اکتوبر 27, 2020

عظیم بہادروں کو خوش آمدید کہتے ہیں!

عظیم بہادروں کو خوش آمدید کہتے ہیں!

تحریر:عبدالرحیم ثاقب

آخر کار وہ چھ قیدی رہنما جن سے اشرف غنی پوری دنیا،امریکا اور یورپ کو ڈراتاتھا، قطر کی دارالحکومت دوحہ پہنچ ہی گئے-

مذکورہ چھ افراد پانچ ہزار قیدیوں کی فہرست میں سے وہ بہادر، نڈر اور قوم کے ہیرو ہیں، جن میں سے ہرایک صلیبی استعماری ٹولہ کے ہاں بیرونی ظالموں اور غاصبوں کے قتل کے جرم میں!!! کابل انتظامیہ کی”اسلامی جمہوری ریاست”کی عدالتوں سے پھانسی کے سزا یافتہ ہوچکا تھا-

یہ بہادر حضرات پانچ ہزار کے مجموعہ میں وہ شخصیات ہیں جن کی رہائی کے بارے میں کابل انتظامیہ نے اپنا بلایا ہوا لویہ جرگہ اور اس کافیصلہ بھی پس پشت ڈالا- جن کے بارے میں کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے نیویارک ٹائمز جریدے میں لکھا کہ ان کی رہائی واشنگٹن،لندن اور پیرس کے لیے سراسر خطرہ ہے-

یہ مردانِ حریت کچھ عرصہ ایک معین مدت تک قطر میں رہیں گے اور اس کے بعد اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کافیصلہ کرینگے-

کابل انتظامیہ کاسربراہ اشرف غنی نے بین الاففانی مذاکرات کو مؤخر کرنے کے لیے ان سپوتوں کی رہائی میں ہر ممکن حد تک رکاوٹ کھڑی کی-مگر اس کے مزاج کے برعکس یہی ابطال دین مملکت قطر کے خصوصی طیارے سے قطر پہنچائے گئے-

مردانگی کے یہ پیکر غازی ایوب خان اور غازی اکبر خان کے نامور وارثین کی طرح ہر ایک اس لائق ہے کہ ان کانام وطن کے استقلال اور آزادی میں بطور افتخار واعزاز ثبت کیاجائے-

جی ہاں! یہ بہادر وطن کے دفاع اور بقاء کی ضمانت میں وہ ہیروز ہیں، جنہوں نے اپنے جہادی کارناموں سے ہماری تاریخ اور ہمارے وطن کو شرف بخشاہیں-  ان کے یہ کارنامے ملک کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے-

ان کو ہم اس عظیم افتخار پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ انہیں خوش آمدید کہتے ہیں- رب جلیل سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی آزادی کو ملک وملت اور تمام قیدیوں کی آزادی اور ملک میں دائمی امن اور خوشحال زندگی کاپیش خیمہ بنائے-

اللهم آمین .

Related posts