اکتوبر 27, 2020

طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں خواتین کی شمولیت کیوں نہیں؟

طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں خواتین کی شمولیت کیوں نہیں؟

تحریر:عبدالستار سعید

چند دن پہلے جب امارتِ اسلامیہ اور جانبِ مقابل نے انٹراافغان ڈائیلاگ کے لیے اپنی اپنی ٹیموں کااعلان کیا تو میڈیا کے بعض افراد نے فی الفور دونوں ٹیموں کاموازنہ شروع کیا-بعض لکھاریوں نے لکھا کہ طالبان کی ٹیم اس لیے ناقص ہے کہ اس میں عورتوں کی شمولیت نہیں ہے-مختلف اطراف،صوبوں اور قوموں کو حصہ نہیں دیاگیاہے-اسی طرح سے کچھ اور اعتراضات بھی کیے گئے-

اتنی بات تو یقینی ہے کہ مذاکرات کایہ مرحلہ جو ابھی شروع ہواہے افغانوں کی آپس کے مذاکرات ہیں-یعنی ان باتوں میں کوئی غیر افغان شخص یاکوئی بیرونی فرد حضور نہیں رکھتا یہاں تک کہ محض دیکھنے کی حیثیت میں بھی کوئی نہیں ہوگا-بلکہ صرف اور صرف افغان ٹو افغان آپس میں بحث کریں گے-اس لیے ضروری ہے کہ پھران مذاکرات کے معیار بھی اس نہج کے ہو جن کے لیے ہماری ملت فکری اور عملی طور پر تیار ہے اور ان کے لیے دل میں جگہ رکھتی ہے-

ہماری ملت ایک مسلمان ملت ہے-اسلام میں مرد اور عورت کے لیے کام کے حدود اور قیود متعین ہیں-ہمارادین،ہماری ملت کی تاریخ اور عمومی فضا ہمیں یہ بات بتلاتی ہے کہ عورت معاشرہ میں انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے کیاکیا ذمہ داریاں رکھتی ہے؟اس کے لیے آپ ابتدائے اسلام اور خلافتِ راشدہ کے دوران سفارتی تعلقات اور دشمن کے ساتھ ڈائیلاگ کے واقعات ملاحظہ کرسکتے ہیں-اسی طرح ہمارے سامنے سو سال پہلے انگریز کے ساتھ بات کرنے کی تاریخ بھی موجود ہے-طالبان افغان قوم کے نمائندے ہیں-اور افغان قوم اس دین پر اعتماد کرتے ہیں جو چودہ صدیاں قبل نازل کیا گیاتھا اور اس افغانیت پر یقین رکھتی ہے جس کو ہمارے اباء واجداد سو سال پہلے اپناتے تھے-یہاں کوئی اور دین آیاہے اور نہ ہی کسی نے قوم کاتشخص تبدیل کیا ہے-طالبان کسی اجنبی فکر، غیر کے اقدار اور اجنبی تہذیب کے دلدادے نہیں ہیں کہ بین الافغانی مذاکرات کے سلسلہ میں اغیار کی تہذیب کو پروان چڑھادیں-ہماری دینی اور ملی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مفاہمت، جوڑ اور ڈائیلاگ کس طرح ہونے چاہیے اور ڈائیلاگ کرنے والوں کے کوائف کیاہونے چاہیے؟
اس بارے میں اگر کسی کو کچھ ابہام یاشک ہے تو وہ وہ طبقہ ہے جو یاتو افغان قومی اور دینی اور ملی فرہنگ وتاریخ سے ناواقف ہے یا پھر پھر اس کو کچھ سمجھتے نہیں ہے-اس طرح کے ناقدین اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ فیصلوں کے اسٹیج پر نمائندے جنسیت،قومیت، لسانیت اور دیگر تعصبی بنیادوں پر نہیں بھیجے جاتے بلکہ معاشرے کے تمام شعبوں (چاہے وہ مرد ہو یاعورت بڑاہو یاچھوٹا، مشرق کے ہو یامغرب کے)کے مشترک منافع اور اعلی اقدار کو اہمیت دی جاتی ہے-
جو بھی ان اقدار کا دفاع کرسکتاہے وہ یقینا معاشرے کے ہر فرد کانمائندہ ہے-بین الافغانی مذاکرات افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بنیادی فیصلوں کی مجلس ہیں-یہ کوئی افغان معاشرہ کی جنسیتی اور تعصباتی رنگینیوں کی نمائش تو نہیں ہے کہ اس میں ہر نوع میں سے ایک ایک موجود ہو-مختلف اشخاص ،اطراف اور اقوام کی نمائندگی کے بارے میں پہلے یہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ امارتِ اسلامیہ کی مذاکراتی وفد میں تمام قوموں کو حصہ دیا گیاہے-دوسری بات یہ ہے کہ امارتِ اسلامیہ کابل انتظامیہ کی طرح کسی جہالت آمیز قومی تعصب کی شکار نہیں کہ ہر چیز میں قومی تناسب کاخیال رکھاجائے-امارتِ اسلامیہ افغانستان کی پینتیس ملین آبادی کو ایک واحد ملت کی نگاہ سے دیکھتی ہے-ایسی ملت جو ایک خدا کو مانتی ہے-ایک کتاب پر ایمان رکھتی ہے-ایک دین،ایک مذہب اور آپس میں اسلامی اخوت کاوہ رشتہ رکھتی ہے جس سے بلند کوئی رشتہ ہو ہی نہیں سکتا-رنگ، نسل،قومیت اور وطنیت کااختلاف ایک طبعی امر ہے-ہاتھ کی پانچ انگلیوں بھی اس کامظہر موجودہے-ایک گھر میں، ایک ماں سے پیدا ہونے والے بھائی بھی آپس میں رنگ کااختلاف رکھتے ہیں-یہ طبعی اختلاف کبھی اس کاموجب نہیں بن سکتا کہ مسلمانوں کے درمیان اسلام کامضبوط رشتہ کمزور کرسکے-

