اکتوبر 27, 2020

امارت اسلامیہ کا جامع اور پرامن موقف

امارت اسلامیہ کا جامع اور پرامن موقف

آج کی بات
12 ستمبر کو امارات اسلامیہ کے نمائندوں اور فریق مخالف کے درمیان دوحہ میں (بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی) تقریب منعقد ہوئی۔ جس سے امارت اسلامیہ کے سیاسی نائب اور سیاسی دفتر کے سربراہ محترم ملا بردار اخوند نے خطاب کیا اور آئندہ افغانستان کے بارے میں امارت کا موقف پیش کیا جب کہ فریق مخالف کی جانب سے ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ نے تقریر کی۔
ملا برادر اخوند نے اپنی تقریر میں رواداری ، ہمدردی ، جنگ کے خاتمے اور امن کی کوششوں کو بروئے کار لانے کے لئے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی اور واضح انداز میں ہر جنگ زدہ افغان کے دل کی بات کی، انہوں نے اپنے خطاب میں آزاد، ترقی یافتہ اور سلامی نظام کے نفاذ کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا اور تمام افغانوں باالخصوص حزب اختلاف کو اسلامی اقدار اور قومی مفادات کو ترجیح دینے، ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہونے کا مشورہ دیا۔
ملا برادر اخوند کی تقریر کسی قومی قائد کی طرح تھی ، انہوں نے فریق مخالف کو جارحیت ، بدعنوانی اور جنگ کا طعنہ نہیں دیا، اور نہ ہی ان کے زندہ اور مردہ رہنماؤں پر تنقید کی، بلکہ اس بات پر زور دیا کہ وہ کیسے ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئیے ہم اپنے پیارے ملک کو موجودہ بحران سے نکالیں اور اسلامی نظام اور آزاد ملک میں امن و بھائی چارے کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
نیز امارت اسلامیہ کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان اس تقریب میں یا میڈیا کے ساتھ جو گفتگو کرتے تھے، وہ بہت ہی معقول اور اخلاص اور ہمدردی سے بھر پور تھے، سبھی اس بات پر توجہ مرکوز کرتے تھے کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے، ہم کسی مثبت نتیجے پر پہنچیں اور مصیبت زدہ عوام کو محفوظ اور خوشحال زندگی کے مواقع فراہم کریں۔
تاہم فریق مخالف کے خطاب میں اگرچہ کسی حد تک امن کے الفاظ شامل تھے لیکن انہوں نے دو سال کی جارحیت کے مظالم کا تذکرہ نہیں کیا اور ان لوگوں کی تعریف کی جو افغانستان کی تباہی اور مظلوم عوام کی بربادی میں حصہ دار تھے۔
بین الافغان کانفرنس میں امارت اسلامیہ کے جامع اور پرامن مؤقف کی وضاحت کی گئی۔ امارت اسلامیہ کے نمائندوں نے اس تقریب میں افغان مجاہد عوام کی اچھی نمائندگی کی، انہوں نے قبضے کے خاتمے ، امن ، خوشحالی اور اسلامی نظام کی حکمرانی پر زور دیا اور ان کی گفتگو امن عمل اور ماحول کے مطابق تھی۔

Related posts