اکتوبر 27, 2020

کس ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں؟

کس ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں؟

تحریر:ابومحمد الفاتح
جب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے ہیں اور اس کے بعد معاہدہ اور پھر بین الافغانی مذاکرات کی بحث چل پڑی ہے تو اقتدار کے بھوکوں اور ہوس پرستوں کی نیندیں اڑگئی ہیں-وہ کسی طرح بھی دوٹکے کایہ اقتدار کھونا نہیں چاہتے؛ اسی لیے کوشش کرتے ہیں کہ اس عمل کو سبوتاژ کرے -پھر جب امارتِ اسلامیہ اور جانبِ مقابل سے باقاعدہ بحث کی ابتدا ہوئی ہے اب تو ان لوگوں پر آسمان ٹوٹ گیا ہے-جھوٹ اور مسلسل منفی پروپیگنڈا کرتے تھکتے نہیں ہیں-

اس وقت جبکہ دونوں ٹیمیں آپس میں گفت وشنید اور امن کی کوئی صورت نکالنے میں مصروفِ عمل ہیں -امراللہ صالح بیان داغتاہے کہ طالبان ملت دشمن ہیں-ان کے پاس اقتصاد اور معیشت پالیسی نام کی کوئی چیز نہیں ہے-ان کے ہاں اقتصاد نام ہے زکوة اور عشر کے نام پر جبری وصولی اور پوست کی کاشت کو پروان چڑھانے کا-
یہ بات جہاں بیرونی حقائق کے خلاف ہے وہیں یہ بھی بتاتی ہے کہ موصوف کس قدر اسلامی احکام اور اصول سے ناواقف ہے-زکوة اور عشر تو اقتصاد میں اسلامی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل ارکان ہیں-لیکن اغیار کے ٹکروں پر پلے ہوئے بندوں کو اس کا کیا پتہ؟
حقیقت مگر یہ ہے کہ جھوٹ کے کوئی پر نہیں ہوتے-طالبان نے کبھی زکوة اورعشر کے نام پر جبری وصولی کی ہے اور نہ ہی کبھی ملت کو دکھ میں ڈالنے کاتصور کیاہے-حالات کوئی بھی رخ اختیار کرلے طالبان کارویہ ہمیشہ اپنی قوم سے یمدردی کاہوتاہے-جبکہ اس کے برعکس اسی شخص نے جو اقتصاد کی باتیں بگھارتاہے دنیا بھر کے امدادوں کے باوجود اپنی قوم کو اربوں کھربوں ڈالر کامقروض بنادیا ہے-دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسی کی فوج نے عوام کی فصلوں کو تباہ کردیا ہے-مال ودولت پر ڈاکہ ڈال دیا ہے –
آگے چلیے تو موصوف دنیا کو بتائیں گے کہ اقتصادی فہرست میں آپ نے ان گزشتہ انیس سالوں میں کیا کارنامہ درج کیاہے؟کیایہ سچ نہیں ہے کہ خط غربت میں اس وقت بھی افغانستان صف اول کے ملکوں میں ہے؟ کیااس سے انکار کیاجاسکتا ہے کہ افغانستان کی پچاس فیصد سے زائد آبادی آج بھی بے روزگاری کاشکار ہے؟
کیا موصوف دکھاسکتا ہے کہ گزشتہ اٹھارہ سال میں روزگار کے کتنے مواقع مہیا کیے ہیں؟ ارے مواقع کو تو چھوڑئیے کیا اس جبر وتسلط کی نام نہاد حکومت کے طویل دورانیہ میں پورے ملک کی سطح پر عوام کے لیے کوئی ایسا ہسپتال موجود ہے جو ہر درد کی دواہو؟
میں حیران ہوتا ہوں کس ڈھٹائی سے یہ جھوٹ بولتے ہیں؟ پوست کی کاشت کو طالبان کی طرف منسوب کرتے ہوئے شرم سے ڈوب کیوں نہیں جاتے؟ دور نہیں ذرا اپنے پاس سے موبائل کے ایک کلک پر ڈیٹا دیکھ لیجیے طالبان نے تو اپنے دور میں اس ناسور کو زیرو تک پہنچا کررکھاتھا یہ تو تمھارا وجودِ نامسعود ہی کی برکت ہے کہ افغانستان اس وقت اس کاشت میں پہلے نمبر پر آگیا ہے-
موصوف نے ۱۴ ستمبر کو بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ افغان قوم طالبان سے سخت نفرت کرتی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب چھٹکارا ملے-موصوف کی اس انجانی کی میں وجہ تو بیان نہیں کرتا البتہ وہ یہ سوچ لے کہ دنیا بھر کی طاقت ساتھ ہونے کے باوجود بھی وہ طالبان کے مقابلہ میں پسپائی کیوں اختیار کررہاہے؟ خود انہیں کے تحقیقی اداروں کی رپورٹ ہے کہ طالبان پچاس فیصد سے زائد علاقوں پر قابض ہیں-اگر عوام ان سے نفرت کرتے ہیں اور عالمی قوتیں ساری کی ساری اس کے ساتھ ہیں پھر طالبان کی اس مسلسل پیش قدمی کے پیچھے کیا چیز کارفرماہے؟ اگر وہ اس پر قوم کو طالبان سے متنفر سمجھتاہے تو ظاہر ہے یہ اس کی عقل کی کمزوری ہے-
طالبان سے تو قوم کی.نفرت انہیں نظر آتی ہے یہ کیوں نظر نہیں آتا کہ پینتیس ملین کی آبادی میں بتکلف ،سالوں بھر کی جہد مسلسل،زر وزور کے بھر پور خرچ کرنے اور شدید دھاندلی کے بعد بھی صرف اور صرف دو ملین ووٹ برآمد کیے جاسکے ہیں؟موصوف بتاسکتے ہیں کہ یہ محبوبیت کی علامت ہے یاشدید نفرت کی؟
اس وقت جبکہ دنیا وسائل سے لبریز ہے-ان باتوں میں پڑنا نہیں چاہیے-اپنی محبوبیت اور نفرت کااندازہ لگاناہو تو ایک دفعہ سروے کروالے -ہر چیز نکھر کر سامنے آئے گی- اس لیے موصوف بجائے اس خام خیالی کے ہمت سے کام لے اور میڈیاسے ایک سروے کروالے! محبت اور نفرت کامعیار پتہ چل جائیگا-

Related posts