لہذا! جو شخص مسلمان ہو،صالح ہو، قوم کی دینی تمناؤوں کاپاسدار ہو وہ پھر جس صوبہ سے بھی تعلق رکھتاہو،کسی بھی لہجے میں بات کرتاہو وہ اس پوری قوم کی نمائندگی کرسکتاہے-اگر ہم غور کرلیں تو امارتِ اسلامیہ کی کمزوری نہیں بلکہ قوت کی علامت ہے کہ یہاں قومیت، وطنیت، لسانیت اور دیگر جاہلی تعصبات کی کوئی جگہ نہیں ہے-یہاں صرف اسلامی بھائی چارے کی روح حاکمیت رکھتی ہے وبس-

.اس کے مقابلہ میں کابل انتظامیہ کے عظیم جریموں اور جفاکاریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ گزشتہ انیس سالوں میں قومی نفاق اور افتراق کی اس آگ کو مزید بھڑکادیا جو سویت یونین کے خاتمہ کے وقت لگی تھی-ہر ہر چیز میں قومی اور دیگر تعصبات کے ملاحظات کو شامل کرنے سے اس انتشار کو رسمیت دے دی-جس سے اب کسی چھوٹی سی بات میں بھی جان خلاصی نہیں کرسکتی-حالانکہ اس طرح کاتعصب ان کے آقاؤں مغربی معاشرہ میں بھی موجود نہیں تھا-ہر ملک میں قومی اور دینی اختلاف موجود ہے مگر کہیں بھی اس اختلاف کی بنیاد پر اہم موضوعات کو اس کی نذر نہیں کیاجاتا-
بلکہ ملی موقف کو ہی متحد طور پر مقدم کیاجاتاہے-مثلا:ایران، ترکی،عراق، پاکستان اور دیگر کئی ملکوں میں مختلف قومیں بستی ہیں -کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی سطح پر کسی بھی مذاکرات کے موقع پر ہر شعبہ کو نمائندگی دی گئی ہو؟ قطعا نہیں-
اس لیے کابل سے قطر جانے والے افراد کایہ رویہ اسلامی معیار کے مطابق ہے اور نہ ہی حالیہ عالمی رواج وکلچر اور حکمراں دستورسے ہم آہنگ ہے-طالبان پر اس زاویہ سے تنقید کرنے والا سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے-

Related posts