اکتوبر 27, 2020

کاروائیاں اور دعوت، کمانڈر سمیت 7 ہلاک، 25 سرنڈر

کاروائیاں اور دعوت، کمانڈر سمیت 7 ہلاک، 25 سرنڈر

سیکورٹی فورسز پر امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے غزنی، پکتیا اور بغلان صوبوں میں حملہ کیا، جب کہ صوبہ ننگرہار میں کابل انتظامیہ کے 25 سیکورٹی مخالفت سے  دستبردار ہوئے۔

آمدہ اطلاعات کے مطابق صوبہ غزنی ضلع مقر کے مرکز کے قریب مجاہدین نے پیر کےروز صبح کے وقت جنگجو کمانڈر اجمل کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دوسری جانب صوبہ پکتیا ضلع احمدآباد کے بر فیروزخیل کے علاقے میں چوکی پر ہونے والے حملے میں 2 فوجی ہلاک ہوئے۔

اسی طرح صوبہ بغلان ضلع برکہ کے چپہ کے علاقے میں مجاہدین نے سیکورٹی فورسز کے حملے کو اللہ تعالی کی نصرت سے پسپا کردیا اور اس دوران 4 فوجی ہلاک جب کہ 10 زخمی ہوئے۔

واضح رہےکہ دشمن نے معمول کے مطابق صوبائی نائب گورنر کی شہادت کا دعوہ کیا، جو من گھڑت اور بےبنیاد ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمیشن برائے دعوت و ارشاد امارت اسلامیہ کے عہدیداروں کی جدوجہد کے نتیجے میں صوبہ ننگرہار کے پچیرآگام کے گری خیل اور سلیمان خیل تنگی کے رہائشی کابل انتظامیہ کے 25 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوئے،جن میں شیراز ول دمیراعظم خان، عصمت اللہ ولد وزیر، جمال قند ولد سیدقند، محمد رحیم ولد محمدابراہیم، داؤد ولد ظریف خان، نوراللہ ولد امیرجان، نورضمیر ولد علی شیر، عبدالمجید ولد سخی غلام، خیال گل ولد شین گل، رحمت ولی ولد شیرزاد، لعل کلام ولد سیدمرجان، محب اللہ ولد خیال گل، کشمیری ولد دوری، عبدالستار ولد نورثواب، داؤد ولد زرمیران، گل عسکر ولد ملتان، علی محمد ولد خیراللہ، محمدسید ولد گل اکبر، فرید ولد سیدولی، بازید خیل ولد نورخان، محمد شاہ ولد زرین شاہ، مطیع اللہ ولد ملک سیدلعل، زیارت گل ولد انزرگل، سیدخان ولد عالم خان اور نوراسلام ولد داروخان شامل ہیں۔

Related posts