اکتوبر 27, 2020

امن اور ایوان صدر کی شرآنگیز زبان

امن اور ایوان صدر کی شرآنگیز زبان

آج کی بات

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کرنے والی ٹیموں کے مابین امن کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں ابھی تک تعمیری انداز میں آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہیں ، لیکن ایوان صدر کے جاسوس شعوری طور پر اس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدارتی محل کے اندر کچھ مخصوص جاسوس امن کے شدید مخالف ہیں اور وہ غیر ملکی قبضے اور جنگ کے تسلسل کے حامی ہیں۔ وہ اب بھی امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے اپنے مذموم کردار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امن عمل کو سبوتاژ کرنے والا یہ منحوس حلقہ اگرچہ ایوان صدر کے اندر محدود افراد پر مشتمل ہے جن کا ماضی غیر ملکیوں کی جاسوسی اور افغانستان اور اسلام کو تباہ کرنے میں گزرا ہے ، لیکن ان کی حالیہ دھمکی آمیز زبان، تخریب کاری کا کردار، غیر سنجیدہ اور بچگانہ حرکتوں میں براہ راست ایوان صدر ملوث ہے، کیوں کہ انہوں نے سربراہ کی زیرنگرانی ایوان صدر کے تہہ خانوں سے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی فضول کوشش شروع کی ہے۔
اگرچہ شکست خوردہ حلقوں کی کوششیں امارت اسلامیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ہیں۔ لیکن مظلوم افغان عوام کی امیدوں کو ضرور ٹھیس پہنچا سکتی ہیں، کابل سے بھیجے گئے مشترکہ مذاکراتی گروپ  کی حیثیت کو مجروح کرتی ہیں، حزب اختلاف اور دیگر جماعتیں جو امن کے بارے میں پرامید ہیں، ان کی ساری کاوشیں مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کابل سے بھیجی جانے والی مذاکراتی ٹیم اور کابل میں تشکیل پانے والی قومی مفاہمت کونسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس نازک وقت پر ایوان صدر کی اس شرآنگیز زبان کو کنٹرول کریں بصورت دیگر انہیں خود نقصان ہوگا۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے مستقبل کے لئے سنجیدہ کاوشوں پر یقین رکھتی ہے ، اگر فریق مخالف بھی یہی اقدام اٹھاتا ہے تو وہ وقت دور نہیں جب افغانستان کا المیہ ختم ہو جائے گا اور وطن عزیز پروقار آزادی کی نعمت سے مالامال، ایک جامع ، مضبوط اور خالص اسلامی نظام سے بہرور ہوگا۔

Related posts