درحقیقت افغانی طرز ورواج کاجنازہ نکالنے کے مترادف ہے-بے حیائی،بے پردگی،گالم گلوچ کلچر اور اس جیسے ناگفتہ بہ افعال کو فروغ دیا گیا ہے-الزام تراشی کی بہتات ہے-چھوٹے بڑے کاامتیاز ختم ہے-اس کو ترقی اور کامیابی سے تعبیر کیاجاتا ہے اور پیش رفت سمجھاجاتاہے-اور پھر الزام دھرتے ہیں کہ طالبان ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں-
یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ امارت کاانیس سالہ یہ مبارزہ اپنی اسلامی اور افغانی شناخت کے لیے چلاآیاہے اور اسی مقصد کے لیے خون چکاں قربانیاں دی گئی ہیں-اس لیے اب وہ اس کا دفاع ہرحال میں وہ کرے گی اور اقوامِ متحدہ،اپنے مذہب اور عالمی قوانین کی رو سے انہیں کوئی ملامت نہیں عائد ہوتی -البتہ اس مقصد کے خلاف جو عمل ہوگا اس کے خلاف کھڑے تھے اور کھڑے رہیں گے-بھلے کندگانِ عقل اسے ترقی کہے یاپھر کچھ اور-

Related posts